منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#تیری_دیوانی_از_سحرعلی #قسط_5 دو دن گزر گئے زاو…


#تیری_دیوانی_از_سحرعلی
#قسط_5

دو دن گزر گئے زاویار ابھی تک نہیں آیا۔۔ زرتاشہ کا دل بہت اداس ہو رہا تھا۔۔ آج اتوار تھا تو سب گھر والے اکٹھے ناشتے کی میز پر موجود تھے۔۔ شہناز بیگم اور احمد صاحب بھی سب کے ساتھ تھے۔۔
ناشتے سے فارغ ہو کر سب لوگ لاؤنج میں آگئے۔۔
چلیں بھئی بڑے پاپا آج ایک گیم ہو جائے۔۔ تابش نے شطرنج ان کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔
ہاں بھئی کیوں نہیں۔۔ ویسے بھی کافی دن ہو گئے تمہیں ہرایا نہیں۔۔ انہوں نے جوشیلے انداز میں کہا۔
تابش نے قہقہا لگایا۔۔ فکر مت کریں بڑے پاپا آج بھی آپ کی یہ حسرت، حسرت ہی رہ جائے گی۔۔
چلیں جی پہلی باری آپ کی۔۔ کیا یاد کریں گے کس سخی سے پالا پڑا اس نے فرضی کالر جھاڑے۔
اچھا تو یہ بات ہے۔۔ لو پھر چلو اب۔۔ کچھ سوچ کر انہوں نے اپنی باری لی۔۔
بڑے پاپا آج آپ نے بھئیا کو جیتنے نہیں دینا۔۔ زرتاشہ بھی ان کے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔
ارے میرا شیر آگیا ہے میرے ساتھ اب مجھے کوئی ہرا ہی نہیں سکتا۔۔ احمد صاحب نے اسے فخر سے ساتھ لگایا تو وہ مسکرا دی۔
باتوں باتوں میں پتہ ہی نہ چلا اور احمد ملک بازی لے گئے۔۔
یاہو۔۔ ہم جیت گئے۔۔ لوزر لوزر۔۔ زرتاشہ چلانے لگی۔
یہ سراسر چیٹنگ ہے بڑے پاپا۔۔ میں نہیں مانتا۔۔ آپ نے اس چیٹر کو ساتھ بٹھایا ہوا ہے ضرور اس نے ہاتھ مارا ہو گا۔۔ تابش سے اپنی ہار برداشت نہ ہوئی تو سارا الزام زرتاشہ کے سر تھوپ دیا۔۔
مگر اس پر ذرہ بھی فرق نہ پڑا وہ مسلسل ہنستی جا رہی تھی۔۔
ارے بھئی ہار گئے ہو تو اپنی ہار تسلیم کر کے بڑےپن کا ثبوت دو۔۔ ایسے کیا بچوں کی طرح رونے بیٹھ گئے ہو۔۔ احمد صاحب نے بھی اسے تپانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی۔۔
ہاں ہاں۔۔ چیٹنگ سے جیت کر بڑا فخر محسوس کر رہے ہیں آئیں ایک اور گیم ہو جائے۔۔ سہی آپ پہ نظر رکھوں گا اور اس چیٹر کو اٹھائیں ادھر سے۔۔ تابش نے زرتاشہ کی طرف اشارہ کیا۔
ہاہا۔۔ مان جائیں بھئیا اب آپ ہار چکے ہیں۔۔
چلیں چھوڑیں اب لوڈو کھیلتے ہیں۔۔۔ پاس بیٹھی مومنہ جو کب سے یہ سب ہوتا دیکھ رہی تھی کہنے لگی۔۔
ہاں یہ سہی ہے پارٹنر پارٹنر۔۔ میری پارٹنر مومنہ۔۔ اب دیکھتا ہوں کیسے جیتو گی تم۔۔ تابش نے زرتاشہ کی ناک دباتے ہوئے کہا۔۔
مگر میرا پارٹنر تو ہے ہی نہیں۔۔ اس کا اشارہ زاویار کی جانب تھا۔
