پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

داغ دہلوی کے شاگرد علامہ سیماب اکبر آبادی کا یوم …


داغ دہلوی کے شاگرد علامہ سیماب اکبر آبادی کا یوم وفات
(پیدائش: 5 جون 1880— وفات: 31 جنوری 1951ء)
اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی کی تاریخ پیدائش 5 جون 1880ءہے۔
علامہ سیماب اکبر آبادی آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے – سیماب اکبر آبادی نےقرآن مجید کا منظوم ترجمہ کرنے کا بیڑا اٹھایا اور دس ماہ میں منظوم ترجمہ مکمل کر کے علما کی خدمت میں پیش کر دیا۔
——
منتخب کلام
——
عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
——
ہائے سیمابؔ اس کی مجبوری
جس نے کی ہو شباب میں توبہ
——
قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے
کہ ہر بجلی قریب آشیاں معلوم ہوتی ہے
——
لہو سے میں نے لکھا تھا جو کچھ دیوار زنداں پر
وہ بجلی بن کے چمکا دامن صبح گلستاں پر
——
تعجب کیا لگی جو آگ اے سیمابؔ سینے میں
ہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہوگی
——
میں دیکھتا ہوں آپ کو حد نگاہ تک
لیکن مری نگاہ کا کیا اعتبار ہے
——
مرکز پہ اپنے دھوپ سمٹتی ہے جس طرح
یوں رفتہ رفتہ تیرے قریب آ رہا ہوں میں
——
رنگ بھرتے ہیں وفا کا جو تصور میں ترے
تجھ سے اچھی تری تصویر بنا لیتے ہیں
——
خلوص دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہنا
وہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی
——
ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزو
میں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے
——
وہ دنیا تھی جہاں تم بند کرتے تھے زباں میری
یہ محشر ہے یہاں سننی پڑے گی داستاں میری
——
تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں
نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی
——
روز کہتا ہوں کہ اب ان کو نہ دیکھوں گا کبھی
روز اس کوچے میں اک کام نکل آتا ہے
——
دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں
اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں
——
شاید جگہ نصیب ہو اُس گُل کے ہار میں
میں پُھول بن کے آؤں گا، اب کی بہار میں
خَلوَت خیالِ یار سے ہے انتظارمیں
آئیں فرشتے لے کے اِجازت مزار میں
ہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں
آئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں
اے درد! دل کوچھیڑکے، پھرباربارچھیڑ
ہے چھیڑ کا مزہ خَلِشِ باربارمیں
ڈرتا ہوں، یہ تڑپ کے لحد کو اُلٹ نہ دے
ہاتھوں سے دِل دبائے ہوئے ہُوں مزارمیں
تم نے تو ہاتھ جوروسِتم سےاُٹھالیا
اب کیا مزہ رہا سِتَمِ روزگار میں
اے پردہ دار، اب تونکل آ کہ حشْرہے
دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں
عمرِ دراز، مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
سیماب پھول اُگیں لحدِعندلیب سے
اتنی تو تازگی ہو، ہوائے بہار میں
——
اب کیا بتائیں عمرِ وفا کیوں خراب کی
نوحہ ہے زندگی کا کہانی شباب کی
تم نے خبر نہ لی مِرے حالِ خراب کی
کالی ہوئیں فراق میں راتیں شباب کی
تھی الوداعِ ہوشِ تجلّئِ مختصر
میرا تو کام کرگئی جنْبش نقاب کی
وہ میرے ساتھ ساتھ مُجسّم تِرا خیال
وہ جنگلوں میں سیر شبِ ماہتاب کی
