#تیرے_عشق_میں #از_اقراء_خان #قسط_نمبر_09 #حصہ…
#تیرے_عشق_میں
#از_اقراء_خان
#قسط_نمبر_09
#حصہ_دوم
کون ہے دروازہ کھولو ۔۔۔پلیز دروازہ کھولو ۔
علینہ یار یہ کیا بدتمیزی ہے دروازہ کھولو ۔۔میں نے فاعلز لے کر جانی ہے ۔۔
وشمہ آفس کے پچھلی سائیڈ کے بنے روم میں کھڑی چلا رہی تھی ۔۔
لیکن کوئی دروازہ نہیں کھول رہا تھا ۔
آفس کا سارا سٹاف میٹنگ روم میں موجود تھا آج انکے آفس کی آوٹ آف کنٹری سے بہت بڑی ڈئیل تھی جس کے لیے اشر نے سب سٹاف ممبرز کو اچھے سے کام کرنے کا کہا تھا ۔۔کیونکہ یہ ڈئیل انکے لیے حاصل کرنا بہت ضروری تھی ۔
جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں ہمارے کام میں نہ آج تک کوئی کوتاہئ ہوئی ہے اور نا ہو گی ۔اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں آپ ہماری کمپنی کے ساتھ اگلے دو سال کے کنٹریکٹ میں بہت سی چیزیں ایسی دیکھیے گے ہمارے سٹاف ممبر کا کام کرنے کا جنون ۔۔اور یقینا کوئی شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔
اشر سامنے ٹیبل کی سیٹ پر بیٹھا ڈیلرز کو بہت اچھی طرح سے ہینڈل کر رہا تھا ۔تمام سٹاف ممبرز موجود تھے سواے وشمہ کے ۔۔
جس کو اشر نے ۔ڈیئلرز کے ساتھ کنٹریکٹ سایئن کرنے والی فاعلز لینے کے لیے بھیجا تھا ۔
بیس منٹ سے زیادہ ٹائم گزر چکا تھا لیکن وشمہ ابھی تک نہیں آئی تھی ۔
آئی ایم ویری ایکسیٹڈ ۔۔کہ ہماری کمپنی آپ لوگوں کے ساتھ کام کرے گی آئی ایم شوئیر ہمارا دو سال کا سفر آپ لوگوں کے ساتھ اچھا رہے گا ۔۔
سو ۔ڈئیل ڈن ۔
ڈئیلرز کی اس بات پر سب مسکرا دیے ۔۔
لیکن اشر ابھی بھی انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
آدھا گھنٹا گزر چکا تھا ۔۔لیکن وشمہ ابھی تک نہیں آئی
کوئی ہے ۔۔دروازہ کھولو ۔۔علینہ خدا کے لیے ایسا تو مت کرو ۔ مجھے نہیں پتا تم مجھ سے اتنی نفرت کیوں کرتی ہو ۔پلیز مجھے باہر آنے دو ببہت ایمپورنٹ میٹنگ ہے پلیز مجھے جانے ۔
مے آئی کم این سر ۔
جیسے اشر نے آواز سنی اس نے فورا دیکھا لیکن وہاں وشمہ کی بجاے علینہ ہاتھ میں فاعلز لیے کھڑی تھی
یس
اشر نے جواب دیا ۔
یہ لیجیے سر علینہ آگے بڑھ کر اشر کو فاعلز دی ۔اور
ساتھ چیر پر بیٹھ گئ ۔
مس علینہ وشمہ کہا ہے ۔اشر نے مدھم آواز میں کہا
سر اس نے مجھے کہا کہ میں نہیں آوں گی میٹینگ میں اور نہ ہی مجھے آنے کا شوق ہے اسلیے مجھے لے کر آنی پڑی فاعل
