#سلسلے_قرب_کے_جدائی_کے #از_نساء_احمد #قسط_نمبر_…
#سلسلے_قرب_کے_جدائی_کے
#از_نساء_احمد
#قسط_نمبر_27
#لاسٹ_پارٹ_2
پیار کا دعوا تو آپ کو بھی تھا مگر آج تک آپ نے بھی نھی کہا…
لڑکیاں ایسی باتیں کرتی اچھی لگتی ہیں…¿
اور جب آپ کو میں پسند ہی نھی تو کیوں کروں اظہار … سچ سچ بتائیں آپ مجھ سے پیار نھی کرتے نا…¿
نھی…
حبہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی…
حبہ میں آپ سے محبت نھی کرتا عشق کرتا ہوں مجھے آپ سے اسی لمحے عشق ہو گیا تھاجب آپ سب سے میرے لیے لڑ رہی تھیں مجھے آپ کی ایک ایک بات سے عشق ہے کہتا اس لیے نھی مجھے لگا آپ میرے دل کی ہر بات سمجھ جاتی ہیں… اپنے دل سے سارے وہم نکال دیں ارسہ کے بارے میں میں بس اتنا کہوں گا وہ ہر رشتے میں میرے لیے محترم ہے مگر وہ میری بیوی کی بہن ہے یہ سب سے قابل احترام بات ہے….
پیار کو اظہار کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے….
ٹھیک ہے میں وعدہ کرتا ہو ہر دن اظہار کروں گا…
ہمممم…
اذان نے جڑیبوٹیاں ایک طرف رکھیں اچھا تو مسز اذان آپ میرے ساتھ ایک رومنٹک ڈیٹ پر چلیں گئیں….¿
حبہ پورے دل سے مسکرائی محبت اس پہ مہربان تھی…
ہاں ضرور….
مگر نھی پہلے مجھے اظہار محبت تو کرنے دیں….
حبہ….
ہمممم
آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں بہت اہمیت ہے آپ کی میری زندگی میں اذان کی ذہین آنکھوں میں اچانک شرارت ابھری….
حبہ میرا دل کرتا ہے آپ کو بھر بھر کے اپنے پیار کے انجیکشن لگاوں آپ کو محبت کی ڈرپ لگا کے ایک میجر سرجری کروں اور آپ کا دل نکال کے اپنے پاس رکھ لوں آپ کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں مجھے لگتا ہے ان کالی آندھیوں میں میں گم ہوجاوں گا میرا دل کرتا ہے میں بڑے بڑے سٹچیز لگا کے آپ کی آنکھیں سی دوں میں کہیں ڈوب ہی نا جاوں اذان کا ہاتھ حبہ کی آنکھوں تک گیا حبہ نے ڈر کے مارے چینخ ماری اور اٹھ کھڑی ہوئ یہ اظہار محبت کر رہے ہیں یا میرے پوسٹ مارٹم کی پلینگ…¿
ہاہاہا خودی کہا تھا اظہار محبت نھی
کرتے اب کر تو رہا ہوں ایک ڈاکٹر ہوں اظہار محبت بھی ڈاکٹرانا ہو گا….
نی میں رہی ایسے اظہار محبت سے آپ رہنے دیں پہلے والا سسٹم ٹھیک ہے….
ہاہاہا ڈر گی میری دبنگ بیوی….
مزاق کر رہا تھا اظہار محبت ایسا ہوا کرے گا روز کے تم اپنی قسمت پہ نازا ہوگی اذان نے بڑی خوبصورتی سے آپ سے تم کا سفر کا آغاز کیا….
ہاں اب کچھ نارمل ہے….
"” اللہ ہماری محبت کو سلامت رکھے
آمین…
ثم آمین””
———–
فاطمہ کے سسرال والے بھی پہنچ چکے تھےسب فاطمہ سے ملے فاطمہ بھی اچھے طریقے سے ان سے ملی زیان نے جو بھی کیا باقی سب اس کے ساتھ ٹھیک رہے تھے….
مگر زیادہ دیر تک ان سب کے ساتھ بیٹھ نھی سکتی تھی امی کو بتا کے اپنی چادر لے کے باہر آگی….