تو تم بڑے پاپا کو بنا لو نا پارٹنر۔۔ کیوں بڑے پاپا؟ مونہ نے مشورہ دیا۔
رہنے دیں۔۔ بڑے پاپا کے تو کبھی چھ ہی نہیں آتے۔۔ اس نے منہ بنایا تو سب ہنسنے لگے۔۔
اسلام و علیکم۔۔ زاویار نے اندر داخل ہوتے ہی سب کو سلام کیا۔
واعلیکم اسلام۔۔ سب نے جواب دیا۔۔ آگئے بیٹا۔۔ کیسا رہا سفر؟
شہناز بیگم شفقت بھرے انداز میں پوچھا۔
ٹھیک تھا ماما۔۔ اس نے مختصر جواب دیا۔
ہاں بھئی مبارک ہو دوست۔۔ تو تو چھا گیا۔۔ تابش بھی اٹھ کر اسے مصافحہ کرنے لگا۔۔ وہ بھی مسکرایا۔۔
ارے میں نے کیا کیا ہے سب کمال تو چاچو کا تھا۔۔ میں نے تو بس تھوڑا کنونس کیا انہیں۔۔ زاویار نے احسن صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
ارے میرے بیٹوں کی محنت سے آج ہمیں اتنی ترقی ملی ہے۔۔ مجھے تم دونوں پہ فخر ہے۔۔
تھینکس چاچو۔۔ زاویار نے شکریہ ادا کیا۔
ارے ہمیں بھی کوئی بتا دے کیا ہو رہا ہے یہاں۔
دادی جو کافی دیر سے ان کی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔ جب کچھ پلے نہ پڑا تو پوچھنے لگیں۔
ارے اماں ہمیں بہت بڑا پراجیکٹ ملا ہے۔۔ جس کی وجہ سے ہماری کمپنی کو بہت فائدہ ہو گا اور یہ سب آپ کے ان دونوں پوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔۔ احمد صاحب نے فخریہ انداز میں کہا۔
اچھا اچھا۔۔ ماشأاﷲ۔۔ بہت مبار ہو سب کو۔۔ میں شکرانے کے نفل ادا کر لوں۔۔ تم سب بھی کرنا۔۔ اپنی خوشی میں اپنے رب کو یاد رکھو تو وہ بہت خوش ہوتا ہے۔۔ پھر اور زیادہ نوازتا ہے۔۔ ہمیشہ کی طرح وہ نصیحت کرنا نہیں بھولیں۔
بے شک اماں۔۔ یہ اللہ کی دین ہی ہے کہ اس نے ہمیں اتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔۔ سب سے بڑی نعمت نیک اولاد ہے۔۔ جواب شہناز بیگم نے دیا۔
ہاں بہو سہی کہتی ہو۔۔ اللہ میرے بچوں کو برے وقت سے بچائے۔۔ اور ہاں صدقہ ضرور دے دینا۔۔ اللہ ہمارے گھر کو ہر بلا سے محفوظ رکھے۔۔ وہ دعا دیتیں اپنے کمرے کی جانب چل دیں۔
آمین۔۔ سب نے کہا۔
اور بھئی کیا چل رہا ہے؟ زاویار نے تابش سے کہا جو لوڈو پر گوٹیاں سیٹ کر رہا تھا۔
گیم کھیلنے لگے تھے۔۔ اس میڈم کا پارٹنر غائب تھا تو ڈیسائیڈ کر رہے تھے کسے بنایا جائے پارٹنر۔۔ اب تم آگئے ہو تو مسئلہ ہی حل ہو گیا۔ تابش نے ساری بات بتائی۔۔
ارے بھئی میں بہت تھکا ہوا ہوں۔۔ بھابھی پہلے تو مجھے اچھا سا ناشتہ بنا کر دیں۔ پھر سوچوں گا کھیلنا ہے یا نہیں۔۔ اس نے ہری جھنڈی دکھائی۔
زرتاشہ مسلسل زاویار کو دیکھ رہی تھی۔۔ اس کا انداز پہلے جیسا تھا مگر اسے یوں محسوس ہوا وہ اسے نظر انداز کر رہا ہے۔
