اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

شہر کے ایک پُرہجوم بازار میں زاہد کی چھوٹی سی دکان…


شہر کے ایک پُرہجوم بازار میں زاہد کی چھوٹی سی دکان تھی۔ زاہد اپنی دیانتداری اور نرم گوئی کی وجہ سے جانا جاتا تھا، لیکن کامیابی اکثر حسد کو جنم دیتی ہے۔ پڑوس کے ایک بااثر دکاندار نے زاہد پر ایک جھوٹا الزام لگایا اور پورے بازار میں اسے رسوا کرنے کی مہم شروع کر دی تاکہ زاہد کی ساکھ خراب ہو جائے۔
زاہد کے جوان بیٹے، عاصم سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ ایک دن جب عاصم غصے میں بپھرا ہوا جوابی کارروائی کے لیے نکلنے لگا، تو زاہد نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور اسے کرسی پر بٹھا دیا۔
"بیٹا! رک جاؤ،” زاہد نے بڑے سکون سے کہا۔
عاصم تڑپ کر بولا، "بابا! وہ لوگ سرِ عام آپ کی توہین کر رہے ہیں، جھوٹی کہانیاں پھیلا رہے ہیں اور آپ مجھے خاموش رہنے کا کہہ رہے ہیں؟ کیا ہم بزدل ہیں؟”
زاہد کے چہرے پر ایک ملکوتی مسکراہٹ آئی۔ اس نے کہا:

"بیٹا، مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا تھا تو میرے بابا نے مجھے ایک بات سمجھائی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب کسی کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے، تو ملزم خود نہیں بولتا، بلکہ اس کا **وکیل** بولتا ہے۔ وہ خاموشی سے کھڑا دیکھتا ہے کیونکہ اسے اپنے وکیل کی قابلیت پر بھروسہ ہوتا ہے۔”
>
عاصم الجھن میں پڑ گیا، "لیکن بابا، یہاں کون سی عدالت ہے اور ہمارا وکیل کہاں ہے؟”
زاہد نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور دھیمی آواز میں کہا:
"یہ دنیا ایک عدالت ہے عاصم، اور جب لوگ تم پر جھوٹے الزامات لگائیں، تمہیں پریشان کریں یا تمہارا حق ماریں، تو تم خاموش ہو جانا۔ اپنی زبان سے اپنی صفائیاں پیش نہ کرنا، کیونکہ جب بندہ خاموش ہوتا ہے تو وہ اپنا کیس کائنات کے سب سے بڑے وکیل کے سپرد کر دیتا ہے۔ اور ہمارا وکیل کون ہے؟”
زاہد کی آنکھوں میں نمی آگئی اور اس نے ورد کیا:
"حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ”
(ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔)
عاصم خاموش ہو گیا۔ اس دن کے بعد اس نے دیکھا کہ زاہد نے نہ تو کسی کو پلٹ کر جواب دیا اور نہ ہی کوئی وضاحت پیش کی۔ وہ بس اپنا کام کرتا رہا اور مسکراتا رہا۔ لوگ اسے پاگل سمجھتے کہ اتنا کچھ ہو رہا ہے اور یہ شخص چپ ہے۔
کچھ مہینے گزرے، اچانک اس بااثر دکاندار کا اپنا سارا کاروبار ایک قانونی پیچیدگی اور دھوکہ دہی کی وجہ سے بکھرنے لگا۔ وہ خود اپنے ہی بنے ہوئے جال میں پھنس گیا۔ بازار کے لوگوں کے سامنے سچائی خود بخود کھل کر آ گئی کہ اصل میں دیانتدار کون تھا اور فریبی کون۔
ایک شام، وہی شخص زاہد کی دکان پر سر جھکائے بیٹھا تھا اور معافی مانگ رہا تھا۔ عاصم دور کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ زاہد نے نہ صرف اسے معاف کیا بلکہ اسے پانی بھی پلایا۔
جب وہ شخص چلا گیا، تو زاہد نے عاصم کی طرف دیکھا اور کہا:
"دیکھا بیٹا؟ جب تم خاموش رہتے ہو، تو اللہ تمہاری طرف سے جواب دیتا ہے۔ انسان کا دفاع کمزور ہو سکتا ہے، لیکن جس کا وکیل ‘خالقِ کائنات’ ہو، اسے کبھی شکست نہیں ہوتی۔”
زندگی کے کٹھن موڑ پر جب لوگ آپ کو ذہنی اذیت دیں، تو اپنی صفائیوں میں وقت ضائع نہ کریں۔ بس اپنے رب کو اپنا وکیل بنا لیں، کیونکہ اس سے بہتر کار ساز کوئی نہیں۔