شام کے ساۓ گہرے ہورہے تھے ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی عجیب سی یاسیت چھائی ہوئی تھی فاطمہ چلتی چلتی گھر سے کافی دور آگی تھی طبیعت پہلے ہی خراب تھی ایک جگہ پہ تھک کے بیٹھی گی پاوں سوج گے تھے گھر میں تو زیادہ لیٹی ہی رہتی تھی مگر اب ادھر جب سے آئی تھی آرام نھی کیا تھا خرم کے کہنے کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس بھی نھی گی تھی سب اس کا بہت خیال رکھتے تھے مگر ادھر آ کے اس کی طبیعت پھر خراب ہورہی تھی….
ہر طرف اداسی چھائ ہوئی تھی فاطمہ کو ایسے لگ رہا تھا درخت بھی اسی کے بارے میں سرگوشیاں کر رہے ہیں….
اسے سامنے سڑک سے جیپ اترتی نظر آئی….
فاطمہ کا دل دھڑکا یہ تو زیان کی جیپ ہے…
اففففف میں کیوں آگی ادھر کاش میں لاہور ہی رہتی مجھے اس شخص کا سامنا نھی کرنا کبھی بھی نھی کرنا گھٹنوں کے گرد بازوں لپیٹ کے بیٹھ گی ابھی پاوں کی سوزش کی وجہ سے اٹھا بھی نھی جارہا تھا ایک سائڈ پہ بیٹھی ہوئی تھی زیان نھی دیکھ سکے گا ادھر ہی بیٹھی رہتی ہوں اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں….
یہ کس موڑ پہ لے آۓ ہو مجھے زیان ملک تم بہت برے ہو تم نے میرا سب کچھ برباد کر دیا ظالم انسان میں تو تمھاری محبت تھی نا زرا ترس نا آیا….
خوب رو کے بآواز بلند زیان کو سب سنا کے اس کا دل ہلکا ہو گیا تھا سارہ ڈیپریشن چھو ہو گیا….
آنکھیں صاف کیں دوپٹے سے چہرہ صاف کیا… بہت دیر ہوگی اب گھر چلوں….
اٹھنے کی کوشش کی تو پاوں نے ساتھ نا دیا ایک ہی زاویے سے مسسل بیٹھے رہنے سے پاوں سن ہو گے تھے ایک دم اٹھنے سے لڑکھڑائ وہ یقیناء گر جاتی اگر زیان اسے تھام نا لیتا….
تم تم یہاں کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے….
میں نے سڑکے سے اترتے ہوۓ دیکھا تو سوچا تمھارہ حال پوچھ لوں پاس آیا تو میرا ہی ذکر خیر تھا تو چپ چاپ کھڑا رہا…..
ادھر کیوں بیٹھی ہو اٹھو گھر چلیں وہ گھر ہی جارہی تھی آرام سے بیٹھ گی آپ جائیں میرا جب دل کیا آجاوں گی….
تمھاری طبیعت ٹھیک نھی ہے کیسے آو گی میں لے چلتا ہوں….¿
ہنننن طبیعت خراب ہے… میری طبیعت پہلی بار خراب نھی ہوئی مجھے آپ کے سہارے کی ضرورت نھی ہےاللہ سلامت رکھے دو دو بھائی ہیں ابھی عبداللہء بھائی آجائیں گے….
زیان نے بہت بار کہا مگر اب فاطمہ نے جواب دینا ضروری نا سمجھا….
میں چلتا ہوں مگر اس ٹائم ادھر جن بھوت بھی ہوتے ہیں زیان واپس مڑا میں نے نے اتنے سال ایک دیو کی قید میں گزارے ہیں یہ جن میرا کیا بیگاڑ لیں گے….. اس کی آنکھیں پھر سے بھیگنے لگیں…..
زیان واپس مڑا اور اس کے بلکل سامنے بیٹھ گیا فاطمہ نے غصے سے منہ پھیر لیا….فاطمہ پلیز بس تھوڑی دیر کے لیے میری بات سن لو…..
مجھے کچھ نھی سننا اس نے پھر اٹھنے کی کوشش کی اور اس بار کامیاب بھی ہو گی….
