رات گہری ہے تو پھر غم بھی فراواں ہوں گے ساجدہ زید…
رات گہری ہے تو پھر غم بھی فراواں ہوں گے
ساجدہ زیدی (1927-2011)
رات گہری ہے تو پھر غم بھی فراواں ہوں گے
کتنے بجھتے ہوئے تارے سر مژگاں ہوں گے
قہر ہے ساعت محشر ہے کہ کہرام فنا
خاک اس شہر فنا کوش میں انساں ہوں گے
شہر ہو دشت ہو محفل ہو کہ ویرانہ ہو
ہم جہاں جائیں وہی خار مغیلاں ہوں گے
کیسے اس شہر خرابی میں بسر کی ہم نے…