#تیرے_عشق_میں #از_اقراء_خان #قسط_نمبر_09 #حصہ…
#تیرے_عشق_میں
#از_اقراء_خان
#قسط_نمبر_09
#حصہ_اول
بابا جانی اشر نے سڑھیوں سے اترتے ہوے بابا جی ( ملازم) کو آواز دی جیسے انہوں نے اپنے نام کی پکار سنی وہ فورا اشر کی جانب بڑھے جو آفس جانے کے لیے تیار کھڑا تھا ۔۔
جی کہیے بیٹا ؟
انہوں نے تحمل لہجے میں کہا ۔
وہ میں کہہ رہا تھا جو مہمان آئی ہیں اگر وہ جانے کا کہے تو انھیں جانے نا دیجیے گا ۔
لیکن کیوں بیٹا
اسلیے کہ وہ ابھی اچھی طرح چل نہیں سکتی انھیں کافی چوٹیں آئی ہیں اسلیے جب میں آفس سے واپس آوں گا تو خود انھیں واپس چھوڑ آوں گا
ٹھیک ہے
جی جیسا آپ مناسب سمجھے
اشر نے ہلکی سی مسکراہٹ سے بابا جی ( ملازم) کی طرف دیکھا اور راہداری کی جانب بڑا
***************************
مس وشمہ میری بات سنیں یہ فاعل چیک کریں ۔
جیسے اشر نے کہا وہ ایک دم سے رک گیا ۔۔اسنے وشمہ کی کیبن کی طرف دیکھا جہاں کوئی نہیں تھا ۔
لگتا ہے میں نے پاگل ہو جانا ہے اشر گیلانی
اس نے اپنے دل میں سوچا ۔۔وہ جتنی مرضی کوشش کر لے لیکن اسکا ذہین بار بار وشمہ کی طرف رہتا ۔۔
میں جیسے پاگل سی لڑکی سمجھتا تھا ۔۔وہ اتنی دکھی ہو سکتی ہے ۔۔میرے خیال تھا کہ وشمہ ایک ایسی لڑکی ہے جس کی زندگی میں کوئی غم نہیں ۔
لیکن میں غلط تھا ۔۔۔وہ ایک واقعی بہادر لڑکی ہے وہ حالات سے گھبراتی نہیں بلکلے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوتی ہے ۔۔وہ میری طرح نہیں ہے
اشر انہی سوچوں میں گم تھا کہ گھر سے کال آئی ۔
گھر سے کال خیریت ہو ۔۔
جیسے اشر نے کال اٹھائی اور اسے بہت شور سنائی دیا ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی اونچی بول رہا ہو ۔
اسلام و علیکم بابا جانی ۔۔خیریت ہے آپ نے کال کی یہ ۔۔یہ شور کیسا ہے سب ٹھیک ہے
بابا جی ۔۔کان میں فون لگاے بول رہے شور کے باعث انھیں آواز سنائی نہیں دے رہی تھی
بیٹا ۔۔آواز ارہی ہے کیا
ہاں ۔ہاں بولے یہ وشمہ کیوں اتنا اونچا بول رہی ہے اشر نے سوچا۔۔
۔
وشمہ اپنے اوپر کمبل اوڑے لیٹی ۔۔تھی اور اونچی اونچی آواز میں کہہ رہی تھی
نہیں نہیں میں نہیں لگاوں گی پلیز میرے پاس مت ایے گا ۔۔ورنہ ۔۔
ورنہ میں کہہ رہی ہوں میں ۔۔کچھ کر لوں گی
بی بی جی ۔۔اگر دوائی نہیں لگاے گی تو زخم کیسے ٹھیک ہوں گے ۔
دیکھیے اپ کو پتا نہیں چلے گا
ارے کیسے پتا نہیں چلے گا اللہ اتنی جلن ہوتی ہے ۔نہیں میں تو کبھی نہیں آپ لوگ مجھے جانے کیوں نہیں دے رہے ۔۔قسم سے میں وعدہ کرتی ہوں میں گھر جا کر لگا لوں گی دوائی بس مجھے جانے دے
سن لیا بیٹا آپ نے
اب بتاے ہم کیا کریئں جانے دیئں انھیں
جیسے بابا جی نے کہا
اشر فورا بولا ۔
نہیں نہیں ۔۔رکیے میں آتا ہوں ۔
اشر نے کہا اور فورا ۔آفس سے باہر نکلا ۔
یہ لڑکی واقعی پاگل ہے ۔۔
وہ تیزی سے نکل رہا تھا کہ سامنے سے علیزے اور زریاب آتے ہوے معلوم ہوے ۔۔زریاب نے اشر کو یوں دیکھا تو وہ وہی رک گیا ۔
اشر کیا ہوا ہے سب ٹھیک تو ہے نا ۔۔
جیسے زریاب نے پوچھا اشر نے جلدی سے کہا
ہاں ۔۔ہاں سب ٹھیک بس وشمہ ۔۔۔کو دیکھنا ہے ٹھیک نہیں ۔
اشر نے کہا اور فورا ۔گاڑی میں بیٹھ گیا ۔