جی جیٹھ جی ابھی لائی ناشتہ۔۔ آج تو بڑی ماما نے بہت مزے کی حلوہ پوری بنائی ہے۔۔ ساتھ میں لسی۔۔ مومنہ کہہ کے کچن کی طرف آگئی۔
سب بڑے اٹھ کر احسن صاحب کے کمرے میں جا چکے تھے۔۔ انہیں زرتاشہ کے رشتے کے متعلق بات کرنی تھی۔
کچھ دیر میں مومنہ زاویار کے لیےناشتہ ٹیبل پر لگا چکی تھی۔۔
ناشتے سے فارغ ہو کر وہ کچھ دیر آرام کی غرض سے اپنے گھر چلا گیا۔
زرتاشہ نے جیسے تیسے یہ وقت گزارا۔۔ شام ہوئی تو وہ زاویار کے پاس جانے کے لیے اٹھ گئی۔۔
مومنہ بھابھی دروازہ کھول کر اس کے کمرے میں داخل ہوئیں۔۔ زرتاشہ کو ہاتھ میں کتابیں لیے کھڑے دیکھ کر پوچھا۔۔ کہیں جا رہی ہو؟
جی بھابھی زاویار بھائی کے پاس جا رہی ہوں۔۔ کچھ اسائنمنٹ بنانی ہیں سمجھ ہی نہیں آرہی۔
اچھا چلی جانا پہلے میری بات سن لو۔۔ انہوں نے بیڈ پر بیٹھ کر اسے بھی ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
جی۔۔ خیریت ؟
ہاں۔۔ یار وہ صبح سب ڈیڈ کے کمرے میں بیٹھے تھے ناں۔۔
جی۔۔ تو؟
وہ تمہارے اسی پرپوزل کے متعلق بات کر رہے تھے۔۔ لڑکے والے بار بار ڈیڈ سے پوچھ رہے ہیں۔۔
تو دیڈ نے کیا کہا؟ زرتاشہ کے دل کو کچھ ہوا۔
یار کیا کہنا ہے۔۔ وہ تم سے پوچھے بغیر تو انہیں کوئی جواب نہیں نا دیں گے۔۔ اسی لیے مجھے بھیجا ہے تم سے پوچھنے کے لیے۔۔ مومنہ نے اسے تفصیل سے آگاہ کیا۔
زرتاشہ نے کوئی جواب نہ دیا۔۔ اس کے ذہن میں ایک بار پھر ہانیہ اور بسمہ کی باتیں گردش کر نے لگیں۔۔
کیا ہوا چندا کیا سوچ رہی ہو؟ اسے کسی سوچ میں غرق دیکھ کر مومنہ بھابھی نے پوچھا۔
جی۔۔ اس نے چونک کر انہیں دیکھا۔۔ کچھ نہیں بس ایسے ہی۔۔
اچھا چلو ٹھیک تم اچھی طرح سوچ لو پھر جواب دینا۔۔ ویسے لڑکا اچھا ہے۔۔ فیملی بھی جانی پہچانی ہے۔
مگر بھابھی میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔ ابھی میں نے بہت پڑھنا ہے۔۔ اس نے اعتراض کیا۔
ارے بھئی ہم کونسا تمہاری شادی اتنی جلدی کریں گے۔۔ ابھی تو صرف رشتہ پکا کرنے کا سوچا ہے۔۔ تم سکون سے سوچو پھر جواب دینا۔۔ چلو اب جاؤ تم پڑھ لو۔۔ انہوں نے اس کے رخسار کو چھوا۔
اوکے بھابھی میں چلتی ہوں۔۔ وہ بھی اپنی کتابیں اٹھا کر احمد ہاوس کی جانب چل دی۔
وہ چلتی ہوئی سیدھا زاویار کے کمرے کی طرف گئی دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔
آجائیں۔۔ اندر سے آواز آئی تو وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔
اسلام علیکم۔۔ آپ کیا کمرے میں اندھیرا کر کے بیٹھے ہیں۔۔ اس نے اپنے لہجے کو نارمل رکھے کہا اور ساتھ ہی سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر ساری لائٹیں جلا دیں۔۔ کمرہ ایک دم روشن ہو گیا۔