علینہ کی بات سن کر اشر بلکل حیران رہ گیا ۔۔لیکن اس وقت اس نے اپنے غصے پر قابو رکھا
یہ لیجیے مسڑ منصور ۔۔تو پھر ۔سائین کریں ۔۔
اشر نے مسکراتے ہوے فاعلز ان کے آگے کی
یس ۔۔کیوں نہیں
ڈئیلرز نے مسکراتے ہوے فاعلز لی اور اگلے دو سال کا کنٹریکٹ پر دستخط کیے ۔
congratulation مسڑ گیلانی
تھینک یوں ۔۔سو مچ ۔
********************
کہاں ہے مس وشمہ میں پوچھ رہا ہوں ۔۔
سارا آفس کھڑا ہو گیا ۔سب کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئ ۔۔
سر وہ اوپر ہیں ۔علینہ نے معصومانہ چہرہ بناتے ہوے کہا ۔۔
جائیں بلا کر لائیں انھیں ۔۔
علینہ یہ کہتے ہوے گئ اور روم کا دروازہ کھولا ۔۔
جہاں وشمہ ۔بند تھی
اب وہ بلکل تھک چکی تھی اور ایک کونے میں بیٹھی تھی
جیسے دروازہ کھولنے کی آواز آئی وشمہ جلدی سے اٹھی
آو ۔مس وشمہ آو ۔۔تمھارا نیچے سب انتظار کر رہیں ہیں
علینہ نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔
وشمہ بلکل ہکا بھکا رہ گئ ۔۔
ت ۔۔۔تم ۔۔۔علینہ ایسا کیوں کر رہی ہو ۔۔
وشمہ نے لڑکھڑاتی زبان سے کہا ۔۔
او مائی ۔ڈئیر وشمہ ۔۔تمھیں کیا لگا ۔۔میں تمھارے ساتھ ایسا کیوں کر رہی ہوں ۔۔ تمھاری وجہ سے ۔۔مجھے ۔
اس سیٹ سے نکالا ۔گیا ۔۔صرف تمھاری وجہ سے مینجر علی نے مجھے سر اشر کی سیکرٹری بننے سے انکار کیا ۔۔
پتا نہیں تم میں ایسا کیا ہے ۔۔جو مجھ میں نہیں ۔۔
اور ۔۔تمھاری فیس ۔واہ کیا کہنے ۔۔ہم سے بھی زیادہ ۔
اور اوپر سے ۔تمھاری پاگلوں والی حرکتوں پہ سر اشر تمھیں کچھ نہیں کہتے ۔۔کیوں
بتاو مجھے ۔
مجھے تمھاری کیسی بات کی سمجھ نہیں آرہی
وشمہ نے علینہ کی طرف دیکھتے ہوے کہا ۔۔
سب سمجھ آ جاے گی ۔نیچے تو چلو
علینہ وشمہ کا ہاتھ کھینچتے ہوے اسے نیچے لے کر آئئ ۔
واہ۔۔مس وشمہ واہ۔۔کیا کہنے ہیں آپ کے
اشر طنزا تالیان بجاتے ہوے ۔وشمہ کی طرف بڑھے ۔۔
جو بلکل حیران تھی ۔
وہ ۔۔سر میری بات سنیے میں آپ کو سب بتاتی ہوں
وشمہ اس سے پہلے کچھ بولتی کہ اشر نے اس قدر غصے سے کہا
بس ۔۔کر دیں ۔۔ایک اور لفظ نہیں ۔۔
مجھے کچھ نہیں سننا ۔آپ نے کیا سمجھ رکھا اس آفس ۔کو ۔
بتائیں مجھے ۔۔آپ کو پتا بھی ہے آپ نے آج کیا کیا ہے ۔۔
مجھے بتا سکتی ہیں ۔آپ کی اس گھٹیا حرکت کی وجہ سے ۔۔پوری ڈئیل ۔ڈوب جانی تھی
لیکن آپ کو اس سے کیا ۔۔