جیسے زریاب نے سنا اس نے مسکراتے ہوے علیزے کی طرف دیکھا جو خود اشر کی بات سن کے حیران تھی دیکھ لو میں نے کیا کہا تھا
**********************
لیے مجھے دیں ۔۔اشر نے میڈیسن بکس لیا اور وسمہ کے روم کی جانب بڑا ۔۔
سر ۔۔۔آپ ۔۔
اللہ کا شکر ہے آپ اگئے ۔۔سر نہیں تو آج میں نے مر جانا تھا ۔
آپ کو پتا ہے آپ کھ گھر کے ملازم بھی اتنے سخت دل ہیں بلکل آپ کی طرح میں تبی سوچتی تھی کہ آپ اتنے اکڑو کیسے ہو سکتے ہیں اب جا کر پتا چلا ۔۔آپ کے گھر کے سارے ملازم بھی بلکل آپ کی طرح سخت دل ہیں کیسی کی بات نہیں سنتے ۔۔
آپ کو پتا ہے میں معصوموں کی طرح پکار رہی تھی کہ پلیز مجھے دوائی نہ لگایئں اتنی جلن ہوتی ہے لیکن نہیں ۔۔۔
آپ پر گئے ہیں نا ۔۔۔
لیکن میں بھی ۔۔وشمہ ہوں کیسی کو آگے آنے نہیں دیا ۔
اشر جو تب سے خاموش کھڑا وشمہ کی باتیں سن رہا تھا ۔
وہ آگے بڑھا ۔
سر مجھے پتا تھا آپ میری سائیڈ پہ ہوں گے اچھا سر مجھے اجازت دیئں میں چلتی ہوں ۔۔
جیسے وشمہ بیڈ سے اٹھنے لگی
اشر نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔
بس ۔ہو گیا ۔۔
اب ایک اور لفظ نہیں بولو گی تم جو کہنا تھا وہ کہہ لیا ۔۔۔اب خاموش ہو جاو ۔۔
وشمہ نے بولنے کی کوشش کی لیکن اشر نے پھر اسے خاموش کر دیا
میں نے کہا نا اب تم کچھ نہیں بولو گی ۔۔بچی ہو کیا ۔جو ایسے دوائی لگانے سے ڈارتی ہو وشمہ وشمہ تم بڑی ہو چکی ہو ۔۔ایسے اچھا لگتا ہے ۔۔کیا سوچتے ہوںگے سب لیکن نہیں تم ۔۔میں اب بھی بچوں والی حرکتیں ہیں گھر جانا ہے نا ۔۔ٹھیک ہے میں چھوڑ آتا ہوں ۔۔
لو ہو بھی گیا ۔۔۔
اشر نے میڈیسن بکس سائیڈ پہ رکھا ۔۔
واہ مجھے تو پتا بھی نہیں چلا ۔۔۔ضرور آپ نے کچھ ملایا ہو گا ۔
وشمہ نے جیسے کہا اشر ہلکا سا مسکرایا ۔۔
نہیں کچھ نہیں ملایا کچھ نہیں ہوتا تم ایسے ہی ڈرتی ہو ۔۔
اچھا سر اب مجھے اجازت دیں میں جاتی ہوں
کیسے جائیں گی ۔۔
اشر نے سوال کیا ۔
وشمہ ٹھر گئ ۔۔
مطلب کیسے ۔۔پاوں سے چل کے
میں چھوڑ آتا ہوں
نہیں نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے میرے پاس اپنا وائلٹ ہے ۔۔
ہاں لیکن ابھی تو گھر ہے
اشر کی اس بات پر وشمہ چونک گئ
آپ کو کیسے پتا ۔
جیسے بھی پتا ہو ۔۔چلو آو میں چھوڑ دیتا ہوں
*******************
روکو میں مدد کرتا ہوں اشر نے کہا اور گاڑی سے فورا باہر نکلا اور وشمہ کو سہارا دیا اور باہر نکلا ۔۔
وشمہ مسلسل اشر کو دیکھ رہی تھی ۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ بندہ اسکی زندگی کا نا چاہتے ہوے بھی مرکز بنتا جا رہا تھا ۔۔وہ کیوں بار بار اسخے اور کھینچی جا رہی تھی ۔۔
اشر نے وشمہ کا ہاتھ پکڑے اسے اسکے گھر کے دروازے تک چھوڑ کے آیا
تھینک یوں سر آیے اندر آیے
نہیں نہیں میں اب جاتا ہوں
وشمہ اشر کی طرف دیکھ کے مسکرائی اور اندر کے جانب بڑھ گئ
وہ وہی کھڑا اسے دیکھ رہا تھا
یہ محبت ہے یا آغاز عشق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
***************************
دو دن بعد
دروازہ کھولو ۔۔۔میں کہہ رہی ہوں دروازہ کھولو ۔۔
کون ۔۔ہےط۔
پلیز خدا کے لیے دروازہ کھو لو
وشمہ دروازے کے قریب کھڑی ۔۔زور زور سے دستک دے رہی تھی ۔۔۔
جاری ہے