پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

دنیا کو تیرے درد دکھائے نہیں جاتے اور ہجر میں یہ ق…


دنیا کو تیرے درد دکھائے نہیں جاتے
اور ہجر میں یہ قصے چھپائے نہیں جاتے

ہجرت ہے اگر خون میں شامل تو کھلیں گے
آداب سفر داری سکھائے نہیں جاتے

کچھ پھول ہیں ایسے کہ کھلائے نہیں کھلتے
کچھ زخم ہیں ایسے کہ یہ جائے نہیں جاتے

سوکھی ہوئی کونپل سے ہے خوشبو کی تمنا
مرجھائے ہوئے پھولوں کے سائے نہیں جاتے

اوروں کے کئے وعدے بھلا دیتا ہوں اکثر
پر مجھ سے ترے وعدے بھلائے نہیں جاتے

کچھ درد تیرے ساتھ نہیں بانٹ سکا میں
کچھ گیت تیرے سامنے گائے نہیں جاتے

سید علی شاہ رخ بخاری