منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ آپ نے شاید…


جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
سرور بارہ بنکوی کا یومِ وفات
Apr 03, 1980
اردو کے ممتاز شاعر، فلم ساز اور ہدایت کار جناب سرور بارہ بنکوی کااصل نام سعید الرحمن تھا۔ وہ 30 جنوری 1919ء کو بارہ بنکی (یو پی۔بھارت) میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے کراچی اور پھر ڈھاکا میں سکونت اختیار کی۔جہاں انہوں نے فلم تنہا کے مکالمے لکھ کر اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا اور پھرچندا، تلاش، ناچ گھر، کاجل ، بہانہ، ملن، نواب سراج الدولہ، تم میرے ہو، آخری اسٹیشن،چاند اور چاندنی، احساس، سونے ندیا جاگے پانی اور کئی دیگر فلموں کے نغمات لکھے جو بہت مقبول ہوئے اسی دوران انہوں نے تین فلمیں آخری اسٹیشن، تم میرے ہو اور آشنا پروڈیوس اور ڈائریکٹ بھی کیں۔
آخری دنوں میں وہ بنگلہ دیش کے اشتراک سے ایک فلم ’’کیمپ 333‘‘ بنانا چاہتے تھے۔ وہ اسی سلسلے میں ڈھاکا گئے ہوئے تھے کہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث 3 اپریل 1980ء کو ڈھاکا میں وفات پاگئے۔ ان کا جسد خاکی کراچی لایا گیا جہاں وہ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
سروربارہ بنکوی کے دو شعری مجموعے سنگ آفتاب اور سوزگیتی کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی میں لگ چکا تھا غم کا سرمایہ بہت
اس لیے شاید کمایا ہم نے کم پایا بہت
راندۂ ہر فصل گل ہم کب نہ تھے جو اب ہوئے
سنتے ہیں یاروں کو یہ موسم بھی راس آیا بہت
…..
اور کوئی دم کی مہماں ہے گزر جائے گی رات
ڈھلتے ڈھلتے آپ اپنی موت مر جائے گی رات
زندگی میں اور بھی کچھ زہر بھر جائے گی رات
اب اگر ٹھہری رگ و پے میں اتر جائے گی رات
جو بھی ہیں پروردۂ شب جو بھی ہیں ظلمت پرست
وہ تو جائیں گے اسی جانب جدھر جائے گی رات
اہل طوفاں بے حسی کا گر یہی عالم رہا
موج خوں بن کر ہر اک سر سے گزر جائے گی رات
ہے افق سے ایک سنگ آفتاب آنے کی دیر
ٹوٹ کر مانند آئینہ بکھر جائے گی رات
ہم تو جانے کب سے ہیں آوارۂ ظلمت مگر
تم ٹھہر جاؤ تو پل بھر میں گزر جائے گی رات
رات کا انجام بھی معلوم ہے مجھ کو سرورؔ
لاکھ اپنی حد سے گزرے تا سحر جائے گی رات
……………..
تو کیا یہ طے ہے، کہ اب عمر بھرنہیں ملنا
تو پھر یہ عمربھی کیوں، تم سے گرنہیں ملنا
یہ کون چُپکے سے تنہائیوں میں کہتا ہے
تِرے بغیر سُکوں عُمْر بھر نہیں ملنا
چلو زمانے کی خاطر یہ جبْر بھی سہہ لیں
کہ اب مِلے تو کبھی ٹوٹ کر نہیں ملنا
رہِ وفا کے مُسافر کو کون سمجھائے
کہ اِس سفر میں کوئی ہمسفرنہیں ملنا
جُدا تو جب بھی ہوئے دِل کو یوں لگا جیسے
کہ اب گئے تو کبھی لوٹ کر نہیں ملنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ کسی کو فکر منزل نہ کہیں سراغ جادہ
یہ عجیب کارواں ہے جو رواں ہے بے ارادہ
یہی لوگ ہیں ازل سے جو فریب دے رہے ہیں
کبھی ڈال کر نقابیں کبھی اوڑھ کر لبادہ
میرے روز و شب یہی ہیں کہ مجھی تک آ رہی ہیں
تیرے حسن کی ضیائیں کبھی کم کبھی زیادہ
سر انجمن تغافل کا صلہ بھی دے گئی ہے
وہ نگہ جو درحقیقت تھی نگاہ سے زیادہ
ہو براۓ شام ہجراں لب ناز سے فروزاں
کوئی ایک شمع پیماں کوئی اک چراغ وعدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے جنوں کچھ تو کھلے آخر میں کس منزل میں ہوں
ہوں جوار یار میں یا کوچہء قاتل میں ہوں
پا بہ جولاں اپنے شانوں پر لیے اپنی صلیب
میں سفیر حق ہوں لیکن نرغہء باطل میں ہوں
چشن فردا کے تصور سے لہو گردش میں ہے
حال میں ہوں اور زندہ اپنے مستقبل میں ہوں
دم بخود ہوں اب سر مقتل یہ منظر دیکھ کر
میں کہ خود مقتول ہوں لیکن صف قاتل میں ہوں
اک زمانہ ہو گیا بچھڑے ہوۓ جس سر سرورؔ
آج اسی کے سامنے ہوں اور بھری محفل میں ہوں
…………………….