آپ یہاں تو انجواے کرنی آتی ہیں ۔۔اپنی منمانی کرنی آتی ہے ۔۔اگر اج مس علینہ ٹائم پہ نا فاعلز لے کر آتی ۔۔تو آج ہماری کمپنی کا نام مٹی میں مل جانا تھا ۔
اور اس کی ذمہ دار صرف آپ ہیں ۔
سر ۔میری بات تو سنیے میں لے کر آنے لگی تھی
کیا ۔۔لے کر آنے لگی تھی ۔بس کر دیں کتنا جھوٹ بولیں گی ۔مجھے بتا دیا ہے مس علینہ نے ۔
آ پ جیسے لوگ اس قابل نہیں ہے کہ آپکو کام پر رکھا جاے ۔میں نے کیا کہا تھا ۔۔کہ کام کے وقت صرف کام ۔۔اسکے علاوہ کچھ نہیں لیکن ۔۔آپ تو کیسی کو کچھ سمجتی نہیں
میں پاگل تھا ۔۔جو سمجھا نہیں آپ جیسی مرضی حرکتیں کر لیں لیکن کام کے لیے سیریس ہیں لیکن نہیں ۔۔
میں غلط تھا
سر ۔۔دروازہ کیسی نے ۔۔
بکواس بند ۔۔رکھیں آپ ۔۔
میں کچھ نہیں سنوں گا
اس سے پہلے میں اور کچھ کہہ دوں ۔۔
میں آپ کو
ابھی اسی وقت جوب سے نکالتا ہوں
جیسے وشمہ نے سنا وہ وہی ۔۔دھک ۔۔کھڑی رہ گئ
اس کہ پاس اب اپنی صفائی دینے کے لیے کچھ نہیں تھا
سارے سٹاف ممبر حیران تھے سواے علینہ کے ۔وہ شروع سے وشمہ سے چڑتی تھی کہ سر اشر اسے کچھ نہیں کہتے وشمہ سے پہلے اس نے سیکڑری کے لیے اپلائی کیا
لیکن مینجر علی کے کہنے پر انھیں سیٹ نہیں دی گئ تب سے لے خر وہ وشمہ سے نفرت کرتی تھی
آپ جیسے ۔۔لوگ کو تھوڑی سی ڈھیل کیا دے دیں ۔۔
سر پر چڑھ جاتے ہیں
سر خدا کے لیے ایک دفعہ میری بات سن لیں میں آپ کو سب سچ بتاتی ہوں
اپنا سچ اپنے پاس رکھیں اینڈ گیٹ آوٹ
سرپلیز ایک دفعہ
سیکیورٹی نکالیں انھیں یہاں سے ۔۔
اشر یہ کہتے ہوے اپنے کیبن کی جانب بڑھ گیا
وشمہ وہی کھڑی تھی آج اس کے پاس اپنے اپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا ۔
چلیں مس وشمہ سنائی نہیں دیا ۔۔۔اپ کو علینہ نے طنزا مسکراتے ہوے کہا ۔
********************
میں آپکو ابھی اسی وقت جوب سے نکالتا ہوں
وہ بے ہوش و حواس چل رہی تھی آنسو دریا کی طرح بہہ رہے تھے
اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اسے زندگی نے اتنا بڑا درد دیا ۔
وہ سچی تھی لیکن آج وہ اپنے آپ کو سچا ثاپت نہ کر پائی
اشر نے کیبن میں اتے ٹیبل پر پڑی چیزوں پر اپنا غصہ نکالا ۔
کیوں کیا وشمہ تم نے ایسا کیوں کیا ۔۔
وہ اپنے آپ کو کوس رہا تھا وہ وشمہ کو نہیں نکالنا چاہتا تھا ۔لیکن پھر بھی اسے یہ کرنا پڑا
وہ خاموشی سے چیر پر بیٹھ گیا کہ دروازے پہ دستک ہوئی
کم این ۔اشر نے اندر انے کی اجازت دی ۔
زریاب کمرے میں داخل ہوا ۔۔