زاویار جو بیڈ پر نیم دراز تھا زرتاشہ کی آواز سنتے ہی بیٹھ گیا۔
تم۔۔ تم کیوں آئی ہو؟
زرتاشہ نے پہلے تو اسے حیرت سے دیکھا کیونکہ وہ اس سے اس سوال کی توقع نہیں رکھتی تھی۔۔ پھر الٹا سوال کیا۔۔ کیوں زاویار بھائی میں یہاں نہیں آسکتی؟ آواز روندھ گئی۔
نہیں نہیں۔۔ میرا مطلب تھا۔۔ اٹس یور سٹڈی ٹائم ناں۔۔ اس لیے پوچھا۔۔ اس نے فوراً بات بدلی۔
جی۔۔ اسائنمنٹ بنانی تھی۔۔ سمجھ نہیں آرہی تھی اس لیے سوچا آپ سے سمجھ لوں۔۔ بات کے دوران اس کی نظر مسلسل زاویار کے چہرے پر تھی۔۔ جیسے کچھ کھوجنے کی کوشش کر رہی ہو۔
ہمم۔۔ تابش گھر پہ نہیں ہے کیا؟ زاویار نے اگلا سوال کیا۔
گھر ہی تھے بھئیا۔۔ ڈیڈ کے روم میں تھے۔۔ اس لیے آپ کے پاس چلی آئی۔۔ آپ نہیں سمجھانا چاہتے۔۔ تو۔۔ ٹھیک ہے میں چلی جاتی ہوں۔۔ اس سے زاویار کا رویہ برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔ آج سے پہلے اس نے کبھی اس طرح سوال نہیں کیے۔۔ وہ تو اس کے کہنے سے پہلے ہر بات سمجھ جاتا تھا۔۔ وہ کہہ کر جانے لگی تو زاویار نے اسے آواز دی۔
رکو تاشہ۔۔ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔ آؤ ادھر سمجھا دوں۔۔ اس کا اتنا کہنا تھا کہ زرتاشہ نے فوراً اس کے پاس جگہ سنبھالی۔
ہاں بتاؤ کیا سمجھ نہیں آرہا؟ زاویار کے چہرے پر اب بھی سنجیدگی چھائی رہی۔
یہ ہی کہ آپ اتنے دن مجھ سے نارض کیسے رہ سکتے ہیں۔۔ اس نے زاویار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بلا جھجک کہا۔
وہ اس کی بات اور اس انداز پہ چونکا۔۔۔ پھر اسی کے انداز میں جواب دیا۔۔ حیرت ہے تمہیں احساس ہو گیا۔۔
زاویار بھائی۔۔ آپ۔۔ پلز۔۔ اس طرح مجھ سے بات مت کریں۔۔ بہت اجنبی لگ رہے ہیں۔۔ اس نے بمشکل اپنی بات مکمل کی۔۔
میں اجنبی نہیں تم بڑی ہو گئی ہو۔۔ مجھے بھی لگتا ہے میں کچھ زیادہ ہی تم پر حکم چلاتا ہوں۔۔ اس لیے فیصلہ کیا تمہیں تمہاری زندگی جینے دوں۔۔ اس نے مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا۔۔ اس مسکراہٹ میں درد واضح تھا۔۔
آئی ایم سوری زار بھائی۔۔ پلیز ایسے بات مت کریں مجھ سے۔۔
زرتاشہ اس کے سینے سے سر ٹکائے آنسو بہانے لگی۔
تاشہ۔۔ تاشہ چندا پلیز۔۔ مت رو۔۔ ادھر دیکھو میری طرف۔۔ زرتاشہ کے آنسو دیکھ کر زاویار کو لگا جیسے اس کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو۔۔
