#سلسلے_قرب_کے_جدائی_کے
#از_نساء_احمد
#قسط_نمبر_15
آیان اپنے چاچو کے بچوں کے ساتھ چکوال سیلون گیا تھا بال اور داڑھی تھوڑی سیٹ کروانی تھی کل مہندی تھی تو بس آج کا ہی دن تھا اس کے بعد باہر نھی نکل سکتا تھا….
ایک آیان پھر وسیم ندیم اور یاسر چاروں تھے…
اماں ہمیں تھوڑی دیر یو جاے گی انتظار نا کجیے گا کچھ چیزیں بھی لینی ہیں بازار سے….
ٹھیک ہے پتر… دن کو بارہ بجے گے تھے شام ہو گی تھی مگر ان لڑکوں کا کوئی اتہ پتہ نھی اللہ خیر کرے آیان کی امی کو اسکی فکر ہو رہی تھی رابعہ تو پریشان نا ہو وسیم بتا کے گیا تھا دیر ہو جاے گی وہ تو ٹھیک ہے بھابھی پر چھ بج رہے ہیں بچے ابھی تک نھی آے….
آجاے گے تم پریشان نا ہو…..
آٹھ , دس اور پھر گیارہ بج گے اب تو گھر کے مردوں کو بھی فکر لگ گی مہمان بھی سب دلہے کا پوچھ رہے تھے…. فون بھی نھی لگ رہے تھے… اتنے میں دور سے کار کا ہارن بجا سب کی جان میں جان آئی….
مگر یہ کیا یہ تو تیار ہونے گے تھے شادی کی تیاری کر رہے تھے….
بکھرے بال مٹی سے اٹے ہاتھ پاوں گلے کپڑے لڑکھڑاتے قدم کچھ تو ہوا ہے….
آیان, آیان کدھر ہے وہ جو ضبط کیے کھڑے تھے باپ اور چاچو کے گلے لگ کے رو پڑے….
یا اللہ انھیں کیا ہوا ہے ندیم کیا ہو ہے پتر …..¿
آیان کدھر ہے….¿
ہم لوگ ڈیم گے تھے آیان پانی میں گر گیا ہم نے بہت ڈھونڈہ پر نھی ملا…..
چاچو نے انھیں پرے دھکیلا یہ کیا بکواس کر رہے ہو ڈیم کون سے ڈیم… ¿ تمھارہ ڈیم پر کیا کام تھا تم لوگ تو چکوال گے تھے نا….¿ کدھر ہے میرا بیٹا جلدی بتاو چاچو ایک دم چلائے تھے سب اکٹھے ہو گے تھے کچھ دیر پہلے جدھر خوشیاں منائی جا رہی تھیں قہرام مچ گیا تھا….
کوٹ راجا ڈیم ہم لوگ نھی جا رہے تھے آیان زبردستی لے کیا گیا کہ تھوڑا گھومے گے اور فشنگ کریں گے 15¹
ہم لوگ کنارے پر ہی تھے پتہ نھی کیسے اس کا پیر مڑ گیا اور وہ اندر گر گیا ہم نے بہت ڈھونڈا نھی ملا یاسر کے ابو نے اسے کھینچ کے تھپڑ مارہ شرم نھی آتی بھائی کو اکیلے چھوڑ کے گھر آگے ہو خود بھی ادھر ہی ڈوب جاتے…..پولیس موبائلز ایمبولنسز کے سائرنز سے فضا گونج اٹھی تھی لوگ گھروں سے باہر نکل آئے تھے مسجدوں میں اعلان ہو گے کوٹ راجا ڈیم بلکل جنگل میں تھا جدھر لائٹ کا کوئی انتظام نھی تھا لوگ گھروں سے لائٹیں لے کہ آئے تھے اندھیرے میں ڈوبا ڈیم اس وقت روشنی میں نہا گیا تھا پولیس کے ساتھ اتنے غوطہ خور نھی تھے جتنے مقامی لوگ چھلانگ چکے تھے….
