پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#تیرے_عشق_میں #از_اقراء_خان #قسط_نمبر_19 #آخر…


#تیرے_عشق_میں
#از_اقراء_خان
#قسط_نمبر_19
#آخری_قسط

شادی کی تیاریاں زور و شور پہ تھی ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا فضا میں خوشبووں کی لہریں تھی سب کے چہریں پرنم تھے ۔۔

زریاب ۔۔۔زریاب
علیزے نیچے کھڑی زریاب کو آواز لگا رہی تھی ۔۔
وہ سب اشعر کے گھر ہی تھے شادی کی تیاریوں کے باعث انھیں وہی رہنا پڑا

ہاں علیزے وہ سڑھیاں اترتے ہوے نیچے آیا

اشعر کہاں ہے؟

کیا مطلب کہاں ہے؟ زریاب نے آگے سے سوال کر دیا

میں تم سے پوچھ رہی ہوں کہاں ہے وہ
علیزے غصے سے بولی ۔

وہ۔۔۔۔وہ۔۔
زریاب اٹکا ۔۔

یہ اٹک کیوں رہے ہو سیدھی طرح بتاو کہاں ہے اشعر

علیزے وہ اشعر آفس ہے ۔۔

کیا آفس خدا کا خوف کرو زریاب میں نے تم سے کہا تھا ناں کہ آج اسے آفس نہیں جانے دینا ۔اسکے ڈرسسز کے بارے میں ڈسکس کرنا تھا لیکن تم ۔۔
کیوں جانے دیا اسے

وہ کہہ رہا تھا میں جلدی واپس آجاوں گا ۔۔

ہاہاہا اور تم نے یقین کر لیا ۔۔شادی سر پر ہے اور تم دونوں نوابوں کی طرح ٹانگ پہ ٹانگ دھرے بیٹھے ہو ۔۔ایک کام کہا تھا وہ بھی نہیں ہو سکا تمھیں ۔۔

یار میں نے کوشش تو کی تھی ۔۔

اچھا ۔۔وہ میں نے ویڈینگ اینوٹیشنز کارڈ فائینل کیا ہے وہ تم دے آو ۔۔اور انھین کہنا بلکل ایسے ہی ہوں ۔۔

علیزے نے جلدی سے کارڈ کا سیمپل زریاب کو پکڑایا
وہ بہت پر جوش تھی اشعر کی شادی کے لیے ۔۔اشعر کے ناں ۔۔ناں کہنے کے باوجود وہ ہر چیز کر رہی تھی

جیسے زریاب جانے لگا تھا
کہ اوپر سے وشمہ آئی ۔۔

اسلام و علیکم

وعلیکم اسلام وشمہ آو ۔۔اندر آو ۔
میں نے ہی تمھیں بلایا ۔ہے ۔۔
علیزے نے وشمہ کی طرف دیکھتے ہوے کہا ۔۔

زریاب وشمہ کی طرف مسکراتا ہوا دیکھ کر باہر چلا گیا ۔

اچھا ۔۔۔وشمہ میں نے تمھیں بتانا تھا کہ ۔۔شادی کا ڈرس آج رات تم اشعر کے ساتھ لینے جاو گی میں چاہتی ہوں تم دونوں کی پسند کا ڈرس ہو ۔۔

ع۔۔۔علیزے اسکی کیا ضرورت ہے ۔۔

کیا ۔۔لہنگا نہیں پہننا تم نے اپنی شادی پہ ۔۔

نہیں میرا مطلب ہے کہ تم خود ہی لے آو اسکی کی ضرورت ہے ۔۔

نہیں ضرورت ہے اسلیے تو کہہ رہی ہوں ۔اور ثریا آنٹی کو میں نے کال کر دی ہے ۔۔۔وہ کہہ رہی ہیں کہ ۔۔ساتھ ڈرس کے ۔۔اشعر کا ڈرس لے لینا ۔میچینگ ہو ۔۔

