اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

زندگی کے صحرا میں ایک عجیب اصول کارفرما ہے۔ یہ اصو…


زندگی کے صحرا میں ایک عجیب اصول کارفرما ہے۔ یہ اصول نہ کسی کتاب میں مکمل لکھا گیا ہے، نہ کسی عدالت میں نافذ ہوا—مگر صدیوں سے چلتا آ رہا ہے۔

وہ کنواں جس سے لوگ پانی بھرتے ہیں، کبھی خشک نہیں ہوتا۔ اور جس کے پاس آنا لوگ چھوڑ دیں… وہ آہستہ آہستہ مٹی ہو جاتا ہے۔

یہ صرف پانی کا معاملہ نہیں… یہ انسان کا معاملہ ہے۔

ہم میں سے ہر شخص ایک کنواں ہے۔
کوئی علم بانٹتا ہے، کوئی محبت، کوئی حوصلہ، اور کوئی خاموشی سے کسی کا بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ مگر جس دن ہم نے اپنے دروازے بند کر لیے، اپنے اندر کی خیر کو روک لیا… اسی دن سے ہماری کمی شروع ہو جاتی ہے۔

اللہ کا نظام بہت سادہ ہے
جو بہتا ہے، وہ رہتا ہے۔
جو رک جاتا ہے، وہ ختم ہو جاتا ہے۔

اس لیے اگر باقی رہنا ہے تو خود کو لوگوں کے لیے آسان بنا لیجیے۔
کسی کے ٹوٹے ہوئے حوصلے کو سہارا دے دیجیے،
کسی کی خاموش پریشانی کو محسوس کر لیجیے،
کسی کے چولہے کی آگ بن جائیے،
یا کم از کم کسی کے اندھیرے میں ایک چھوٹی سی روشنی۔

یاد رکھیے،
بڑا ہونا دولت سے نہیں، فائدہ پہنچانے سے ہوتا ہے۔

آپ جتنا بانٹیں گے، اتنا بڑھیں گے۔
اور جس دن آپ نے دینا چھوڑ دیا… اسی دن آپ کے اندر کا کنواں سوکھنا شروع ہو جائے گا۔

لہٰذا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے.
آپ ایک بند دروازہ بننا چاہتے ہیں…
یا ایک ایسا کنواں، جس سے پیاسے ہمیشہ سیراب ہوتے رہیں۔