سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے—(امیر مینائی) …
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے—(امیر مینائی)
ہو دردِ عشق ایک جگہ تو دوا کروں
دل میں، جگر میں، سینے میں، پہلو میں، سر میں ہے
صیّاد سے سوال رہائی کا کیا کروں
اُڑنے کا حوصلہ ہی نہیں بال و پر میں ہے
قاصد کو ہاتھ داغ کے بھیجا ہے یار نے
خاکی نئی رسید کفِ نامہ بر میں ہے
تیرِ قضا کو ناز ہے کیا اپنے توڑ پر
اتنا اثر تو یار کی سیدھی نظر میں ہے
تم جاؤ تیغ باندھ کے پھر سیر دیکھ لو
میرے گلے پہ ہے کہ تمھاری کمر میں ہے
ساقی مئے طہور میں کیفیّتیں سہی
پر وہ مزا کہاں ہے جو تیری نظر میں ہے
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
(امیر مینائی)