اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

بھگوڑا (قسط نمبر 30) ریاض عاقب کوہلر ہم دونوں پور…


بھگوڑا (قسط نمبر 30)
ریاض عاقب کوہلر

ہم دونوں پوری طاقت سے عبدالمجید کے کھوکے کی جانب دوڑتے ہوئے جارہے تھے۔ جونھی ہم نے درختوں کے جھنڈ کو عبور کیا۔دو ڈبل کیبن ٹویوٹا گاڑیاں نظر آئیں، دونوں سفید کلر کی تھیں اور دونوں کا رخ ڈابیر کی طرف تھا۔ جس وقت ہم نے درختوں کا جھنڈ عبور کیا اس وقت وہ سٹارٹ ہو کر چل پڑی تھیں، ان کا فاصلہ ہم سے ٹوٹل اڑھائی تین سو گز تھا اور وہاں سے انھیں نشانہ بنانا اتنا مشکل بھی نہیں تھا مگر ہم ایسا نہ کر سکے کہ تیزی میں ہم درستی بھول چکے تھے۔ عبدالمجید سے چودھری کے متعلق سن کر ہم اتنے بدحواس ہوئے تھے کہ ہتھیار لانا ہی بھول گئے تھے۔ اب گاڑیوں کے پیچھے دوڑنا وقت کو ضائع کرنا اور اپنے آپ کو تھکانا تھا۔
”اسے کہتے ہیں بچہ بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں۔“ میں نے قدموں کی رفتار آہستہ کرتے ہوئے کہا۔ ”ہم نے سارے جنگل خیل کو چھان مارا ہے مگر ڈابیر کے متعلق ہمارا گمان ہی نہیں ہوا ہے کہ وہ یہاں چھپا ہو گا؟“
”ڈابیر کی سمت گاڑیوں کے رخ کو دیکھ کر تم یہ بات اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ ڈابیر میں ہی رہائش پذیر ہے۔“
”اس سمت میں اور کوئی قابلِ رہائش جگہ ہی نہیں ڈابیر کے علاوہ ۔“ اسی وقت مجید خان بھی ہم سے آن ملا۔
”بھاگ گئے؟“ اس نے آتے ہی افسوس کا اظہار کیا۔
’یہ کس وقت تمھارے کھوکے پر پہنچے تھے؟“
”یہی کوئی آدھ پون گھنٹا ہوا ہو گا….کھوکے پر آتے ہی انھوں نے دودھ پتی کا آرڈر دیا اور بیٹھ گئے۔ میرے پاس وہاں سے نکلنے کا کوئی بہانہ نہیں تھا مجبوراً میں دودھ پتی بنا کر انھیں پیش کرنے کے بعد ہی وہاں سے رفع حاجت کے بہانے نکل سکا۔“
”تُم نے کیسے پہچاناکہ وہ ہمارا مطلوبہ آدمی ہے۔“
”ایک تو آپ نے تفصیلاً اس کا حلیہ بتا دیا تھا دوسرے اس کے ساتھی بار بار اسے چودھری صاحب…. چودھری صاحب کہہ کر پکار رہے تھے اور یہ تو آپ کو بھی پتا ہو گا کہ اس علاقے میں چودھری نہیں ہوتے۔ سب سے بڑھ کر ان تمام کے پشتو بولنے کا لہجہ بالکل آپ ساتھا چونکہ ہمارے علاقے کی پشتو اور آپ کے علاقے کی پشتو میں واضح فرق ہے۔ اس لیے میں نے آسانی سے اسے پہچان لیا۔“
اس دوران ہم کھو کے پر پہنچ گئے تھے۔ وہاں چاے کے کپ کے نیچے پڑا ہوا پچاس روپے کا نوٹ ہمارا منہ چڑا رہاتھا۔ وہ لازمی عجلت میں تھے یا کسی اور وجہ کی بنیاد پر انھوں نے مجید کا انتظار کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا اور بل کی رقم کپ کے نیچے رکھ کر چلتے بنے تھے اور یہ اتفاق چودھری اکبر کی زندگی میں اضافے کا باعث بن گیا تھا۔
”ویسے جانو تمھیں شرم کرنا چاہئے۔“ امجد ایک چارپائی پر بیٹھ کر تکیہ گود میں لیتے ہوئے بولا۔ ”اتنے بڑے کمانڈو بنے پھرتے ہواور دشمن کے پیچھے جاتے وقت ہتھیار گھر چھوڑ آئے۔“
” تُم کون سا ساتھ لے آئے تھے۔“
”میں نے تو تمھیں خالی ہاتھ بھاگتے دیکھ کر سوچا کہ شاید خالی ہاتھ جانا ہے۔“
”کیوں تم ننھے بچے ہونا جو میرے نقش قدم پر چلو گے۔“
”تم ملک ہو یار…. اور تمھار احکم ماننا میرا فرض ہے۔“