اسکے چہرے کے تاثرات سے واضح تھا کہ اسے ساری بات کا علم ہو چکا تھا ۔
اشر یہ کیا تم نے ؟
مطلب
مطلب تم اچھے سے جانتے ہو ۔
اس نے رولز بریک کیے تھے ۔۔
تو کیا اسے جوب سے ہی نکال دیا ۔اشر تم پاگل تو نہیں ہو گئے ۔۔
ائی نو اگر وہ فاعل ٹائم پہ نا اتی تو بہت نقصان ہونا تھا
لیکن ایک دفعہ تو اسکی بات سن لیتے ۔
وہ اتنی دفعہ کہہ رہئ تھی لیکن تم نے اسکی ایک بات نہیں سنی
زریاب کیا سنتا اس کی بات میں ۔۔مجھے مس علینہ بتا دیا تھا اسکا خود دل نہیں کر ہا تھا
اچھا مس علینہ نے بتایا اور تم نے یقین کر لیا ۔تمھیں ۔۔پتابھی ہے اشر وشمہ چاہے جیسی بھی ہے لیکن وہ اپنا کام پوری ایمانداری سے کرتی ہے
پھر تم کیسے اس کی بات پر یقین کر سکتے ہو
زریاب پلیز سٹاپ اٹ میں ابھی کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔
مجھے کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دو
*********************
رانیہ یار میرا قصور نہیں تھا ۔۔اس علینہ نے روم کو لاک کر دیا
میں فاعک لینے جارہی تھی کہ اس نے مجھ سے فاعلز کھینچ کر روم میں لاک کر دیا ۔
یار
مجھے خود نہیں ہتا وہ مجھ سے کیوں چڑتی ہے کہتی ہے تم نے اسکی سیٹ چھینی ہے ۔۔
وشمہ رو رہی تھی ۔۔رانیہ نے اسکو اپنے ساتھ گلے لگا لیا
چپ کر جاو ۔وشمہ بھاڑ میں جاے جوب ۔۔ہم کوئی اور جوب ڈھونڈ لیں گے
لیکن رانیہ میرا قصور کیا ہے سر اشر نے پورے آفس کے سامنے میری انسلٹ کی ۔
میں اب کیا کروں گی اگے اتنی مشکل سے یہ جوب ملی تجی کیا ابا کو بتاوں گی
وشمہ ۔۔وشمک چپ کر جاو میں ہوں نا تمھارے ساتھ ۔۔
ہم کوئی اور جوب ڈھونڈ لیں گے
لیکن رانیہ میں اشر کو نہیں چھوڑ سکتی جیسے وشمہ نے کہا
رانیہ حیران رہ گئ
کیا وشمہ کیا کہا ۔۔تم نے
ہاں رانیہ میں اشر کو پسند کرتی ہوں مخھے نہیں پتا یہ کیسے ہوا کب ہوا لیکن میں اسکے علاوہ کیس کا سوچ نہیں سکتی وہ جیسا بھی ہے غصے والا لیکن وہ دل سے بہت اچھا ہے
اور تمھیں لگتا ہے اشر تمھیں پسند کرتا ہو گا
شائد ۔۔یا نہیں ۔۔مجھے نہیں پتا
وشمہ پاگلوں والی حرکت نہ کرو ۔۔اپنا سٹینڈرڈ دیکھو اور اشر کا ۔۔
یہ کبھی سوچنا بھی مت ۔
اچھا ہوا جو تم جوب سے نکل گئ اگر اور کچھ ہوتا تو ۔
رانیہ اس میں میرا کیا قصور ۔
قصور تو اس دل کا ہے ۔۔نا
بس وشمہ اب کچھ نہیں کہو گی ۔
سو جاو
رانیہ نے یہ کہتے ہوے وشمہ کے روم سے باہر نکل گئ ۔
وہ آج رات وشمہ کے گھر ہی رکی تھی
جارہ ہے