ممنُون ہوں تِری نگۂِ بے نیاز کا
رُسوائیاں تو ہیں مِرے حالِ خراب کی
میں اپنی جلوہ گاہِ تصوّر سجاؤں گا
تصویرکھینچ دے کوئی اُن کے شباب کی
دیدو غبارِ دل میں ذرا سی جگہ ہمیں
تربت بنائیں گے دلِ خانہ خراب کی
گھبرا کے جس سے چیخ اُٹھا عالَمِ وجُود
وہ چیز دل نے میرے لئے اِنتخاب کی
چمکیں تو خوفناک، گِرَیں تو حیات سوز
ساون کی بجلیاں ہیں نگاہیں عتاب کی
سیماب زندگی کی ہے تاریخ ہرغزل
ہرشعرمیں ہے ایک کہانی شباب کی
——
ہَمَیں تو یوں بھی نہ جلوے تِرے نظرآئے
نہ تھا حجاب، توآنکھوں میں اشک بھرآئے
ذرا سی دیر میں دُنیا کی سیر کرآئے
کہ لے کے تیری خبر تیرے بے خبرآئے
اسِیر ہونے کے آثار پھر نظرآئے
قفس سے چھوٹ کر آئے تو بال وپرآئے
تجھے ملال ہے ناکامئ نظر کا فضول
نظر میں جو نہ سمائے وہ کیا نظرآئے
وہ جانتا ہے، میں پابندِ رسْم وراہ نہیں
فضول ٹھوکریں کھانے کو راہبرآئے
تمام عمْر یہ ناکامیاں قیامت ہیں
کبھی کبھی تو الٰہی، اُمید بر آئے
جسے تصرفِ تیرِ نظر نہ ہو معلوم
وہ تیرے سامنے لے کے دل و جگرآئے
شریکِ قسمتِ تنہائیِ فراق ہوں میں
اجل بھی کیوں تِرے آنے سے پیشترآئے
بلائے جاں ہے وہ نصفِ شباب کا عالم
کسی حَسِین کی جب زلف تا کمر آئے
نگاہِ جلوہ میں شاید سما گئے سیماب
کہ منتظِر گئے لوٹے تو منتظَر آئے
——
کیا جانے میں جانا ہے ، کہ جاتے ہو خفا ہو کر !
میں جب جانُوں مِرے دل سے چلے جاؤ جُدا ہو کر
تصور آپ کا، کیا کیا فریبِ جلوہ دیتا ہے
کہ رہ جاتا ہُوں میں اکثر، ہم آغوشِ ہوا ہو کر
وہ پروانہ ہُوں، میری خاک سے بنتے ہیں پروانے
وہ دیپک ہُوں، کہ انگارے اُڑاتا ہُوں فنا ہو کر
قیامت تک اُڑے گی دِل سے اُٹھ کر خاک آنکھوں تک
اِسی راستے گیا ہے، حسرتوں کا قافلا ہو کر
تُمِھیں اب دردِ دل کے نام سے گھبرائے جاتے ہو !
تُمِھیں تو دِل میں شاید آئے تھے درد آشنا ہو کر
یُونہی ہم تُم گھڑی بھر کو مِلا کرتے تو بہتر تھا !
یہ دونوں وقت جیسے روزمِلتے ہیں جُدا ہوکر
یقینی حشر میں سیماب اُن کی دید ہے لیکن !
وہ پھر پردے میں جا بیٹھے اگر جلوہ نما ہوکر؟
——
نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی
کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی
تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں
نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی
مزہ آ جائے گا محشر میں کچھ سننے سنانے کا
زباں ہوگی ہماری اور کہانی آپ کی ہوگی
یہی عالم رہا پردہ نشینی کا تو ظاہر ہے
خدائی آپ سے ہوگی نہ ہم سے بندگی ہوگی
تعجب کیا لگی جو آگ اے سیمابؔ سینے میں
ہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہوگی

…
محبت میں ایک ایسا وقت بھی آتا ہے انساں پر
ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگ جاں پر
——
اب کیوں ہمارے سامنے آتے ہو بے حجاب
جب خو گر تجّلی مستور کر دیا
——
بدل گئیں وہ نگاہیں یہ حادثہ تھا اخیر
پھر اس کے بعد کوئی انقلاب ہو نہ سکا
——
غم مجھےحسرت مجھےوحشت مجھےسودا مجھے
ایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے
یہ نمازِ عشق ہے کیسا ادب کس کا ادب
اپنے پائے ناز پر کرنے بھی دے سجدا مجھے
دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے میں اٹھ جاؤں گا
دیکھتی کی دیکھتی رہ جائے گی دنیا مجھے
——