دن کی روشنی نکل آئی تھی مگر آیان کا کچھ پتہ نا چل سکا ملک صاحب یہ اتنا بھی بڑا ڈیم نھی ہے کہ ایک انسان کا پتا نا چل سکے آپ ہمیں اجازت دیں آپ کے بھتیجوں سے تھوڑی بہت پوچھ گچھ کر سکے….
انسپیکٹر صاحب کیسی باتیں کر رہے ہیں آیان اپنے بھائیوں کے ساتھ تھا حالت دیکھے آپ انکی….
آپ پلیز میرے بیٹے کو ڈھونڈ دیں ایک رات میں ہی ملک عنصر کے کندھے جھک گیا تھے اکلوتے بیٹے کا کچھ پتا نھی تھا…
ملک صاحب آپ گھر جائیں اپنی فیملی کو لے کے ہم باڈی کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کرے گے جیسے ہی کوئی اطلاع ملتی ہے آپ کو انفارم کر دیں گے…
ملک صاحب کتنی ہی دیر تک کچھ بول ہی نا سکے باڈی….¿ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ میرے بیٹے کی آج مہندی ہے اور آپ….
انسپیکٹر صاحب نے ملک صاحب کے کندھے پہ ہاتھ رکھا ملک صاحب آپ خود سیانے ہیں اتنے گھنٹوں سے آپ کے بیٹے کا کچھ نھی پتہ زندہ ملنے کے چانسسز تو صفر ہیں آپ حوصلہ کریں اور فیملی کو سمبھالے…..
ملک صاحب نے اردگرد نظریں دوڑائی ان کے بھائی لوگوں پہ چلا رہے تھے جلدی کرو خدا کا واسطہ ہے جلدی کرو…. ان کے بھتیجے رو رہے تھے….
15²
اور انکے ابا تو بس خاموش بیٹھے سب دیکھ رہے تھے….
انکا سارہ دبدبہ غصہ سب ختم ہوگیا تھا…
چلیں ابا گھر چلیں وسیم چلو سب کو گاڑی میں بٹھاو…
ملک نذیر نے چونک کے اپنے بیٹے کو دیکھا کدھر چلیں… ¿
گھر ضبط کی انتہاء تھی….
اور آیان… ¿
وہ خودی آجاے گا…
ملک نذیر رو پڑے تھے وہ نھی آئے گا عنصر وہ نھی آئے گا….
ابا آپ چلیں….
گھر کی عورتیں دروازے پہ ہی کھڑی تھیں….
آگیا آیان…. ¿ عنصر آیان کدھر ہے…¿ آپ اکیلے کیوں آگے رابعہ حوصلہ کرو آجائے گا اماں کدھر ہیں اندر بیٹھی اپنے پوتے کی راہ تک رہی ہیں…..
لاہور سے بھی سب پہنچ چکے تھے خرم لوگ سیدھے ڈیم پہ ہی گے تھے…
ارسہ اور زینب کا رو رو کے برا حال تھا…
آنٹی آیان آگیا….¿
رابعہ بیگم جو خود کو تسلیاں دے رہی تھیں آنکھیں مل مل کے آنسوں پیچھے دیکھیل رہی تھی فریال کو گلے لگا کے رو پڑی تھیں ہاں میری بچی آیان آیان آجاے گا ضرور آئے گا تو بس دعا کر اس کے لیے وہ آجاے گا کمزور لہجے میں وہ فریال سے زیادہ خود کو تسلی دے رہی تھیں…
سلوٹوں سے بھرا بلیک ٹراوزر شرٹ اور آیان کی جیکٹ پیروں میں وہی پرانے سپلیپر آتے ہوئے بوا نے اسے چادر دی تھی وہ اردگرد لپیٹی ہوئی تھی فیشن بھولی ہوئی تھی نطریں گیٹ پہ تھیں… اماں یہ آیان کی دلہن ہے اماں نے بھی اسے ساتھ لپٹا کے پیار کیا…..
رات سے صبح اور صبح سے شام ہو گی تھی آیان کا کچھ پتہ نا چلا….
چکوال کے لوگ محبتوں میں گندھے ہوئے ہیں دکھ سکھ سب کے سانجھے ہوتے ہیں کسی کو کچھ بھی کہنے کی ضرورت نھی پڑتی لوگوں کو خود سے پتہ ہوتا ہے کس نے کیا کرنا ہے….
