صفی لکھنوی کی وفات
25, June 1950
سید علی نقی نام۔ صفی تخلص، تاریخ ولادت ۳ جنوری ۱۸۶۲ء مطابق یکم رجب ۱۲۷۸ھ اور قدیم وطن لکھنو ہے۔ والد مولوی سید فضل حسین آخری تاجدار اودھ کے بھائی شاہزادہ سلیمان قدر بہادر کے معتمد تھے۔ ۵ سال کی عمر میں مکتب نشیں ہوئے اور مولوی نجم الدین کاکوروی سے فارسی اور مولوی احمد علی محمد آبادی سے درسیات عربی و فارسی کی تکمیل کی ۔ فن طب کی تعلیم حکیم سید باقر حسین صاحب سے ہوئی۔ امین آباد نائٹ اسکول اور کیننگ کالجیٹ اسکول لکھنو میں انٹرنس تک انگریزی پڑھی ۔ اس کے بعد لال اسکول اور برانچ اسکول متعلقہ کیننگ کالج لکھنو میں انگریزی پڑھانے پر مامور ہو گئے۔ جون ۱۸۸۳ء سے اودھ کے محکمہ دیوانی میں مستقل ملازمت کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور سلطان پور رائے بریلی وغیرہ مقامات میں مختلف عہدوں پر رہ کر ۱۹۲۲ء میں سرکاری ملازمت سے پنشن حاصل کی۔ کلام پڑھنے کا طریقہ خاص رہاہے۔ جو تحت اللفظ اور ترنم کے بین بین ہے۔ انجمن بہار ادب کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی مثنوی تنظیم الحیات پر ہندستانی اکاڈمی الہ آباد نے بحیثیت اعلیٰ نمونہ شاعری کے پانچ سو کی رقم بطور صلہ مرحمت کی ہے۔ قومی نظموں کے اعتراف میں پبلک نے انہیں’’ لسان القوم‘‘ کا لقب دیا ہے اور کئی بار طلائی تمغے پیش کئے گئے ہیں۔ فارسی کلام کا خاصا مجموعہ ہے اور کافی تعداد میں متفرق نظمیں اور ایک دیوان طبع ہو چکا ہے۔صفی لکھنوی کی وفات 15 جون 1950 ء میں ہوئی۔
پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے
مرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے
*
خود زباں دانی میں وہ اھل۔ زباں سے کم نہیں
جو زمیں شعر ہے ، وہ آسماں سے کم نہیں
*
آبِ حیات
دیکھئے کیوں،کوئی تربت ہوگی
دیکھ کر اور ندامت ہو گی
نزع کا وقت ہے بیٹھے رہیئے
آپ اُٹھے تو قیامت ہو گی
زنگ آلود اِک آئینہ سہی
دل کی آخر کوئی قیمت ہوگی
خواب دیکھا ہے کہ مرمر کے جئے
کسی کافر سے محبت ہو گی
نہ تو واعظ کو خبر ہے نہ مجھے
کسے دوزخ ، کسے جنت ہو گی
دل میں رکھئے تو کدورت کہلائے
مُنہ سے نکلے تو شکایت ہو گی
زہر ہے زہر صفی آبِ حیات
زندگی بڑھ کے مصیبت ہوگی
*
غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا
قفس لے اڑوں میں، ہوا اب جو سنکے
مدد اتنی اے بال و پرواز دینا
نہ خاموش رہنا مرے ہم صفیرو
جب آواز دوں ، تم بھی آواز دینا
کوئی سیکھ لے دل کی بے تابیوں کو
ہر انجام میں رنگِ آغاز دینا
دلیلِ گراں باریِ سنگِ غم سے
صفی ٹوٹ کر دل کا آواز دینا