وہ اپنے کہے گئے سخت الفاظ پر شرمندہ ہوا۔۔ زرتاشہ ابھی بھی اس کے سینے سے لگی آنسو بہا رہی تھی۔۔ بلکہ اس کے آنسوؤں میں روانی آگئی تھی۔۔ زاویار کو سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ اسے کس طرح چپ کروائے۔۔ اس نے اس کی کمر گرد بازو حائل کیے اور ایک ہاتھ سے اس کا سر سہلانے لگا۔۔
اچھا ناں سوری تاشہ۔۔ میری پرنسز ہو ناں میری بات مانو۔۔ بس اب رونا نہیں۔۔ زاویار اسے بچوں کی طرح چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ مگر زرتاشہ نے تو جیسے چپ نہ ہونے کی قسم کھا رکھی تھی۔۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کس بات پر رو رہی ہے۔
باہر سے گزرتیں شہناز بیگم نے ان دونوں کو اس طرح دیکھا تو اندر چلی آئیں۔۔
ارے کیا ہوا بیٹے۔۔ کیوں رو رہی ہو؟ وہ اسے اس طرح روتے دیکھ کر گھبرا گئیں۔
کچھ نہیں ماما۔۔ وہ بس میں نے تھوڑا سا ڈانٹ دیا تو۔۔ زاویار نے بات بنائی۔
بہت برے ہو تم میری بیٹی کو رلا دیا۔۔ ادھر آو میرا بچہ۔۔ مجھے بتاؤ کیوں ڈانٹا اس نے تمہیں۔۔ میں اس کے دو لگاتی ہوں۔۔ انہوں نے زرتاشہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔۔ اور پیشانی پر بوسہ دیا۔۔ اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھیں۔۔ انہوں نے زاویار کی طرف غصے سے دیکھا۔
بتاؤ کیوں رلایا ہے اتنا میری بچی کو؟ اب انہوں نے ایک ہاتھ سے زاویار کا کان کھینچا۔
وہ۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا سوال۔۔ تو مجھے غصہ آگیا۔۔ اسنے سوچ کر جواب دیا۔
حد کرتے ہو زاویار تم بھی۔۔ تابش کیا کم ہے اسے ڈانٹنے کے لیے جو اب تم بھی شروع ہو گئے۔۔ شہناز بیگم نے غصے سے کہا۔
سوری ماما۔۔ آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔۔
جی۔۔ آئندہ ہونا بھی نہیں چاہیے۔۔ چلو اب جلدی جلدی سمجھاؤ اسے۔۔ میں کھانا دیکھ لوں۔
جی سرکار جو حکم۔۔ وہ بھی شوخ ہوا تو وہ دونوں ہنسنے لگیں۔
ان کے جانے کے بعد زرتاشہ نے بات شروع کی۔۔ زاویار بھائی۔۔ وہ اس دن میں نے ہانیہ اور بسمہ کو منع بھی کیا تھا مگر وہ زبردستی مجھے لے گئی تھیں۔
دیکھو زرتاشہ۔۔ تم اب اتنی بچی نہیں ہو کہ تمہیں کوئی زبردستی جانے کو کہے اور تم ساتھ چل پڑو۔۔ اب بڑی ہو گئی ہو یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ ہو کل کو۔۔ اگلے گھر۔۔ بھی جانا ہے تم نے۔۔ کچھ سوچ سمجھ کر کام کیا کرو۔۔ ساری عمر تو میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا۔۔ نہ ہی چاچو یا تابش تمہارے ساتھ جائیں گے اگلے گھر۔۔ ہم سب تو تمہیں سمجھتے ہیں۔۔ ہمیں یقین ہے تم کچھ غلط نہیں کر سکتی مگر مائے پرنسز سسرال والے یہ باتیں نہیں سمجھتے۔۔ جب ساس طعنے دے گی نا پھر روتی ہوئی ہمیں شکایتیں مت لگانا۔۔ اس نے آخر میں بات کو مذاق کا رنگ دیا۔