آنے والوں کا تانتا بندھ گیا تھا….
کرسیاں ہٹا کے دریاں بچھا دی گئیں ٹینٹ لگ گے ملک عنصر خالی خالی نظروں سے سب دیکھ رہے تھے..
.15³
پہاڑی علاقہ تھا زمین پتھریلی تھی…
گھر کے پیچھے چھوٹا سا قبرستان تھا چھ سات لوگوں نے مل کے قبر تیار کرلی….
مہندی پہ پکنے والی دیگے اب دور سے آئے لوگوں کو کھانا کھلابے کے کام آرہی تھیں گاوں کے کسی بھی آدمی نے پانی کا گھونٹ تک نھی پیا تھا….
سب تھک ہار کے لوٹ آئے تھے مگر خرم اور اذان ہمت نھی ہارے تھے ہم اپنے بھائی کو لیے بغیر نھی لوٹیں گے…
——–
جس باپ نے اپنے بیٹے کے سر پہ سہرا سجانا ہو اور اسے اپنے بیٹے کو کفن پہنانا بھی نصیب نا ہو اس کی دلی کیفیت کیسی ہو سکستی ہےا… ملک عنصر نماز پڑھ کے واپس آرہے تھے کہ ڈاکیے کو واپس جاتے دیکھا وہ چھٹیوں پہ تھا اسے آیان کا نھی پتہ تھا آپ واپس کیوں جا رہے ہیں اندر آئیے…
نھی ملک صاحب میں چلتا ہوں پھر کبھی آوں گا…
کوئی کام تھا سب ٹھیک ہے نا…¿ جی سب ٹھیک ہے میں رجسٹری دینے آیا تھاپر جس نے سائن کرنے ہیں وہی نھی رہا تو میں کیا کروں گا اندر آ کے….
کیسی رجسٹری….
وہ کچھ نا بولا بیگ سے خاکی لفافا نکال کے دیا اور چلا گیا….
آیان کو اسکالرشپ ملی تھی…..
یااللہ رحم کر مجھے حوصلہ دے ملک صاحب گھر جانے کی بجاے قبرستان آگے آج چوتھا دن تھا…..
———–
فریال پتہ نھی کیسے قبرستان والی سائیڈ پہ آگی قبر کھودی ہوئی دیکھی تو پاگل ہوگئی اسکی چینخیں سن کے سب بھاگے آئے خرم اور اذان سے فریال کو سمبھالنا مشکل ہو رہا تھا وہ خود بھی رو رہے تھے بند کرو اسے جلدی بند کرو آیان کو کچھ نھی ہوا ہاں کرتے ہیں تم اندر تو چلو نھی میرے سامنے کرو…. وسیم ندیم جلدی جلدی مٹی ڈالنے لگے کہ اب ویسے بھی اس سکی ضرورت نھی تھی رابعہ آج دل کھول کے روئیں تھیں ان کی ہر امید ختم ہوگی تھی یاللہ زندہ نھی تو میرے بچے کی میت ہی مل جاے اس کی قبر تو میرے پاس ہوگی…15⁴
سب جو ایک دوسرے سے چھپ چھپ کے روتے تھے آج سب کا ضبط جواب دے گیا تھا….گاوں کی عورتیں فریال کو بھی گلے لگا لگا کے روئیں…..ہر انسان اپنی جگہ دکھی تھا ہر کسی کو یہی لگتا کہ اس کا زیادہ نقصان ہوا ہے خرم اذان ارسہ ان لوگوں سے سب الگ الگ افسوس کر رہے تھے…
آیان تم نے اچھا نھی کیا میرے بھائی خرم نے دل ہی دل میں شکوہ کیا….
ایک ہفتے کی چھٹیاں جو شادی کے لیے لیں تھیں وہ اسے ڈھونذنے میں گزر گیں جتنے دن بھی رہ لیتے واپس تو جانا ہی تھا… ان کے ایگزامز ہونے والے تھے…
فریال تھوڑی دیر تک نکلنا ہے….