*
تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کی
چھُری تھی میرے لئے جو شکن تھی بستر کی
ہوا گمان اسی شوخ سست پیماں کا
اگر ہو اسے بھی زنجیر ہل گئی درکی
اسی طرف ترے قرباں، نگاہ شرم آلود
مجھی پہ تیز ہو یہ باڑھ کند خنجر کی
سجائی حضرت ِ واعظ نے کس تکلف سے
متاعِ زہد و ورع سیڑھیوں پہ منبرکی
عبور بحرِ حقیقت سے جب نہیں ممکن
کنارے بیٹھ کے لہریں گنوں سمندر کی
سُنے گا کون ، سنی جائے گی صفی کس سے
تمہاری رام کہانی یہ زندگی بھر کی
*
کوئی آباد منزل، ہم جو ویراں دیکھ لیتے ہیں
بحسرت سو چرخِ فتنہ ساماں دیکھ لیتے ہیں
نظر حسن آشنا ٹھہری ، وہ خلوت ہو کہ جلوت ہو
جب آنکھیں بند کیں، تصویرِ جاناں دیکھ لیتے ہیں
وہ خود سر سے قدم تک ڈوب جاتے ہیں پسینے میں
بھری محفل میں جو ان کو پشیماں دیکھ لیتے ہیں
ٹپک پڑتے ہیں شبنم کی طرح بے اختیار آنسو
چمن میں جب کبھی گلہائے خنداں دیکھ لیتے ہیں
اسیران ستم کے پاسبانوں پر ہیں تاکیدیں
بدلتے ہیں جو پہرا قفل زنداں دیکھ لیتے ہیں
صفی رہتے ہیں جان و دل فدا کرنے پر آمادہ
مگر اُس وقت جب انساں کو انساں دیکھ لیتے ہیں
*
دردِ آغاز محبت کا اب انجام نہیں
زندگی کیا ہے، اگر موت کا پیغام نہیں
کیجئے غور تو ہر لذت دنیا ہے فریب
کون دانہ ہے یہاں پر جو تہِ دام نہیں
ہے تنزل کہ زمانے ترقی کی ہےکفر
وہ کفر اب اسلام وہ اسلام نہیں
کون آزاد نہیں حلقہ بگوشوں میں ترے
نقش ، کس دل کے نگینے پہ ترا نام نہیں
نارسیدہ ہے، ترا میوہ جنت ، زاہد
پختہ مغزوں کو تلاش ثمر خام نہیں
یہی جنت ہے جو حاصل ہو سکونِ خاطر
اور دوزخ یہی دنیا اگر آرام نہیں
شعر گوئی کے لئے بس وہی موزوں ہے صفی
جس کو جز فکر سخن اور کوئی کام نہیں
*
طالب ِ دید پہ آنچ آئے یہ منظور نہیں
دل میں ہے ورنہ وہ بجلی جو سرِ طور نہیں
دل سے نزدیک ہیں آنکھوں سے بھی کچھ دور نہیں
مگر اس پہ بھی ملاقات انہیں منظور نہیں
ہم کو پروانہ و بلبل کی رقابت سے غرض
گل میں وہ رنگ نہیں، شمع میں وہ نور نہیں
خلوت دل نہ سہی، کوچہ شہ رگ ہی سہی
پاس رہ کر نہ سہی آپ سے کچھ دور نہیں
ذوق پابند وفا کیوں رہے محروم جفا
عشق مجبور سہی حسن تو مجبور نہیں
تابشِ حسن نے جب ڈال دئیے ہوں پردے
ممکن آنکھوں سے علاج دل رنجور نہیں
لائو میخانے ہی میں کاٹ نہ دیں اتنی رات
مسجدیں ہو گئیں معمور، یہ معمور نہیں
چھیڑ دے ساز انا الحق جو دوبارہ سرِ دار
بزم رنداں میں اب ایسا کوئی منصور نہیں
کبھی، کیسے ہو صفی، پوچھ تو لیتا کوئی
دل وہی کامگر اس شہر میں دستور نہیں

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