منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

جب میں نے پہلی بار کلمہ پڑھا… تو اُسی دن میرا بیٹ…


💥 جب میں نے پہلی بار کلمہ پڑھا… تو اُسی دن میرا بیٹا رمضان میں پیدا ہوا۔ پہلی بار محسوس ہوا کہ بعض اوقات انسان دین نہیں ڈھونڈتا… دین انسان کو ڈھونڈ لیتا ہے جب وہ مکمل ٹوٹ چکا ہو۔ 🕯️💚

میرا نام ایمل ہے۔

اور میری عمر صرف پانچ سال تھی جب میری ماں دنیا سے چلی گئی تھیں۔

مجھے اُن کا چہرہ پوری طرح یاد نہیں…
بس اتنا یاد ہے کہ میں کئی راتیں دروازے کے پاس بیٹھ کر روتی تھی۔

میں ہر عورت کو دیکھ کر پوچھتی:

“میری امّی کب آئیں گی؟”

مگر لوگ قبر سے واپس نہیں آتے۔

امّی کے بعد میرے والد بدل گئے۔

پہلے وہ بہت ہنسا کرتے تھے۔
پھر اُن کی ہنسی جیسے گھر کی دیواروں میں کہیں دفن ہو گئی۔

چند سال بعد انہوں نے دوسری شادی کر لی۔

میرا بچپن ایک عجیب دنیا میں گزرا۔

ایک طرف چرچ تھا۔
دوسری طرف بدھ مت کی رسومات۔

میں نے دونوں سے اچھی باتیں سیکھیں… مگر میرے اندر کبھی سکون پیدا نہ ہو سکا۔

پھر ایک حادثہ ہوا۔

ایسا حادثہ جس نے میرے اندر کے خدا کو بھی زخمی کر دیا۔

میں نوعمر تھی جب ایک مذہبی شخصیت نے میرے ساتھ زیادتی کی۔

میں نے اُس دن پہلی بار سمجھا کہ بعض اوقات انسان کا جسم صرف زخمی نہیں ہوتا… اُس کا یقین بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

پولیس میں رپورٹ ہوئی۔
مگر وہ آدمی امریکہ چھوڑ کر بھاگ گیا۔

اور میں…

میں اپنے سوالوں کے ساتھ رہ گئی۔

کبھی کبھی رات کو آئینے میں خود کو دیکھتی تو لگتا میں اپنے جسم میں قید ہوں۔

میں نے کئی بار خودکشی کے بارے میں سوچا۔

صرف ایک چیز نے مجھے روکا۔

میرا چودہ سالہ کزن۔

وہ ایک دن گھر کے پچھواڑے میں گولی لگنے سے مر گیا تھا۔

لوگ آج تک نہیں جانتے وہ حادثہ تھا… یا خودکشی۔

مگر اُس کی ماں کی چیخیں آج تک میرے کانوں میں زندہ ہیں۔

میں سوچتی تھی…

اگر میں بھی چلی گئی، تو میرے پیچھے بھی کوئی ایسے ہی ٹوٹ جائے گا۔

شاید اُسی خوف نے مجھے بچا لیا۔

یا شاید اللہ ابھی مجھے مکمل طور پر چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔

وقت گزرتا گیا۔

میں مذہب سے دور ہوتی گئی۔

گھر والے کہتے تو چرچ چلی جاتی۔
کبھی مندر بھی۔

مگر اندر سے میرا دل خالی تھا۔

پھر میری شادی ہوئی۔

اور میں ماں بنی۔

مجھے لگا شاید اب زندگی ٹھیک ہو جائے گی۔

مگر انتیس برس کی عمر میں میرے دو اسقاطِ حمل ہوئے۔

پہلی بار جب ڈاکٹر نے کہا:

“Heartbeat بند ہو چکی ہے…”

تو مجھے یوں لگا جیسے میرے اندر دوبارہ کچھ مر گیا ہو۔

میں کئی دن صرف چھت دیکھتی رہتی۔

میرا شوہر مجھ سے دور ہوتا جا رہا تھا۔

گھر میں لڑائیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔

اور میں اندر سے مسلسل ڈوب رہی تھی۔

اُنہی دنوں میری دوستی برطانیہ میں رہنے والی ایک مسلمان خاتون سے ہوئی۔

وہ میری پوسٹس پڑھتی تھی۔
میرے درد کو محسوس کرتی تھی۔

ایک دن اُس نے مجھ سے پوچھا:

“کبھی قرآن پڑھا ہے؟”

میں نے کہا:

“صرف چند آیات… ایک بار miscarriage کے بارے میں پڑھی تھیں۔”

وہ خاموشی سے بولی:

“پڑھو۔
شاید تمہیں اپنے سوالوں کے جواب مل جائیں۔”

اُسی دوران مجھے ایک عجیب خواب آیا۔

ایک عورت سرخ لباس اور سرخ حجاب میں دور کھڑی تھی۔

اُس کا چہرہ صاف نظر نہیں آ رہا تھا… مگر عجیب سکون محسوس ہو رہا تھا۔

میں نے یہ خواب اپنی اُس مسلمان دوست کو بتایا۔

وہ کافی دیر خاموش رہی۔

پھر بولی:

“بعض دفعہ اللہ انسان کو راستہ پہلے خواب میں دکھاتا ہے… سمجھ بعد میں آتی ہے۔”

چند ماہ بعد مجھے معلوم ہوا کہ میں دوبارہ حاملہ ہوں۔

مگر وقت بہت برا تھا۔

میرے اور میرے شوہر کے درمیان طلاق کی باتیں چل رہی تھیں۔

اُسی دن جب ڈاکٹر نے حمل confirm کیا… اُس سے چند گھنٹے پہلے میرے شوہر نے غصے میں کہا تھا:

“شاید ہمیں الگ ہو جانا چاہیے۔”

ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا:

“اگر آپ pregnancy terminate کرنا چاہتی ہیں تو ایک ہفتے کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔”

میں ہسپتال کے کمرے میں بیٹھی رہی۔

خاموش۔

جیسے پوری زندگی ایک سوال بن کر میرے سامنے کھڑی ہو۔

سب سے پہلے میں نے اپنے شوہر کو بتایا۔

انہوں نے سرد لہجے میں کہا:

“Congratulations.”

بس۔

نہ خوشی۔
نہ لمس۔
نہ دعا۔

دوسری کال میں نے اپنی مسلمان دوست کو کی۔

وہ واقعی خوش ہوئی۔

پھر اُس نے ایک جملہ کہا جو آج تک میرے دل میں محفوظ ہے:

“رزق، نوکری، مرد… یہ سب بدل جاتا ہے۔
مگر ایک جان… اللہ کی امانت ہوتی ہے۔”

میں نے اُسی دن فیصلہ کر لیا۔

میں اپنے بچے کو دنیا میں لاؤں گی۔

پھر آزمائشیں شروع ہوئیں۔

شدید morning sickness۔
وزن کم ہونا۔
کمزوری۔

اور پھر ایک حادثہ۔

ایک گاڑی نے مجھے دوسری گاڑی کے ساتھ بری طرح دبا دیا۔

کچھ لمحوں کے لیے مجھے لگا میرا بچہ مر جائے گا۔

لوگ دوڑے۔
کسی نے گاڑی ہٹائی۔
مجھے ہسپتال لے جایا گیا۔

دو دن observation میں رہی۔

میرے pelvis اور spine پر شدید چوٹیں تھیں۔

مگر بچہ محفوظ تھا۔

میں اُس رات ہسپتال کے بیڈ پر لیٹی چھت دیکھ رہی تھی جب پہلی بار دل سے دعا نکلی:

“اگر تو واقعی موجود ہے… تو مجھے اکیلا مت چھوڑنا۔”

اور شاید اُسی رات میرے اندر کچھ بدل گیا۔

میں قرآن پڑھنے لگی۔

آہستہ آہستہ۔

پہلے ترجمہ۔
پھر تفسیر۔

اور مجھے پہلی بار محسوس ہوا…

یہ کتاب مجھ سے بات کرتی ہے۔

میرے زخموں سے۔
میرے خوف سے۔
میرے گناہوں سے۔
میرے ٹوٹنے سے۔

پھر وہ دن آیا۔

رمضان کا مہینہ تھا۔

میں labor pain میں تھی۔

مشینیں چل رہی تھیں۔
ڈاکٹر پریشان تھے۔
میرے contractions ٹھیک نہیں آ رہے تھے۔

اور اُس سب کے درمیان…

میں نے کلمہ پڑھا۔

“أشهد أن لا إله إلا الله…”

قسم سے…

مجھے یوں لگا جیسے برسوں بعد میرے اندر کی کوئی گمشدہ چیز واپس آ گئی ہو۔

اُسی دن میرا بیٹا پیدا ہوا۔

کچھ لمحوں کے لیے اُس کا heartbeat رک گیا تھا۔

ڈاکٹر دوڑ رہے تھے۔

میں oxygen mask کے نیچے صرف ایک ہی دعا پڑھ رہی تھی۔

پھر اچانک…

وہ رویا۔

اور اُس کی پہلی آواز سن کر مجھے محسوس ہوا جیسے اللہ نے مجھے دوبارہ زندہ کر دیا ہو۔

آج کئی برس گزر چکے ہیں۔

میری زندگی کامل نہیں۔

میں اب بھی ٹوٹتی ہوں۔
اب بھی روتی ہوں۔

مگر اب میں اکیلی نہیں روتی۔

کیونکہ اب مجھے معلوم ہے…

اللہ اُن لوگوں کو بھی سن لیتا ہے جنہیں دنیا “ٹوٹا ہوا” سمجھ کر چھوڑ دیتی ہے۔

اور بعض اوقات…

انسان اسلام قبول نہیں کرتا۔

اسلام انسان کو اُس وقت تھام لیتا ہے… جب وہ زندگی کے کنارے پر کھڑا گرنے والا ہوتا ہے۔ ❤️