”میں نے کب حکم دیا تھا کہ ہتھیار چھوڑ آﺅ۔“
”ہر حکم دیا تو نہیں جاتا…. ملازم تو بس آقا کو دیکھ کر چلتا ہے۔“
”اچھا اب یہ فضول بکواس چھوڑو اور ڈابیر جا نے کا سوچو۔“
”تو ڈابیر جانا کون سا مشکل ہے؟“ وہ سنجیدہ ہوگیا۔ ”ویسے بھی باسمت خان کے آدمی کون سا ہمیں شکل سے پہچانتے ہیں کہ اپنے آدمیوں کا بدلہ لیں گے۔“
”نہیں ان سے تو خیر کوئی خطر ہ نہیں۔ یوں بھی اس بات کو مہینے سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے اور اب تو ہیبت خان اور باسمت خان کا قائم مقام شاید ان کے قاتلوں کی تلاش پر مٹی ڈال چکا ہو۔“
”شاید ایسا نہ ہو۔“ امجد نے کہا۔ ”ہو سکتا ہے وہ اب تک ان کے قاتلوں کی تلاش میں ہوں بہ ہر حال یہ ان کا دردِ سر ہے ۔“
”تو پھر؟ کیا خیال ہے آج ہی چلیں۔“
”نیکی اور پوچھ پوچھ۔“ اس نے میری تائید کی ۔
”چلو اٹھو پھر۔“ میں نے کھڑا ہوگیا۔
”کہاں چل دیئے؟۔“ مجید ہاتھوں میں چاے پکڑے ہماری جانب آرہاتھا پوچھنے لگا۔ ”چاے تو پیتے جاﺅ۔“
”چاے کا وقت نہیں ہے۔“ ہم لمبے قدموں سے گھر کی جانب چل پڑے اور پھر تھوڑی دیر بعد ہم ٹویوٹا ہائی ایس میں بیٹھے ڈابیر کی جانب رواں دواں تھے۔ مجید خان نے ہمارے ساتھ آنے کی بہت کوشش کی تھی مگر اسے ہم سعدیہ کی حفاظت اور خیال رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے وہیں چھوڑ آئے تھے۔ گاڑی نے ڈابیر بازار میں ہمیں اتار دیا اور ہم چہل قدمی کے انداز میں بازار کے اندرونی جانب بڑھ گئے۔ دوپہر کا وقت تھا اور بازار میں کوئی خاص رش نہیں تھا۔
”اب کس سے اس موذی کا پوچھیں؟“
”صبر کرو پوچھ لیتے ہیں۔“ میں نے اسے تسلی دی، لیکن میں اس کے اضطراب کو سمجھ رہا تھا اور خود بھی اس کش مکش میں مبتلا تھا کہ آیا ہم حقیقتاً چودھری کے قریب پہنچ چکے تھے یا مجید کو کوئی غلط فہمی ہوئی تھی یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وہ ڈابیر کی بجائے کسی غیر معروف مقام پر چھپا ہوا ہو۔ آخر اس کے ذہن میں بھی تو ہماری آمد کا خطرہ پوشیدہ ہو سکتا تھا اور اسی اندیشے سے میں اس کے بارے کسی سے پوچھ نہیں پارہا تھا، مگر زیادہ دیر میری یہ کیفیت برقرار نہ رہ سکی اور خود پر قابو پاتے ہوئے میں ایک چھپر ہوٹل کی طرف بڑھ گیا۔
”دوا چاے جوڑ کا ماما۔“(دو چاے بناو¿ ماما)ہوٹل کے بوڑھے سے مالک سے مخاطب ہو میں نے کہا اور اس نے سر ہلاتے ہوئے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، ہم دونوں سڑک کے کنارے پڑی چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد ہی وہ ایک چھوٹی سی کیتلی میں چاے اور دو خالی کپ لے آیا۔ چاے کے برتن اس نے ہمارے سامنے پڑی لکڑی کی ٹیبل پررکھ دیئے اور واپسی کے لیے مڑنے ہی لگا تھا کہ میں نے اسے آواز دی ۔
”خبر واورا ماما۔“( ماما بات سنو)
”جی۔“ وہ رک گیا۔
”ہم نے چودھری اکبر سے ملنا تھا کیا آپ اس کی حویلی کا پتا بتا سکتے ہیں؟“
”چودھری اکبر؟“ اس کے لہجے میں حیرانی تھی۔ ” اس نام کے کسی بندے سے تو میں واقف نہیں ہوں۔“
”اس کو یہاں آئے ہوئے چند مہینے ہی ہوئے ہیں۔ اگرآپ ڈابیر میں رہائش پذیر ہونے والے کسی نئے آدمی سے واقف ہوں تو اس کا پتا بتا دیں شاید اس سے ہمیں چودھری کا ایڈریس معلوم ہو جائے۔“