علیزے ۔۔بولتی جا رہی تھی ۔۔وشمہ چپ ۔۔مسکراتی اسکی باتیں غور سے سن رہی تھی

****************************

نہیں ۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔رانیہ علہزے پلیز ۔۔ایسا مت کرو
میں ۔۔نہیں ۔ہر گز نہیں تمھیں تو پتا ہے ناں مجھے نہیں پسند ۔یہ

وہ بھاگ رہی تھی پورے گھر میں رانیہ اور علیزے اس کے پیچھے تھیں

وشمہ ۔۔ہیل وال جوتا تمھیں تو پہنا پڑے اگر پہنوں گی نہیں تو چلو ۔گی کیسے ۔۔

رانیہ نے بلند آواز میں کہا ۔۔

وشمہ اوپر سے نیچے آئی تھی کہ سامنے سے اشعر سے ٹکرائی ۔

شکر ہے اشعر تم آگئے ۔۔
کیا ہوا ہے وشمہ

اشعر ۔۔پیچھے ہٹ جاو تم ۔۔
تم درمیان میں مت آنا ۔۔

علیزے نے اشعر کو کہا

ہوا کیا ہے ۔۔؟

ہونا کیا ہے آپ کی ہونے والی بیوی کو پریکٹس کروا رہے ہیں کہ وہ ہیل والی جوتا پہننے کی ۔۔اگر پہہنے گی نہیں تو شادی والے دن چلے گی کیسے

رانیہ نے کہا ۔

نہئں ۔۔نہیں پلیز ۔۔میں نے کبھی نہیں پہنی ہیل ۔رانیہ یار تمھیں تو پتا بھی ہے مجھ یہ ہیل پہن کر نہیں چلا جاتا ۔۔

تو کیا شادی والے دن لہنگے کے نیچے چپل جوتا پہننے کا ارادہ ہے

رانیہ نے ہنستے ہوے کہا ۔۔

اشعر ۔۔تم بتاو ۔کیا کروں میں ۔۔
علیزے رہنے دو اگر وشمہ ہیل والے جوتے میں کپفرٹیبل نہیں ہے تو کوئی نارمل ہیل والا جوتا لے لے ۔۔

اور میں نہئں چاہتا ۔کہ اسکے چکر میں اسے کوئی چوٹ لگے

واہ ۔۔واہ چپ کرو مجنو ۔۔آج شام کو یہ تمھارے ساتھ یہ ہیل پہن کر جاے گی ۔۔تاکہ اسے پریکٹس ہو

**********************

علیزے اور رانیہ کے دب دبا سے وشمہ کو ہیل والا جوتا پہننا پڑا ۔۔
جیسے وہ گاڑی سے باہر نکلی ابھی تھوڑا آگے بڑھی تھی کہ
اچانک لڑکھڑائی لیکن اشعر نے اسے گرنے سے پہلے ہی تھام لیا ۔

فکر مت کرو تم جب جب گروں گی میں تمھیں ایسے ہی تھام لوں گا ۔۔
تھینکس ۔۔وشمہ نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔
اشعر نے
وشمہ کا ۔ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا ۔۔اور دونوں شاپنگ مال کی جانب بڑھے ۔

وہ دونوں اکھٹے بہت پیارے لگتے تھے ۔۔ایک پرفیکٹ کپل کی طرح ۔۔

ساری شاپنگ کرنے کے بعد ۔وہ اکٹھے بیٹھے ریسٹونٹ میں کھانا کھا رہے تھے ۔۔

اشعر میں نھ تم سے ایک بات کرنی ہے ۔۔
وشمہ نے سنجیدگی کہا

کیا ؟

وہ اشعر میں چاہتی ہوں کہ شادی کے بعد میں ۔۔امی ابا کو ۔اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہوں ۔۔کیونکہ مجھ سے بہتر ان کا دھیان کوئی نہیں رکھ سکتا