ارسہ کیا وہ واقعی اب نھی آئے گا… ¿
ارسہ اسے گلے لگا کے رو پڑی صبر کرو فریال…
نھی آتا صبر ارسہ میں کیا کروں صبر ہی تو نھی آتا….
چھوٹی ماما ٹھیک کہتی تھیں ارسہ کے میں منحوس ہوں دیکھو میری منحوسیت تمھارے بھائی کو بھی کھا گی…کاش میں پاکستان نا آتی… کاش آیان میں تمھیں نا ملتی زندگی سے بھرپور شخص کو میری منحوسیت کھا گی…..
ایسی باتیں نا کرو فریال سمبھالوں خود کو… آیان بھائی کے لیے دعا کرو….
نھی میں نھی کرو گی دعا اس دھوکے باز کے لیے مجھے چھوڑ کے چلا گیا میں کبھی اسے معاف نھی کروں گی آی ہیٹ یو آیان آی ہیٹ یو تم بھت برے ہو… فریال پھر رونے لگ گی….ارسہ اذان خرم کسی کی بھی بات نھی مانی مجھے نھی جانا واپس میں ابھی رہو گی کچھ دن بعد میں آجاو گی….
سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گے….سب اپنے اپنے کام دھندوں پہ لگ گے زندگی کب رکتی ہے یہ تو چلتی ہی رہتی ہے….
بس ایک فریال تھی جسکی زندگی بس ٹھر گی تھی گہرا سکوت تھا خاموشی ہی خاموشی….
——–
اتنے دن ہو گے تھے اس نے وہی کپڑے پہنے ہوئے تھے… بیٹھے بیٹھے دل گھبرایا تو باہر نکل آئی….پتھروں کی سڑک پہ چلی جا رہی تھی…15⅝
پتھروں پہ چلتے ہوئے اس کے قدم ایک بار بھی نا لڑکھڑاے جیسے برسوں سے انھی رستوں پر چلتی آرہی ہے… پہاڑی کی چوٹی پہ ایک پتھر سے ٹیک لگا کے بیٹھ گی…. نیچے قص (ندی) پہ کچھ عورتیں کپڑے دھو رہی تھیں سائیڈ پہ کچھ آدمی اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے ایک دو جھگیاں بنی ہوئی تھیں یہ انھی خانہ بدوشوں کی تھیں شائد فریال کی آنکھوں میں آنسوں آگے میری زندگی بھی تو ان خانہ بدوشوں جیسی ہے کوئی ٹھکانا مستقل نھی ہوتا مگر یہ لوگ خوش تو ہیں بے شک ہجرت ان کے مقدر میں لکھی ہے مگر یہ اپنوں کے ساتھ تو ہیں نا میرا تو کوئی بھی اپنا میرے پاس نھی ہے اب کدھر جاوں…..
دور کھڑے کسی ظالم کا دل پگھلا تھا ( ان نیلی آنکھوں میں آنسوں دیکھنا عذاب تھا اور دکھ کی بات کہ یہ آنسوں میری وجہ سے ہی آئے ہیں خدا کا واسطہ ہے فریال ادھر سے چلی جاو تمھیں دیکھ دیکھ کے احساس گناہ بڑھتا ہی جاتا ہے اس سے پہلے کہ میں ضبط کھو دوں چلی جاو چلی جاو کہ سچ تم سے بھی برداشت نھی ہوگا کتنی درد ناک موت تھی اسکی تم سہہ نھی پاو گی چلی جاو )
خرم زاریہ کو کہہ کے گیا تھا کہ فریال کا دھیان رکھنا اور جب واپس آے تو اکیلے نا بھیجنا یا خود ساتھ آنا یا مجھے بتانا میں آجاو گا…
زاریہ فریال کے پاس آ کے بیٹھی فریال گڑیا بس کر دو رونا اتنا سوگ مت مناو اسکا اللہ کو بھی نھی پسند…. کیا کروں آپی صبر نھی آتا….
