اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ زندگی کو مری ضرورت ہے…


جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے
——
قابل اجمیری کا یوم وفات
(پیدائش: 27 اگست 1931ء – وفات: 3 اکتوبر 1962ء)
قابل 27 اگست 1931ء کو اجمیر شریف میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام عبد الرحیم تھا۔ وہ بیماری، ناداری، خود داری میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ٹی بی کا جاں لیوا مرض 3 اکتوبر 1962ء کو عین جوانی میں ان کی جہان فانی سے رخصت کا سبب بنا۔ ان کی شاعری کا دور بمشکل دس بارہ برس پر محیط ہے۔
——
منتخب کلام
——
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
——
راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا
——
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
——
ہم نے اس کے لب و رخسار کو چھو کر دیکھا
حوصلے آگ کو گلزار بنا دیتے ہیں
——
حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے
ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے
——
کچھ اور بڑھ گئی ہے اندھیروں کی زندگی
یوں بھی ہوا ہے جشن چراغاں کبھی کبھی
——
یہ گردش زمانہ ہمیں کیا مٹائے گی
ہم ہیں طواف کوچۂ جاناں کیے ہوئے
——
وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ
ہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ
کہاں تک مجھ سے ہمدردی کہاں تک میری غمخواری
ہزاروں غم ہیں انجانے ستارو تم تو سو جاؤ
گزر جائے گی غم کی رات امیدو تو جاگ اٹھو
سنبھل جائیں گے دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ
ہمیں روداد ہستی رات بھر میں ختم کرنی ہے
نہ چھیڑو اور افسانے ستارو تم تو سو جاؤ
ہمارے دیدئہ بے خواب کو تسکین کیا دو گے
ہمیں لوٹا ہے دنیا نے ستارو تم تو سو جاؤ
اسے قابل کی چشم نم سے دیرینہ تعلق ہے
شب غم تم کو کیا جانے ستارو تم تو سو جاؤ
——
ضبط غم کا صلہ نہ دے جانا
زندگی کی دعا نہ دے جانا
بیکسی سے بڑی امیدیں ہیں
تم کو کوئی آسرا نہ دے جانا
——
تڑپتی کوندتی ہر چیز قابلؔ دل نہیں ہوتی
حرارت کرمک شب تاب سے حاصل نہیں ہوتی
کچھ ایسا مطمئن ہوں اپنی ناکامیٔ پیہم سے
کہ جیسے رہروغم کی کوئی منزل نہیں ہوتی
شکستِ جام پر میخانہ سارا گونج اٹھتا ہے
مگر حیرت ہے آوازِِ شکستِ دل نہیں ہوتی
کوئی اس وقت دیکھے کشتۂ ضبط محبت کو
زبانِ حال بھی جب ترجمانِ دل نہیں ہوتی
بقید عقل آساں کام بھی آساں نہیں ہوتا
بہ فیض عشق مشکل بات بھی مشکل نہیں ہوتی
رخِ پرنور کے قرباں نگاہ مست کے صدقے
طبیعت شعر و ساغر کی طرف مائل نہیں ہوتی
ہنسی لب پرچمک آنکھوں میں اطمینان چہرے پر
کسی عنوان تصدیق شکستِ دل نہیں ہوتی
——
آسودہ شوق کا ساماں نہ کر سکے
جلوے مری نگاہ پہ احساں نہ کر سکے
ہم خاک اڑاتے پھرتے ہیں بازار مصر میں
رعنائی خیال کو ارزاں نہ کر سکے
آیا نہ اس کی شان تغافل میں کوئی فرق
ہم اعتبار گردش دوراں نہ کر سکے
تم نے مسرتوں کے خزانے لٹا دیئے
لیکن علاج تنگئی داماں نہ کر سکے
آنکھوں سے ٹوٹتے رہے تارے تمام رات
لیکن کسی کو زینت داماں نہ کر سکے
شائستہ نشاط ملامت کہاں تھے ہم
اچھا ہوا کہ چاک گریباں نہ کر سکے
اک والہانہ شان سے بڑھتے چلے گئے
ہم امتیاز ساحل و طوفاں نہ کر سکے
ہم جان رنگ و بو ہیں گلستاں ہمیں سے ہے
یہ اور بات خود کو نمایاں نہ کر سکے
کچھ اس طرح گذر گیا طوفان رنگ وبو
غنچے بہار سے کوئی پیماں نہ کر سکے‘
ہر صبح جاگتا ہوں نئی آرزو کے ساتھ
غم مجھ کو زندگی سے گریزاں نہ کر سکے
یاروں نے دوستی کے تقاضے بدل دیئے
لیکن میری وفا کو پشیماں نہ کر سکے
قابلؔ فراق دوست میں دل بجھ کے رہ گیا
جینے کے حوصلے بھی فروزاں نہ کر سکے
——
آبرو ہے قرینے والوں کی
اپنے لب آپ سینے والوں کی
مرنے والوں کو رو رہا ہے کیا
بیکسی دیکھ جینے والوں کی
بڑھ کے ساغر کو توڑ دے کوئی
روح تشنہ ہے پینے والوں کی
ہم تو پروردئہ تلاطم ہیں
مشکلیں ہیں سفینے والوں کی
دل ہی ٹوٹیں گے جام کے بدلے
انجمن ہے قرینے والوں کی
زخم دل بھی ہنسی اڑاتے ہیں
دامن چاک سینے والوں کی
ہم بہت یاد آئے ساقی کو
گفتگو تھی نہ پینے والوں کی
سہل کر دی ہیں مشکلیں کتنی
مرنے والوں نے جینے والوں کی
——
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
کچھ تو دل مبتلائے وحشت ہے
کچھ تری یاد بھی قیامت ہے
میرے محبوب مجھ سے جھوٹ نہ بول
جھوٹ صورت گرِ صداقت ہے
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو میری ضرورت ہے
حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے
صرف احساس کی ضرورت ہے
انکے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا
اب در و بام سے ندامت ہے
اسکی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے
راستہ کٹ ہی جائے گا قابل
شوقِ منزل اگر سلامت ہے
——
تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کروگے؟
میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو، میں مسکرایا تو کیا کروگے؟
مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو
مگر کچھ اپنے لئے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے؟
کچھ اپنے دل پہ بھی زخم کھاوء، مرے لہو کی بہار کب تک
مجھے سہارا بنانے والو میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے؟
تمہارے جلووں کی روشنی میں نظر کی حیرانیاں مسّلم
مگر کسی نے نظر کے بدلے دل آزمایا تو کیا کرو گے؟
اتر تو سکتے ہو پار لیکن مآل پر بھی نگاہ کر لو
خدا نہ کردہ سکونِ ساحل نہ راس آیا تو کیا کرو گے؟
ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن
پمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے؟
ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو بگڑ کے قابل سے جا رہے ہو
مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کرو گے؟
……………………