ہاں ضرور بلکے میں بھی تمھیں یہی کہنے والا تھا ۔۔
ویسے بھی مجھے اچھا لگے گا اگر انکل آنٹی اکٹھے ہمارے ساتھ رہے گے ۔۔

تھینک یوں ۔وشمہ نے مسکراتے ہوے کہا ۔

اٹس واکے ۔۔۔

**********************

ہاے ۔۔میں دلہن بنوں گی ۔۔گھنگٹ میں منہ چھپاے معصوموں کی طرح چہرہ بناے ۔۔ایک جگہ پر ٹک کر بیٹھنا ۔۔

نہیں ۔۔نہیں مجھ سے یہ نہیں ہو گا ۔۔
رانیہ ۔۔۔کتنا مشکل ہے یہ

بس ۔کر دو ۔وشمہ اپنی یہ فضول بکواس بند رکھو تم ۔۔
3 ۔4۔گھنٹے کی بات ہے ۔۔اپنی زبان کو تالہ لگا لینا ۔۔
پھر چاہے بعد میں ۔۔اشعر کا سر کھا جانا

میں تو اتنا نہیں بولتی ۔۔

ہا واقعی تم اتنا تو نہیں بولتی رانیہ نے طنزا کیا ۔۔

اچھا ۔۔دودھ پلائی میں ہی کروں گی
رانیہ نے وشمہ کی طرف دیکھتے ہوے کہا ۔۔

کیوں ۔۔تم کیوں کرو گی ۔۔وہ بھی میں ہی کر کوں گی تمھاری کوئی ضرورت نہیں

استغفراللہ ۔۔توبا ۔۔پہلی ایسی دلہن دیکھی ہے جو دودھ پلائی خود کرے گی ۔۔
اللہ بچاے تمھاری حرکتوں سے ۔۔

کیوں تو کیوں جل رہی ہے ۔۔۔

میں کیوں جلوں وہ بھی تم سے ۔۔

اچھا اچھا اب مر نہ تم ہی کر لینا میری سویٹ فرینڈ

**************************

دن قریب آگئے ۔۔آخر ۔۔وہ بھی دن آہی گیا ۔۔جب وشمہ اشعر گیلانی کی زندگی کا حصہ ۔۔بننے جا رہی تھی

آج وہ اپنی ساری زندگی ۔۔اشعر گیلانی کے ساتھ ۔۔بتانے والی تھی ۔۔
نکاح دستخط ۔۔۔نے ان دونوں کے رشتے کو اور مضبوط کر دیا ۔۔
اور
وشمہ ولہد سے وہ مسسز اشعر بن گئ ۔۔۔

وشمہ اور اشعر کے بہت کہنے کے باوجود بھی ۔۔ولید صاحب اور ثریا ۔بیگم ان کے ساتھ رہنے پر نہیں مانے تھے ۔۔
اسلیے وشمہ نے ان کی سہولیات کے لیے گھر میں نوکر رکھ دیے جو ان کی اچھی دیکھ بھال کر سکے ۔۔
وہ شادی کے جوڑے میں کیسی حور کی مانند لگ رہی تھی ۔۔اشعر کی نگاہ سے تو بیان نہیں ہو سکتا تھا ۔۔

ہر طرف بینڈ بھاجا ۔۔اور خوشیون کا سماں تھا ۔۔۔
علیزے اور زریاب نے ۔۔اشعر کے اہل خانہ کے طور پر ساری رسمیں بہت ۔۔اچھے طریقے سے ادا کی

****************************

توبا ۔۔اتنا بھاری ہے ۔۔یہ ۔۔وہ کمرے میں بیٹھے شانے اچکاے ۔۔دل میں باتیں کر رہی تھی ۔۔

چاہے جو بھی ہو جاے ۔۔اشعر میں اب تمھیں کبھی بھی ۔۔پھر اندھیرے کی طرف جانے نہیں دوں گی ۔۔میری ۔باتیں ۔۔چاہے تمھیں کیسے بھی لگے میں زندگی بھر تمھارے لیے اسی باتیں کرتی رہوں گی ۔۔

وہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ کمرے کا دروازہ کھولا ۔
جیسے اشعر کمرے میں داخل ہوا ۔
وہ وہی کھڑا ہو گیا ۔۔

جالی دار دوپٹے سے وشمہ اشعر کو دیکھ سکتی تھی ۔۔

ہاے ہاے 10 منٹ ہو گئے ہیں اسے کیا ہو گیا ۔۔ہے ۔۔وہی منجمد ہو گیا ۔۔
کہی مجھے چھوڑنے
نہیں نہیں ۔۔۔
اتنی گرمی لگ رہی اس پلو ۔۔میں

لیکن ۔۔ہزبینڈ صاحب آئیں گے تو یہ پلوں اٹھے گا ۔۔

10 منٹ سے زیادہ ٹائم ہو گیا ۔۔آخر کار وشمہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ۔

اس نے جلدی سے خود ہی پلوں اپنے چہرے سے ہٹایا ۔۔

حد ہوتی ہے ۔۔۔وشمہ ۔۔انتظار نہیں کر سکتی ۔تھی

کیا ۔۔میں انتظار کرتی ۔۔اور آپ ۔۔تب سے وہی بت بنے کھڑے مجھے دیکھے جا رہے تھے اوپر سے یہ اتنا بھاری ۔۔۔
تو میں کیا کرتی ۔۔۔
جیسے وشمہ نے کہا ۔۔
اشعر مسکرایا ۔۔

ولیکم مسسز اشعر آپ آج سے میری ہوئی ۔۔

اشعر نے اپنی پاکٹ سے رینگ نکالی ۔۔اور وشمک کے ہاتھ میں پہنائی ۔۔
ڈائمنڈ رینگ ۔۔
ہاں صرف تمھارے لیے کیونکہ میری زندگی میں سب سے قیمتی تم ہو ۔
میں دوسرے عاشقوں کی طرح یہ تو نہیں کہوں گا کہ میں تمھارے لیے چاند تارے توڑ لے آوں گا ۔۔
لیکن میں تم سے وعدہ کرتا ہوں ۔۔میری جب تک ۔سانسیں چلیں گی میں تب تک تمھارا ساتھ دوں گا چاہےوہ پھر خوشی ہو یا غم ۔۔
کیا تم اس سفر میں میری شریک حیات بن کر ساتھ دو گی

اشعر نے یہ کہتے ہوے اپنا ہاتھ آگے کیا ۔
وشمہ نے مسکراتے ہوے سر ہلایا
اور اشعر کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھا ۔۔

ویسے اشعر ۔۔
تم میرے لیے چاند تارے کیوں نہیں لا سکتے ۔۔
مطلب مجھے پتا تھا ۔۔کہ نہیں لاے جاسکتے
لیکن بندہ
دل رکھنے کے لیے ہی بول دیتا ہے لیکن تم ۔۔۔
نہیں صاف کہہ دیا ۔۔

اچھا ۔۔۔۔جب تمھیں چاند تارے کی ضرورت پڑے گی ۔۔پھر تب سوچ لیں گے ۔۔

ویسے میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیوں ناں اب میں نیو سیکرٹری رکھ لوں ۔۔

اچھا ۔۔پھر دوسری بیوی کا انتظام کر لیجیے گا ۔۔
جیسے
وشمہ نے کہا ۔۔
اشعر اور وشمہ اکھٹے ہنس دیے ۔۔

وہ سب سے الگ تھے ۔۔ایک دوسرے کے درد کو سمجھنے والے ۔۔ابھی بات ۔اشعر کے دل میں ہوتی تھی

کہ وشمہ پہلے ہی سمجھ جاتی تھی ۔۔
اشعر کے لیے زندگی اب ایک نعمت سے بڑھ کر نہیں تھی ۔۔
وہ اب اپنی زندگی میں وشمہ کے ساتھ بہت خوش تھا ۔۔

