اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#دربار_عشق #عائشہ_اقبال #قسط_نمبر_09 آج یونیور…


#دربار_عشق
#عائشہ_اقبال
#قسط_نمبر_09

آج یونیورسٹی کتنی مختلف لگ رہی ہے نہ وہ اپنی نیو نیو فرینڈ کے ساتھ گاڑدن ایریا کی طرف آئی جہاں اسٹوڈینت کم ہی تھے۔
محرما یہ فیسٹیول کتنا اچھا ہے نہ ہر اسٹوڈینت اپنی فیلنگس اس بہانے دوسروں سے شیئر کرسکتا ہے۔ ساریہ اور وہ دونوں نرم نرم گھاس پہ بیٹھ گئی ۔اسنے محرما سے اپنی دوستی کا اظہار ییلو ربن اسکی انگلیوں میں باندھ کے کردیا تھا ۔بدلے میں محرما نے بھی اسکی دوستی کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ وہ خوش تھی اتنی بڑی یونی میں کوئی تو ملی جس سے وہ گپے لگا سکتی تھی ۔
لیکن مجھے اس فیسٹیول کی ہسٹری تفصیل سے بتاؤ ۔یہ اسٹوڈینت اپنی اپنی مرضی سے کس طرح اتنا بڑا فیسٹیول ارگنائز کرسکتے ہیں بنا انتظامیہ کے، وہ حیرت زدہ ہوئی۔یہی تو پاور ہے اسٹوڈینت کا،
دیکھو ییلو ربن جو میں نے تم سے دوستی کے طور پہ باندھی ہے یہ صرف شہادت اور اس کے برابر والی انگلی میں ہی پہناسکتے ہیں جس سے بچپن میں ہم دوستی کیا کرتے تھے یاد ہے تمھیں اسنے دوانگلی ملا کر اسکی ربن والی دونوں انگلیوں سے مس کیا ۔چلو ہماری دوستی پکی ہوگئی ۔ساریہ کی اس حرکت پہ دونوں کھلکھاکر ہسنے لگی۔
اور ڑید ربن تو اسپیشل پرسن کے لیے ہوتی ہے جو آپ کے دل سے قریب ہو جسے آپ من ہی من پسند کرنے لگے ہو تو اس ربن کے ذریعے کتنے ہی اسٹوڈینت اپنے دل کا حال ایک دوسرے سے بغیر اظہار کے کرسکتے ہیں ۔اور رہی بلوربن ۔۔۔۔
اور کچھ ٹہری
بلو ربن کی ہسٹری تھوڑی عجیب ہے۔
ہاں میں نے ریڈ اور ییلو ربن ہی زیادہ تر اسٹوڈینت کے ہاتھوں میں دیکھی۔بلو ربن چند ایک کے ہاتھوں ہی میں ہوگی۔وہ گاڑدن کے اطراف میں نظر گھماتے ہوئے بولی جہاں اسٹوڈینت انگلیوں میں ربن سجائے گھوم رہے تھے۔
قطار در قطار درختوں پہ ربنز بندھی ہوئی تھی ۔
ہر طرف مختلف رنگوں کی ربنز بکھری ہوئی تھی ۔
واقعی یہ فیسٹیول جس کی بھی کاوشوں سے آرگنائز ہوا۔کمال کا ہے ویسے ۔
ہاں تومیں کہہ رہی تھی بلو ربن ان اسٹوڈینت کو دوسرے اسٹوڈینت پہناتے ہیں جن کو وہ لوسر سمجھتے ہیں یا پھر پڑھائی کے میدان میں ایک دوسے کو بیٹ کرنے کے لیے پہناتے ہیں ۔۔۔
لیکن یہ تو غلط بات ہے ہم کسی کو لوسر کیسے کہہ سکتے ہیں یا پھر اپنی نفرت کا اظہار اس طرح سب کے سامنے کیسے کرسکتے ہیں ۔وہ اپنی رائے پیش کررہی تھی ۔لیکن اسکی یہاں کون سنے گا وہ جونیئرز میں تھیں جب کے سینئرز کا زیادہ پاور چلتا تھا۔