عبداللہ کو اس نے نھی بلایا تھا مگر وہ واقعی آگیا تھا فاطمہ کدھر تھی تم یار زینب کب سے پریشان ہو رہی ہے..
.
اسکی بھیگی آنکھیں دیکھ کے طیش میں آگیا فاطمہ کیا کہاں ہے زیان نے تمھیں یہ پریشان کر رہا تھا تمھیں….¿
نھی بھائی گھر چلیں….
زیان اٹھ کے ان کے پاس آگیا فاطمہ پلیز تھوڑی دیر رک جاو عبداللہ پلیز فاطمہ سے کہو کچھ دیر کے لیے میری بات سن لے….
نھیییی کوئی ضرورت نھی ہے تم اپنی باتیں اپنے پاس رکھو چلو فاطمہ , خرم بھی آگیا تو وہ عبداللہ کو لے گیا زیان فاطمہ کو لے آنا گھر تمھارے پاس صرف پانچ منٹ ہیں اور اس بار صرف وہی ہو گا جو فاطمہ چاھے گی….
فاطمہ بڑی مشکل سے ضبط کیے کھڑی تھی…. زیان نے اسے پکڑ کے ایک بڑے سے پتھر پہ بٹھایا اور خود اس کے سامنے نیچے بیٹھ گیا فاطمہ, خرم نے مجھے پانچ منٹ دیے ہیں اور میرے پاس بولنے کو ایک لفظ بھی نھی…
عجیب ماحول بن گیا تھا
دور ٹریکٹر پر میوزک لگا ہو تھا
"” سٹیندے نہیں اے گل دا ہار ہوندن”‘”
"” وے کملا یار تاں وت یار ہوندن "”
"”وے دنیا دے وی بارے کج ڈسوہا "”
"”ایتھاں اج کل سارے سردار ہوندن "”
فاطمہ پلیز میری مشکل آسان کر دو… مجھے معاف کر دو ہر چیز کے لیے ہر بات کے لیے….
پانچ منٹ ہوگے ہیں گھر چلیں….
فاطمہ…..
فاطمہ پھٹ پڑی معاف کر دوں…¿ کس کس بات کی معافی مانگوں گے زیان ملک….
میں تمھیں کبھی معاف نھی کروں گی کبھی نھی….
فاطمہ اگر میں ظالم تھا تم بھی تو مظلوم بنی رہی کیوں نھی روکا مجھے میں ہمیشہ تمھیں تنگ کرتا تھا کہ کبھی تو تم بولو گی میری غلطیوں کے لیے ٹوکو گی….تم ہمیشہ چپ رہی….کبھی تو شکوہ کرتی ناراضگی دیکھاتی….
ملک صاحب آپ نے ہمارے درمیان شکووں شکایتوں والا رشتہ بنایا کب تھا…¿ منہ دیکھائی میں ملنے والا تھپڑ میری ساری خوداعتمادی میری عزت نفس سب مٹا گیا تھا…..
شرمندگی ایسی تھی کہ زیان سے نظریں نہ اٹھائی گئیں……
میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں
معاف کر دو
معاف کر دوں….پہلے اس پیار نے نفسیاتی مریض بنایا ہے اب مینٹل ہاسپٹل پہنچاۓ گا…
ہر غلطی کا ازالہ کرنا چاھتا ہوں تم جیسا کہو گی میں ویسا ہی کروں گا….
تو بس ٹھیک ہے گیو می ڈائیورس….
زیان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ایسے مت کہو میرا دل پھٹ جاۓ گا میں پیار کرتا ہوں ہہمیشہ اپنے آپ میں رہنے والا انتہائی خود پسند انسان جو کسی کو خاطر میں نھی لاتا آج اس کے قدموں میں بیٹھا محبت کی بھیک مانگ رہا تھا….
مگر جو خود تہی دامن تھی اس کو کیا دیتی….
رک جاو فاطمہ
مت جاو میں مر جاوں گا….
تو مر جاو….
فاطمہ نے قدم آگے کو بڑھا دیے مجھے اب پیچھے مڑ کے نھی دیکھنا کبھی نھی… لوٹ کے نھی آنا ہر گز نھی….