وشمہ اور اسکی باتیں آج بھی قیسی ہی تھی آج بھی وہ اشعر کو اتنا ہی ہنساتی تھی ۔۔۔

وقت ۔۔گزرتا ۔۔گیا ۔۔۔
پانی کی طرح بہتا گیا ۔۔۔
علیزے اور زریاب ۔۔۔بھی شادی کے ایک سہانے بندھن میں بندھ چکے تھے

آج بھی وہ سب اکٹھے اپنی خوشی مل کر مانتے

*********************************
تین سال بعد ۔

کچھ بھی نہیں ہے یہ جہاں تو ۔۔
ہے تو ہے اس میں زندگئ اب مجھ کو جانا ہے کہاں کہ تو ہی سفر آخری کہ تیرا بھی جینا ممکن نہیں نا دینا کبھی مجھ کو تو فاصلے میں تجھ کو کتنا چاہتی ہوں کہ تو کبھی سوچ نہ سکے
کہ تیری لیے دنیا چھوڑ دی ہے کہ تجھ پی ہی سانس آکے رکے میں تجھ کو کتنا چاہتی ہوں کہ تو کبھی سوچ نہ سکے

آج اشعر اور وشمہ کی ویڈینگ اینورسری تھی ۔۔۔
اس کو گانے کا شوق تھا اور آج وہ اشعر کے لیے ۔۔
گانا گا رہی تھی ۔۔۔۔سب کے چہرے پر خوشی تھی

اشعر سامنے بیٹھا وشمہ کو دیکھ رہا تھا ۔۔وہ آج بھی اتنی ہی خوبصورت تھی ۔۔
جتنی وہ پہلے تھی

(اگر مجھے تم کہی ملے ناں تو میں تمھیں مار دوں گی وہ بھی جان سے)

اسے وشمہ کی ساری باتیں یاد آگئ

******************************

ماما یہ ڈول کیوں نہیں بولتی

کیونکہ بیٹا یہ ہم نے خود بنائی ہیں ۔۔۔اور یہ بے جان ہیں

نہیں ماما دیکھتی تو ہماری جیسی ہیں ناں

ہاں میری پرنسیس ۔۔لیکن ۔۔جو چیز اللہ بناتے ہیں صرف وہی جاندار ہوتی ہے ۔اور یہ ڈولز ہم نے خود بنائی ہیں

ماما پھر ڈولز ۔اللہ کیوں نہیں بناتے

بناتے ہیں ناں ڈول ۔۔۔آپ ہماری ڈول ہی ہو ۔۔

تو ماما میں تو بولتئ ہوں ۔۔
پھر
کیونکہ آپ کو اللہ نے بنایا ہے ۔۔۔

ماما ۔۔میرا ایک اور question ہے جیسے مریم نے کہا

اوپر سے اشعر آگیا ۔۔
اگلا question بابا سے پوچھوں ۔۔
اشعر صبح سے میرا سر کھپا دیا ۔۔ہے ۔خود تو تم چلے جاتے ہو ۔۔

آخر بیٹی کس کی ہے
دیکھا ناں پتا چلا ناں ۔۔۔ایسے ہی مجھے ہوتا تھا جب تم اتنا بولتی تھی

اشعر نے ہسنتے ہوے کہاں

ہاں ۔۔ہاں ۔۔اڑا لو ۔۔مذاق ۔۔۔جیسے تم تو بڑے خاموش صفت انسان تھے ۔۔

ان کی بیٹی بھی بلکل وشمہ پر تھی ۔۔اتنے سارے سوال پوچھنے والی ۔۔چالاک ۔۔

بابا نانو۔۔سے ملنا ۔۔ہے ۔۔
جیسے مریم نے کہا ۔۔اشعر نے اسے اپنی گود میں اٹھایا ۔۔

چلو پرینسس ۔ابھی چلتے ہیں ۔۔

(دی اینڈ)