جب اس میں انتظامیہ ساتھ نہیں دیتی تو اسٹوڈینت خود کیسے سب ارینج کرلیتے ہیں ? ……
اسٹوڈینت فنڈ جمع کرتے ہیں ۔اور اپنی مدد آپ کے تحت سب ارینج کرلیتے ہیں تبھی تو کہتے ہے کسی قوم میں تبدیلی لانی ہوتو وہاں کے نوجوانوں میں ولولہ پیدا کرنا پڑتا ہے یہی نوجوان قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں قوم وملک کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے وہاں کے نوجوان نسل کے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرنے ضرورت ہوتی ہے
۔علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں جا بجا نوجوان کو خودی کادرس دیا ہے۔
اسی طرح ہمارے رہنما جناح صاحب نے بھی اپنے خطابات میں نوجوان نسل کو اکثر مخاطب کیا کرتے تھے۔
محرما ساریہ سے متفق ہوئی۔واقعی اسٹوڈینت کے ہاتھوں میں پاور ہوتی ہے۔
یہ فیسٹیول کا آغاز کچھ یوں ہوا تھا۔تین دوستو کی آپس میں گہری دوستی تھی محرما ایسی دوستی تھی کی۔
۔ساریہ محرما کا ناسمجھی والاچہرہ دیکھ کے مزید وضاحت دینے لگی۔
چار سال انھوں نے ساتھ گزارا تھا۔ہر کام ساتھ کرتے۔تقریبا ایک جیسے کپڑے پہنتے ۔اسٹڈیز ساتھ کرتے۔اور یہاں تک کہ ان کا رزلٹ میں بھی کوئی خاطر خواہ فرق نہیں ہوتا تھا۔
انھیں جدا ہونا تھا وقت کو جتنا بھی روک لو وہ تھمتا نہیں پھر تینوں کی راہیں جدا جدا تھی ۔چایتے ہوئے بھی وہ ساتھ نہیں رہ سکتے تھے۔
اسی لیے یادگار کے طور پہ انھوں نے ایک دوسرے کو ربنز پہنادیے۔ان کی دوستی کمال کی تھی ۔اسی لیے تو ان کا ایک فرضی سا ربن پہنانا آج اتنا بڑا فیسٹیول بن گیا ۔جو یونیورسٹی کے ہر ڈیپارٹمنٹ میں یکساں بنایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی یاد ایسے اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں کہ لوگ انکے بنائے ہوئے راستے پہ قدم رکھ کے چلنا پسند کرتے ہیں ۔
جہاں سچائی ہوتی ہیں وہاں مواقع خود بہ خود میسر آجاتے ہیں ۔محرما کی آنکھیں ان کی بے مثال دوستی کے احترام سے جھکی۔
دوستی وہ واحد پاک رشتہ ہے جو ہر شے پہ غالب ہوتا ہے ہر رشتے میں اپنی پوری سچائی کے ساتھ ڈھل جاتا ہے ۔دنیا کے تمام رشتے دوستی کے رشتے کو بڑی عقیدت کے ساتھ مانتے ہیں ۔جو ہمیں مساوات کا درس دیتا ہے ۔ نسب و نسل کا امتیاز مٹ جاتا ہے بچتی ہے تو صرف انسانیت ،جو تمام جذبات کو ممتاز کرتی ہے ۔