فاطمہ…
. زیانں یک دم چلایا…..
زیان کے ہاتھ میں پسٹل تھا رک جاو فاطمہ ورنہ….
ورنہ کیا گولی مارو گے اوکے مارو کم آن ہری اپ….
فاطمہ مت جاو….
میں جاوں گی جو کرنا ہے کرو….
میں اپنی محبت آزما چکا اچھی تھی یا بری تھی اب تمھاری محبت کی آزمائش ہے….
زیان نے پسٹل اپنی کنپٹی پہ رکھا…..
فاطمہ کے ہوش اڑ گے اس کے اردگرد زمین گھومنے لگی…
اس سے پہلے گرتی زیان نے بھاگ کے اسے پکڑا ….
فاطمہ….. فاطمہ تم ٹھیک ہو نہ…¿
آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں آئی ہیٹ یو آئی ہیٹ یو بہت برے ہو زیان…
زیان آپ سوسائٹ کرنے لگے تھے…¿
اللہ کو ناراض کرنے لگے تھے…¿
میرے لیے…¿
ایک عورت کے لیے اپنی آخرت برباد کرنے لگے تھے…¿
کیا جواب دیتے آپ اللہ کو…¿
اور آپ کے پیرنٹس…
اچھا رووں تو نہ خبردار ہاتھ مت لگانا مجھے گھٹیا انسان اتنا بڑا گناہ کرنے لگے تھے…
اچھا اب تو معاف کر دو…
معاف…..¿
پہلے اٹھ کے سب کو حساب تو دو…
اففففففف معاف کر دو فاطمہ معاف
کر دو….
آپ الٹا مجھ پہ غصہ کر رہے ہیں….¿
میں اب کچھ نھی بولوں گا….
میں گھر جارہی ہوں….
اور اس حرکت کے بعد تو مر کر بھی معاف نھی کروں گی….
تو اپنے ہاتھوں سے مجھے مار دو….
فاطمہ کا صبر کا پیمانہ چھلک پڑا تھا آنسوں پلکوں کی باڑ توڑ کے پورے چہرے پہ پھیل چکے تھے….
زیان ملک یہ طے ہے تم کبھی کوئی خوشی نھی دے سکتے سراپا درد ہو اور بس درد ہی بانٹتے ہو….
زیان نے ہار مان لی پسٹل فاطمہ کے ہاتھ پہ رکھا نکلی ہے ارسلان نے ابھی فون کیا تھا کہ ماموں لے کے آنا….
فاطمہ کا غصے کے مارے چہرا لال ہو گیا بس پھر پسٹل تھا اور زیان تھا خرم اور عبداللہ جو انھیں لینے آرہے تھے سامنے کا منظر دیکھ کے ٹھٹکے بھاگے بھاگے پہنچے فاطمہ فاطمہ چھوڑو پیچھے ہٹو پاگل ہو گی ہو….
فاطمہ کا چہرہ آنسوں سے تر تھا آج چھوڑ دیں مجھے یہ شخص آج میرے ہاتھوں قتل ہو جاۓ گا زیان اپنی ہنسی روک رہا تھا خرم دیکھ لو یہ حال کرتی ہے میرا تمھاری بہن میرا سر پھاڑ دیا…
اس کے پاس پسٹل کہا سے آئی عبداللہ حیران تھا…
عبداللہ بھائی پلاسٹک کی ہے اس کا ڈروا دے کہ مجھے منا لیا میں نے ابھی نھی ماننا تھا….
اوووووو میری گڑیا چپ کر جاو تو تم اس گدھے سے پھر ناراض ہو جاو….
ارے یار یہ کیسا مشورہ ہے بھائی میرے….
چلو اچھا ہوا ناراضگی ختم ہوئی چلو اب گھر..
اللہ ہماری محبت کو سلامت رکھے آمین ثم آمین….
زیان کی سرگوشی پہ فاطمہ مسکرائی….
عبداللہ تم لوگ جاو میں اور فاطمہ تھوڑی دیر تک آتے ہیں
اوکے یہ ٹارچ پکڑ لو اندھیرا ہو رہا ہے….