تم ادھر سے چلی جاو واپس چلی جاو کالج جاو گی ماحول چینج ہوگا تو خودی سمبھل جاو گی ادھر رہو گی تو اسے کبھی بھول نھی پاو گی…. آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں مجھے اب چلے جانا چاھیے ٹھیک کہہ رہی ہیں وہ اٹھ کھڑی ہوئی…
میں چلو گی تمھارے ساتھ نھی میں خود چلی جاو گی…. آپ چلیں ادھر سے مجھے اڈے تک چھوڑ دیں اور کچھ پیسے بھی دے دیں اچھا ٹھیک ہے156
چلتے ہیں تم پہلے سب سے مل لو….
نھی مجھے کسی سے نھی ملنا آپ چلیں پہاڑی سے اتر کے نیچے آئی کچھ دیر گیٹ کے سامنے کھڑی رہی دو آنسوں ٹوٹ کے زمین پہ گرے واپسی کے رستے پہ قدم رکھ دیے…..
زاریہ اسے گھر لے آئی پیسے دیے اور اپنے ہزبنڈ کو ساتھ بھیجا…
اڈے پہ گاڑی کھڑی تھی یہ گاڑی چکوال اتارے گی ادھر سے لاہور کی گاڑی مل جاے گی ٹھیک ہے بھائی…
زاریہ نے فون کر کے خرم کو بتا دیا اس کے پاس فون نھی ہے تقریبنا آٹھ بجے وہ لاہور پہنچے گی ٹھیک ہے آپی…
خرم دس بجے تک انتطار کرتا رہا مگر وہ نھی آئی خرم اسکی خالہ کے گھر گیا تو انھوں نے بتایا وہ سرگودھا چلی گی ہے اس کے دادا بھی ادھر ہی ہیں…
ارسہ اگلے دن کالج سے آکے فریال کے گھر گی تو اسکی خالہ نے بتایا وہ اور اس کے دادا تو انگلینڈ واپس چلے گے ہیں…
کیا اسیے کیسے چلے گے فریال کی پہلے ہی اتنی چھٹیاں ہو گی ہیں…
بیٹا وہ اب واپس نھی آئے گی…
واپس نھی آئے گی…. آنٹی آپ پلیز مجھے اسکا نمبر دے دیں وہ اپنا موبائل ادھر ہی چھوڑ گی ہے کہتی اسے کسی کے ساتھ کوئی رابطہ نھی رکھنا….
ارسہ کے دل کو کچھ ہوا ایسے کیوں کیا فریال ایک بار مل کے تو جاتی ایک فون کال ہی کر دیتی…..
ایگزامز ہو گے تھے ہمیشہ ٹاپ پہ رہنے والے بمشکل پاس ہوئے تھے…..
فریال اپنی بات کی پکی نکلی تھی اس نے کسی سے کوئ رابطہ نا رکھا…
جتنا بھی بڑا غم ہو پہاڑ جتنا بھی دکھ ہو بلآخر صبر آ ہی جاتا ہے زندگی چلتی رہتی ہے…..
جانے والے چلے جاتے ہیں مگر انکی یادوں سے دل کا ایک کونا ہمیشہ آباد رہتا ہے….
157
ارسہ کو فریال کبھی کبھی بہت یاد آتی تھی…. اس کے خالو نے اپنا ٹرانسفر سرگودھا کروا لیا تھا….
سو رابطے کی امید ہی ختم ہو گی تھی…
مگر خرم ارسہ اور اذان کی ہر دعا میں آیان اور فریال شامل تھے…..
” زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی نھی”
” جلتا ہوا دیا ہوں , مگر روشنی نھی ”
” مدتیں ہوئیں ہیں کسی سے جدا ہوئے”
"لیکن یہ دل کی آگ ابھی تک بجھی نھی
” یہ چاند یہ ہوا یہ فضا سب ہے ماند ماند ”
” جب تو نھی تو ان میں کوئی دلکشی نھی”
—————————–
لیں جی نیکسٹ بھی حاضر ہے… نائس نیکسٹ والوں آج تو قسم توڑ دو کچھ تو بولوں ظالموں بےشک کھری کھری ہی سنا دو….
پڑھ کے تبصرہ ضرور کیجیے گا….

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