یہ کیا سب کو میری شادی کا شوق ہو رہا ہے۔۔ پہلے گھر میں اور اب آپ شروع ہو گئے ہیں۔۔ اس نے تلخی سے جواب دیا۔
کیوں بھئی ساری عمر ہمارے سر پر سوار رہنے کا ارادہ ہے کیا؟ بس اب اگلے گھر جاؤ اور جا کر اپنے گھر والوں کو تنگ کرو۔۔ اس نے زرتاشہ کے سر پر ہلکی سی چت لگائی۔
زرتاشہ نے اسے گھورا۔۔ آپ بھی تنگ آگئے ہیں مجھ سے؟
ہاں بھئی۔۔ تم جاؤ گی تو میں سکون سے رہوں گا۔۔ اس کی زبان نے یہ الفاظ ادا کیے مگر دل نے دہائی دی۔۔ تم جاتے ہوئے میرا سارا سکون بھی ساتھ لے جاؤ گی۔
زاویار بھائی۔۔۔ کیا آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے؟ زرتاشہ کا انداز بہت بدلا ہوا تھا۔۔ زاویار نے شدت سے محسوس کیا۔۔ مگر اگلے ہی پل اپنی سوچ کی نفی کی۔
ارے بھئی میری جان تم میں بسی ہوئی ہے۔۔ تم نے ایسے کیسے سوچ لیا میں تم سے پیار نہیں کرتا۔۔ دل میں ادا ہوئے الفاظ پر زاویار خود بھی حیران ہوا۔۔ پھر فوراً اپنے احساسات پر قابو پایا۔۔ کہیں کچھ غلط نہ بول دے۔
آپ کو پتہ ہے بابا اس پروپوزل کو لے کر کافی سیریس ہیں۔۔ آج بھابھی نے مجھ سے بھی پوچھا تھا۔۔ زرتاشہ نے کچھ سوچتے ہوئے اسے بتایا۔
اچھا پھر تم نے کیا کہا؟ زاویار نے اپنے رویے کو نارمل رکھتے ہوئے پوچھا۔۔ دل نجانے کیوں آج کچھ سننے کو بےقرار تھا۔
میں نے۔۔ کچھ نہیں۔۔ آپ بتائیں کیا کروں۔۔ بھابھی کہہ رہی تھیں لڑکا اچھا ہے۔۔ اب اپ جو کہیں گے میں وہ ہی جواب دوں گی۔
زرتاشہ نے اپنے دل کا سارا بوجھ اس کے کندھوں پر ڈال دیا۔۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ اس بھاری بوجھ کو اٹھا سکے۔
زاویار کا دل بند ہونے لگا۔۔ اس نے زرتاشہ کو گہری نظر سے دیکھا۔۔ جیسے کچھ امید کی کرن تلاش کر رہا ہو۔۔
جب کچھ سمجھ نہ آیا تو نظریں واپس موڑ لیں اور اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔
ہاں لڑکا اچھا ہے میں ملا ہوں دو بار اس سے۔۔ چاچو کو بھی پسند ہے۔۔ اگر تمہارا دل مانتا ہے تو۔۔۔ ہاں کہہ دو۔۔ اس نے رخ موڑے ہی جواب دیا۔۔ پھر چلتا ہوا سائیڈ ٹیبل تک آیا۔۔ سوری پرنسز مجھے کام یاد آگیا تم تابش سے سمجھ لینا۔۔ بائے۔۔ کہتے ہی گاڑی کی چابی اور اپنا والٹ اٹھایا اور بغیر اس پر نظر ڈالے باہر نکل گیا۔
زرتاشہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی۔۔ اور چپ چاپ واپس آگئی۔

جاری ہے۔۔