سُنا ہےیہ جب سے کہ وہ آرہے ہیں
دل و جاں دیوانے ہوئے جارہے ہیں
….
ساغر نظامی کا یوم وفات
(پیدائش: 21 دسمبر 1905ء- وفات: 27 فروری 1984ء)
ساغر نظامی کی وفات کی وجہ ہڈیوں کا کینسر تھا۔ ساغر کی وفات بروز سوموار 27 فروری 1984ء کو صبح نو بجے ہوئی۔ ان کی نماز جنازہ 28 فروری کو پڑھی گئی۔ ان کی تدفین سلطان جی میں خاندان لوہارو کی ہئرواڑ میں کی گئی۔ نواب الہی بخش خان اور مرزا غالب کا مزار بھی اسی احاطے میں موجود ہے۔
——
منتخب کلام
——
آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی
ایک چھلکتے ساغر میں مے بھی ہے مے خانہ بھی
——
سجدے مری جبیں کے نہیں اس قدر حقیر
کچھ تو سمجھ رہا ہوں ترے آستاں کو میں
——
تیرے نغموں سے ہے رگ رگ میں ترنم پیدا
عشرت روح ہے ظالم تری آواز نہیں
——
لاؤ اک سجدہ کروں عالم بد مستی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں
——
وہ مری خاک نشینی کے مزے کیا جانے
جو مری طرح تری راہ میں برباد نہیں
——
دل کی بربادیوں کا رونا کیا
ایسے کتنے ہی واقعات ہوئے
——
ڈھونڈھنے کو تجھے او میرے نہ ملنے والے
وہ چلا ہے جسے اپنا بھی پتا یاد نہیں
——
کافر گیسو والوں کی رات بسر یوں ہوتی ہے
حسن حفاظت کرتا ہے اور جوانی سوتی ہے
——
یہی صہبا یہی ساغر یہی پیمانہ ہے
چشم ساقی ہے کہ مے خانے کا مے خانہ ہے
——
خراماں خراماں معطر معطر
نسیم آ رہی ہے کہ وہ آ رہے ہیں
——
گل اپنے غنچے اپنے گلستاں اپنا بہار اپنی
گوارا کیوں چمن میں رہ کے ظلم باغباں کر لیں
——
تخلیق اندھیروں سے کئے ہم نے اجالے
ہر شب کو اک ایوان سحر ہم نے بنایا
——
سیلاب تبسم سے درمان جراحت کر
ٹکڑے دل بسمل کے آلودۂ خوں کب تک
——
نظر کرم کی فراوانیوں پہ پڑتی ہے
پھر اپنے دامن خاکی کو دیکھتا ہوں میں
——
حسن نے دست کرم کھینچ لیا ہے کیا خوب
اب مجھے بھی ہوس لذت آزار نہیں
——
وہ سوال لطف پر پتھر نہ برسائیں تو کیوں
ان کو پروائے شکست کاسۂ سائل نہیں
——
حیرت سے تک رہا ہے جہان وفا مجھے
تم نے بنا دیا ہے محبت میں کیا مجھے
——
آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی
ایک چھلکتے ساغر میں مے بھی ہے مے خانہ بھی
بے خودیٔ دل کا کیا کہنا سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں
ہستی سے مانوس بھی ہوں ہستی سے بیگانہ بھی
حسن نے تیرے دنیا میں کیسی آگ لگا دی ہے
برق بھی شعلہ برپا ہے رقص میں ہے پروانہ بھی
وسعت وحشت تنگ ہوئی بگڑا گھر دیوانوں کا
نجد کے اک سودائی نے لوٹ لیا ویرانہ بھی