فاطمہ میں بہت برا ہوں نہ…¿
جی بہت برے….
مگر اب نھی رہوں گا میرا یقین کرو اب تمھیں اچھا بن کے دیکھاوں گا میں قسم کھاتا ہوں….
قسم مت کھاۓ مجھے پتہ ہے آپ قول کے پکے ہیں جو کہتے ہیں ضرور کرتے ہیں.ہم اب ہمیشہ ساتھ ہی رہے گے بہت رہ لیا الگ الگ….
میں نے بہت پہلے لاہور میں گھر لے لیا تھا اب ادھر ہی رہے گے جلد ہی میں اپنا آفس لاہور میں ہی سیٹ کر لوں گا….
جی ٹھیک ہے…
تم نے شاپنگ کی شادی کی…¿
جی کر لی تھی….
مگر میں تمھارے لیے جو کپڑے لایا ہوں وہ پہننا….
آپ کو یقین تھا کہ میں مان جاوں گی…¿
ہاں…
کیسے..¿
کیونکہ مجھے پتہ ہے تم بھی مجھ سے پیار کرتی ہو…
ہمممم…..
ہمارہ بچہ بہت قسمت والا ہے اس کے دنیا میں آنے سے پہلےطہی اس کے ماں باپ ایک ہو گے ہیں….
———
ولیمے کے انتطامات بہت زبردست کیے گے تھے…
بےشمار کھانوں کے ساتھ دودھ والا حلوہ چکوالبکی مشہور ڈش بہت مزے کا تھا….
فریال نے بھی خوب پلیٹ بھر کے کھایا…
آیان کے گھورنے پہ بولی اب کھانا بھی نہ کھاوں…¿
نھی نھی کھاو اور لا کہ دوں آیان نے دانت پیسے….
جیلس ہورہے ہو…¿
ہاں ہو رہا ہوں بجاۓ اس کے کہ تم مجھے ٹائم دو تمھارہ سارہ دھیان حلوے پہ ہے….
اچھا چلو چھوڑ دیا سب اب ٹھیک ہے…¿
ہاں کچھ بہتر ہے آیان. مسکرایا…
ہمممم آیان کی ہنسی میں فریال کی ہنسی بھی شامل ہو گی ہر شخص نے انھیں دل سے دعا دی
عبداللہ آپ لوگ شکار پہ کب جائیں گے زینب نے چاول کھاتے کھاتے پوچھا…
ابھی یہ تو پورا کھا لو اگلے کھانے کی فکر لگ گی…¿
ارے نھی میں تو جسٹ فور فن پوچھ رہی تھی….اور آپ بھی کھائیں نا کہ خالی میرے کھانے پہ ہی نظر رکھنی ہے….,¿
تم پہ نظر نہ رکھوں تو پھر کس پر رکھوں…¿
مجھ پر رکھیں میرے کھانے پر نھی….
ہاہاہا تو تم کونسا چھوڑ کہ بیٹھی ہو….
چھوڑ دوں….¿
زینو مزاق کر رہا ہوں یار…
ہممممم
لو یو…
لو یو ٹو تھری فور بلکہ ہنڈرڈ تھوزنڈ..
"” اللہ ہماری محبت کو سلامت رکھے
آمین…
تم آمین….””
———-
ولیمہ ہو گیا تھا اور مرد حضرات شکار سے ابھی ابھی ہو کہ آۓ تھے پولیس کا چھاپہ پڑا تھا اور یہ لوگ بھاگے تھے کہ کہیں شکار کے چکروں میں پکڑے ہی نا جائیں….
خواتین رت جگے کا سارہ انتظام کر کے بیٹھی ہوئیں تھیں…
تیتر بٹیر اور ساۓ کی جگہ دیسی مرغے کہ باربی کیو کیے گے…
ایک ایک چہرہ مطمئن تھا خوشی ان کے چہروں سے عیاں تھی….
بڑوں نے ان سب کی خوشیوں کی دعا مانگی….
"”اللہ ہماری محبتیں سلامت رکھے….
آمین آمین آمین آمین آمین
ثم آمین…..””
There are no sad endings….
For those who trust on Allah….
……The End…..