اسے ابیرہ اور فایقہ یاد آئی ۔کیسے انھوں نے بھی ہمیشہ ساتھ رہنے کا وعدہ کیا تھا اور آج وہ تینوں الگ الگ ہے ۔کیا ایسا نہیں ہوسکرا ہم ہمیشہ ساتھ رہیں ابیرہ غمگین لہجے میں بولی۔
تمھارے ساتھ رہے گا بھی کون محرما نے اسے تنگ کیا۔
اگر ابیرہ یہاں ہوتی تو آدھی یونی اسکو ربنز پہناچکی ہوتی ۔۔
نہیں نہیں ۔۔۔۔ییلو ربن نہیں۔۔۔۔۔۔
بلو ربن وہ تصور میں ہی مسکرانے لگی
نفرتیں ہر کوئی بانٹا ہے ۔اگر اپنی چھانپ پیچھے چھوڑنی ہے تو محبتیں بانٹو۔۔۔۔۔۔
لیکن آج کل اسٹوڈینت میں کہاں وہ بات ہے جو پہلے کے اسٹوڈینت میں ہوا کرتی تھی۔ ریاکاری سے سجا چہرہ۔ہر کوئی مصنوعی نقاب لگائے گھومتا ہے ۔اسے وہ یار آیا۔
ہممممم۔
ساریہ اسکی ہاں میں ہاں ملاتے بولی۔۔
محرما شازیب آپ دونوں میں سے کون ہے کوئی جونیئر اسٹودینٹ
ان سےمخاطب ہوا۔
یس۔۔۔۔می وہ اپنا نام سنتے ہوئے بولی۔
اوکے آجائیں میرے ساتھ وہ اسے کہتے ہی مڑگیا۔
پہلےبتائیں کیا کام ہے وہ بیٹھے بیٹھے ہی سوال کرنے لگی۔
مہرام شاہ اپ کو بلا رہا ہے
مہرام کا نام سنتے ہی اسک زبان کڑوی ہوگئی۔
کام کس کو ہے ۔
جس کو کام ہے وہ خود چل کے آئے وہ ڈھٹائی سے بولی۔
وہ بنا کچھ کہے چلا گیا۔
۔۔۔۔۔
وہ دونوں اپنا سامان سمیٹتی ہوئی کیفے ایریا چلی گئی۔۔
کچھ کھالو پھر گھر چلی جانا اور جب تک پوری طبیعت ٹھیک نہ ہو یونی مت آنا ۔میں تمہارے لیے نوٹس بنا کے بھجوادیا کرونگی ۔ساریہ تلقین کرنے لگی۔
اچھا بابا میں نہ آنے کی کوشش کرونگی ۔
وہ دونوں اپنا لنچ فینیش کرکے باہر نکلنے لگی ۔یار مجھے ایک کام ہے وہ ساریہ کو بائے کرکے کوڑیڈور کی طرف آئی ۔جہاں مہرام شاہ۔۔۔۔
انا کا مجموعہ
غروریت کا لبادہ اوڑھے مسکرارہا تھا۔
یہ کیا۔۔۔۔۔
جیسے ہی اسکی انگلیوں پہ نظر پڑی وہ جل گئی۔
دونوں ہاتھوں کی تیسری انگلی لال لال ربن سے دھکی ہوئی تھی۔وہ اپنی جیت سے بڑا مسرور تھا۔
محرما نے باؤل سے بلو ربن اٹھائی۔
بڑا سا اپنا نام لکھا اور دوسری طرف ہیٹ یو لکھا اور اسکی چھوٹی انگلی میں کس کے باندھنے لگی۔
یس یو ڈیسرو اٹ ۔۔۔۔۔
مسٹر مہرام شاہ ۔۔۔۔
وہ اونچی آواز سے کہنے لگی۔
مہرام کے اردگرد اسٹوڈینت اور اسکے دوست کھڑے تھے پہلے مہرام نے اپنے اطراف میں دیکھا پھر اپنی انگلی کی طرف نظر کی۔
لبوں پہ مسکراہٹ سجائے اسے دیکھنے لگا
تمھارے ایک بلو ربن پہنانے سے میں لوسر ہوجاؤنگا۔
وہ تفاخر سے بولا۔
دنیا کے لیے تم جو بھی ہو مجھے اس سے مطلب نہیں ۔
لیکن میرے لیے تم ہمیشہ لوسر ہی کہلاؤگے۔
بڑا غرور ہے نہ خود پہ ۔
پر کیا فائدہ سب مٹی ہوجائے گا۔