آج محبت رسوا ہے ہاتھوں سے ہوشیاروں کے
عشق کی پہلی دنیا میں تھا کوئی دیوانہ بھی
دل کی دنیا ہلتی ہے روکو اپنی نظروں کو
کافر لوٹے لیتی ہیں آج تجلی خانہ بھی
گردش مست نگاہوں کی آخر وجد انگیز ہوئی
چکر میں ساغرؔ بھی ہے دور میں ہے پیمانہ بھی
——
حیرت سے تک رہا ہے جہان وفا مجھے
تم نے بنا دیا ہے محبت میں کیا مجھے
ہر منزل حیات سے گم کر گیا مجھے
مڑ مڑ کے راہ میں وہ ترا دیکھنا مجھے
کیف خودی نے موج کو کشتی بنا دیا
ہوش خدا ہے اب نہ غم ناخدا مجھے
ساقی بنے ہوئے ہیں وہ ساغر شب وصال
اس وقت کوئی مری قسم دیکھ جا مجھے
——
ہم آنکھوں سے بھی عرض تمنا نہیں کرتے
مبہم سا اشارہ بھی گوارا نہیں کرتے
حاصل ہے جنہیں دولت صد آبلہ پائی
وہ شکوۂ بے رنگئ صحرا نہیں کرتے
صد شکر کہ دل میں ابھی اک قطرۂ خوں ہے
ہم شکوۂ بے رنگئ دنیا نہیں کرتے
مقصود عبادت ہے فقط دید نہیں ہے
ہم پوجتے ہیں آپ کو دیکھا نہیں کرتے
کافی ہے ترا نقش قدم چاہے جہاں ہو
ہم پیروئ دیر و کلیسا نہیں کرتے
سجدہ بھی ہے منجملۂ اسباب نمائش
جو خود سے گزر جاتے ہیں سجدا نہیں کرتے
جن کو ہے تری ذات سے یک گونہ تعلق
وہ تیرے تغافل کی بھی پروا نہیں کرتے
یہ لمحۂ حاضر تو ہے کونین کا حاصل
ہم حال کو نذر غم فردا نہیں کرتے
——
سُنا ہےیہ جب سے کہ وہ آرہے ہیں
دل و جاں دیوانے ہوئے جارہے ہیں
معطّر ، معطّر، خراماں، خراماں
نسیم آرہی ہے کہ وہ آرہے ہیں
نگاہیں گلابی، ادائیں شرابی
بہکتے مچلتے چلے آرہے ہیں
فلک بن گیا میرا دوشِ تخیّل
سہارا لئے وہ چلے آرہے ہیں
نظر ان کے جلوؤں کے طوفاں میں گم ہے
ہجومِ نظر سے وہ گھبرا رہے ہیں
انہیں بڑ ھ کے کیا نذر دیں ہم الٰہی!
متاعِ دل و جاں پہ شرما رہے ہیں
کبھی لعل و گوہر، کبھی لالہ و گل
ابھی ہنس رہے تھے ابھی گارہے ہیں
کرم کی یہ مجبوریاں، اللہ اللہ،
نظر سے دلاسے دیئے جارہے ہیں
مری روح میں چھپ کے ہر وقت ساغر
وہ اک نغمہء جاوداں گارہے ہیں
——
دوستو درد پلاؤ کہ کڑی رات کٹے
مے میں کچھ اور ملاؤ کہ کڑی رات کٹے
آنسوؤں سے یہ کڑی رات نہیں کٹ سکتی
آج مے خانہ لنڈھاؤ کہ کڑی رات کٹے
نغمے بازار میں مہنگے ہیں تو کیا غم یارو
نوحے کو نغمہ بناؤ کہ کڑی رات کٹے
زیست اور موت اساطیر کہن ہیں یارو
نیا افسانہ سناؤ کہ کڑی رات کٹے
کوئی مشہود ہے اب اور نہ کوئی شاہد
اور اگر ہے تو دکھاؤ کہ کڑی رات کٹے
یہ بھی ایمان ہی کا دوسرا رخ ہے لوگو
کفر کو دین بناؤ کہ کڑی رات کٹے
یہ اندھیرا یہ سمندر یہ تلاطم آؤ
آؤ اور مجھ میں سماؤ کہ کڑی رات کٹے
……………………….
