منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

سب یہی سمجھتے تھے کہ میں ایک لفظ بھی نہیں سمجھتا۔…


💥 سب یہی سمجھتے تھے کہ میں ایک لفظ بھی نہیں سمجھتا۔ 💔🙂

شادی کو تین سال ہو چکے تھے، مگر اس گھر میں ایک ایسی خاموشی بھی رہتی تھی جس کا کسی کو احساس نہیں تھا۔

میری بیوی مریم لاہور کی تھی، مگر اس کی والدہ اور والد کا تعلق گلگت بلتستان کی وادیٔ گوجال سے تھا۔ گھر میں سب اردو بولتے تھے، لیکن جب کبھی کوئی بات صرف آپس کی کرنی ہوتی، وہ فوراً اپنی مادری زبان وَخی میں گفتگو شروع کر دیتے۔

سب یہی سمجھتے تھے کہ میں ایک لفظ بھی نہیں سمجھتا۔

اور میں نے کبھی ان کی یہ غلط فہمی دور نہیں کی۔

اس کی وجہ کوئی چالاکی نہیں تھی۔

میرے مرحوم نانا ایف سی میں ملازم تھے۔ برسوں گوجال کے ایک قصبے میں تعینات رہے۔ وہیں ان کے سب سے قریبی دوست وَخی بولتے تھے۔ نانا نے زبان سیکھی، پھر شوق میں اپنی اولاد کو بھی چند برس سکھاتے رہے۔ بچپن میں یہ سب ایک کھیل لگتا تھا، مگر یونیورسٹی پہنچ کر میں نے اس زبان پر مزید محنت کی۔ کتابیں پڑھیں، پرانے لوک گیت سنے، اور رفتہ رفتہ اتنی سمجھ آ گئی کہ عام گفتگو آسانی سے سمجھ لیتا تھا۔

جب میری شادی ہوئی تو یہ بات کبھی زیرِ بحث ہی نہیں آئی۔

ساس اور سسر صاف اردو بول لیتے تھے۔

مریم خود بھی وَخی نہیں جانتی تھی۔

لہٰذا زبان کا ذکر کرنے کی کبھی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوئی۔

البتہ جب بھی دونوں آپس میں وَخی بولتے، میں خاموشی سے سنتا رہتا۔

وہ کبھی میرے خلاف سازش نہیں کرتے تھے۔

کبھی ساس سبزی میں نمک کم ہونے کی شکایت کرتی، کبھی سسر بجلی کے بل پر افسوس کرتے، کبھی کسی رشتہ دار کی بیماری کا ذکر، کبھی پرانی یادیں…

ایسی ہی عام گھریلو باتیں۔

اگر کبھی کوئی ایسی بات ہوتی جس کا مجھے سننا مناسب نہ ہوتا، شاید میں وہیں بتا دیتا کہ میں زبان سمجھتا ہوں۔

مگر ایسا دن کبھی آیا ہی نہیں۔

پچھلے اتوار گھر میں ایک مہمان آئے۔

سسر کے پرانے دوست۔

کھانے کے بعد حسبِ روایت بزرگوں کی محفل جم گئی۔

پرانے زمانے کی باتیں، آج کی نسل پر ہلکے پھلکے طنز، اور وہی جملہ…

"آج کل کے لڑکے دو گھنٹے بجلی چلی جائے تو دنیا ختم ہو جاتی ہے۔”

سب ہنس رہے تھے۔

میں بھی۔

پھر سسر نے وَخی میں اپنے دوست سے کہا،

"اسے کیا معلوم، ہمارے زمانے کی سختیاں کیا تھیں۔”

میں نے بھی مسکراتے ہوئے اسی زبان میں جواب دیا،

"اچھا بابا جی… پھر کل صبح فجر کے بعد آپ کے ساتھ کھیت میں کام کرنے چلتے ہیں، دیکھتے ہیں پہلے کون تھکتا ہے۔”

کمرے میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے کسی نے اچانک پنکھے بند کر دیے ہوں۔

ساس کے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ ہوا میں ہی رک گیا۔

سسر کی آنکھیں میرے چہرے پر جم گئیں۔

مریم حیرت سے مجھے دیکھنے لگی۔

اور سسر کے دوست کی ہنسی اچانک گلے میں اٹک گئی۔

چند لمحے بعد سب نے مصنوعی سی ہنسی ہنس دی، مگر وہ ہنسی پہلے جیسی نہیں تھی۔

رات کو مریم نے کمرے میں آ کر پوچھا،

"تم… وَخی بول سکتے ہو؟”

"ہاں…”

"اور یہ بات تین سال سے کسی کو نہیں بتائی؟”

میں نے کندھے اچکا دیے۔

"کسی نے کبھی پوچھا ہی نہیں۔”

اگلے دن ساس نے فون کیا۔

ان کی آواز میں ناراضی چھپی ہوئی تھی۔

"بیٹا، ہمیں بہت عجیب لگا۔”

"کیوں امی؟”

"ہم تین سال سے سمجھتے رہے کہ تم ہماری باتیں نہیں سمجھتے۔”

"اور آپ نے کبھی ایسی بات بھی نہیں کی جو مجھے نہیں سننی چاہیے تھی۔”

کچھ لمحے خاموشی رہی۔

پھر انہوں نے دھیرے سے کہا،

"بات یہ نہیں ہے… بات اعتماد کی ہے۔”

میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ کبھی کبھی راز وہ نہیں ہوتے جو ہم چھپاتے ہیں…

راز وہ ہوتے ہیں جنہیں سامنے والا خود اپنی طرف سے سچ مان لیتا ہے۔

میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا۔

صرف ایک حقیقت کبھی بیان نہیں کی۔

لیکن بعض اوقات خاموشی بھی لوگوں کو دھوکے جیسی محسوس ہوتی ہے۔

چند ہفتے گزر گئے۔

گھر کے ماحول میں وہی ہنسی واپس آ گئی، مگر ایک فرق ضرور آیا۔

اب جب بھی ساس اور سسر وَخی میں بات کرتے، درمیان میں مجھے دیکھ کر مسکرا دیتے۔

اور میں بھی جواب میں اسی زبان میں کہہ دیتا،

"فکر نہ کریں… آج میں سن ہی نہیں رہا۔”

ہم سب ہنس دیتے۔

مگر اس دن مجھے سمجھ آیا کہ زبانیں صرف لفظ نہیں ہوتیں…

وہ اعتماد کا ایک ایسا دروازہ بھی ہوتی ہیں، جو اگر برسوں بند رہے، تو کھلتے ہی سب سے پہلے حیرت اندر داخل ہوتی ہے۔

افسانہ: خاموش زبان
©️ انتخاب سخن