تم۔۔۔۔
اور تمھارا غرور ۔۔۔
وہ انگلی اسکی سمت کرکے تیزی سے بولنے لگی۔
یہ ربن تمہیں میری نفرت یاد دلائے گا۔
کہ کوئی محرما شازیب تھی جو مہرام شاہ کو تمام اسٹوڈینت کے سامنے ذلیل کررہی ہے۔
اسکی چار سال سے بنی عزت کو نیلام کررہی ہے
پورے فضا پہ زہر کی بونداباندی ہورہی تھی
اسکا پور پور زہر میں ڈوب رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں زہر چمک رہا تھا۔
اسکا جگر زہر کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔
اسنے دنیا کا تمام زہر اپنے اندر انڈیل دیا تھا۔
اتنی نفرت ہوگئی تھی اس شخص سے ۔کی اگر یہ نفرت دریا میں ڈالی تو تمام پانی کڑوا ہوجائے ۔۔
آئی ہیٹ یو مسٹر مہرام شاہ ۔۔۔

وہ یک ایک لفظ چبا چبا کے ادا کررہی تھی ۔
بخار کی گرمائش نے اسکے طیش کو مزید گرمائش دی ۔
آئی ہیٹ یو ۔
وہ واپس چلائی۔۔۔
تمام اسٹوڈینت کی نظر کمزور سے جسامت والے بہادر لڑکی پہ مرکوز تھی۔
جو مہرام شاہ کو للکار رہی تھی۔۔۔
جس کے باپ کا فند یونیورسٹی میں جمع ہوتا ہے ۔جن کا نام شہر کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں شامل ہے جس کے ایک اشارے سے وہ اپنے پورے خاندان سمیٹ کہاں غائب ہوجائے گی کہ اسکا نشان تک نہیں ملےگی۔۔۔
بہت بڑی دشمنی موڑ رہی تھی
اسے باخوبی اندازہ تھا لیکن اسکی دشمنی کا اندازہ وہاں تک ہوگا جہاں اسنے اپنی عقل کے گھوڑے بھی نہیں دہرائے ہونگے۔۔۔۔
میرا بس چلتا تو سارے بلو ربنز تمھاری انگلی میں باندھ دیتی۔۔۔
ناجانے کیوں اسکی آواز میں کپکپائت ظاہر ہورہی تھی ۔
وہ مڑی ۔۔۔۔
پھر واپس پلٹی ۔۔۔۔
یو آر آ لوسر۔۔۔۔۔۔۔۔فور می۔۔
فور آل ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے طیش دلاگئ تھی۔وہ سب کے سامنے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔
مٹھیوں کو بھینچے وہ ضبط کرنے کی کوشش کررہا تھا۔
وہ ہمیشہ لفظو ں سے اسے للکار تی اور وہ عملی طور پہ اپنا انتقام لیتا ۔
پہلے کی بات اور تھی وہ تنہا تھا ۔لیکن آج سب کے سامنے مہرام عالم شاہ کو لوسر کہا گیا تھا۔سب کی اٹھی ہوئی نظریں اسے چھب رہی تھی۔انتقام لینے کے لیے وہ بے قرار ہورہا تھا۔
لاوا اپنے آخری پوائنٹ کی طرف بڑھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
اسنے دھیڑ سارا پانی پیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگی۔غصے کی وجہ سے بخار مزید چھڑھ گیا تھا ۔اسکی سرخ ہوتی آنکھیں جل رہی تھی۔وہ وہی بینچ پہ آنکھیں موندھے بیٹھی رہی ۔۔۔۔