”آپ کا مطلب میں سمجھ گیا۔ آپ اس طرح کریں کہ ملک جانان خان سے مل لیں اس سے آپ کو اپنے مطلوبہ بندے کے متعلق تمام معلومات مل جائے گی۔“
”اس کا گھر کس طرف سے؟“ میں مستفسر ہو ا اور ہوٹل والے نے وہیں کھڑے کھڑے مجھے جانان خان کے گھر کی لوکیشن سمجھا دی۔
چاے پی کر ہم ہوٹل والے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چل پڑے۔ میں نے امجد کو ہوٹل والے سے ہونے والی تمام گفتگو تفصیل سے سنا دی۔
”یہ جانان خان ….یہ وہی نہیں ہے باسمت خان کا آدمی۔“
”صحیح پہچانا۔“ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”تو پھر کیا خیال ہے چلیں اس کے پاس؟“
”کس بہانے سے اسے ملیں گے؟“
”میرا خیال ہے، چرس یا اسلحے کے خریدار بن کے اس سے ملتے ہیں اس جیسے بندے ان قبیح کاموں میں ملوث ہوتے ہیں۔“ امجد نے ایک قابل قبول مشورہ دیا۔
”گڈ…. بالکل ٹھیک ہے۔“ میں نے اسے شاباش دی۔
”لیکن جانو صاحب !…. پہلے اپنی کلاشن کوف سے جان چھڑالیں….یہ ہم نے جانان خان کے آدمیوں سے ہی چھینی تھی۔“
”واقعی یار!…. صحیح یاد دلایا میرے تو ذہن سے ہی یہ بات نکل گئی تھی۔ چلو پہلے اسے ٹھکانے لگاتے ہیں۔“ بازار سے نکل کر ہم سیدھا گاﺅں سے باہر جانے والے راستے پر چل پڑے۔ مگر ہمیں گاﺅں سے باہر نہ نکلنا پڑا راستے ہی میں گن کو ٹھکانے لگانے والی ایک مناسب جگہ نظر آگئی۔ وہ ایک کافی بڑا گڑھا تھا جس سے غالباً گھر بنانے کے لیے لوگ مٹی اٹھاتے رہے تھے۔ اس وسیع گڑھے کے اندر بنے ہوئے چھوٹے گڑھوں میں دو دن پہلے ہونے والی بارش کا پانی جمع کھڑا تھا۔ دائیں بائیں نگاہ دوڑاتے ہوئے میں نے اسی پانی سے بھرے ہوئے گڑھے میں گن کو پھینکااور ہم واپس مڑ گئے ۔ جانان خان کی حویلی ڈھونڈنے میں ہمیں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی اس کی حویلی تک پہنچتے پہنچتے ہم نے اس سے ملاقات کا لائحہ عمل طے کر لیا تھا۔
”جی کس سے ملنا ہے؟“ بڑی مونچھوں اور لمبے بالوں والے چوکیدار نے ہمیں حویلی کے دروازے پر رکتے دیکھ کر استفسار کیا۔
”ملک جانان خان سے۔“
”وہ آپ کو جانتا ہے؟“
”نہیں۔“ میں نے انکار میں سرہلایا۔ ”لیکن ہمارا اس کے ساتھ بہت ضروری کام ہے۔“
”کام کی نوعیت؟“ وہ ہمارا انٹرویو لینے یہ تلا ہوا تھا۔
”کوئی چیز خریدنا ہے۔“
”ہوں۔“ اس نے معنی خیز انداز میں سرہلاتے ہوئے کہا۔ ”تم یہیں ٹھہرو میں پوچھ کر آتا ہوں۔“
اس کے آنے تک ہم خاموش کھڑے رہے۔
”آجاﺅ ۔“ تھوڑی دیر بعد ہی وہ نمودار ہوتا ہوا بولا اور ہم سرہلاتے ہوئے اس کے پیچھے ہو لئے حویلی کے اندر ایک دیوارا ٹھا کر زنانہ اور مردانہ حصے تشکیل دیئے گئے تھے چوکیدار ہمیں لیے ایک کمرے میں جا گھسا جس کے اندر ترتیب کے ساتھ تین چارپائیاں پڑئی ہوئی تھیں مگر وہ وہاں رکنے کی بجائے ایک بغلی دروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔ اس کمرے میں چارپائیوں کی بجائے فرشی قالین بچھا ہوا تھا اور اس کے اوپر گاﺅ تکئے پڑے ہوئے تھے۔ جوتوں کے لیے تھوڑی سی جگہ چھوڑ کر باقی سارے کمرے کے فرش کو قالین نے ڈھانپ رکھا تھا۔ دیواروں کے اوپر سفید پینٹ کیا گیا تھا جبکہ فرش سے تین فٹ بلندی تک سبز پینٹ سے حاشیہ لگایا گیا تھا۔
”آپ بیٹھیں خان صاحب آرہے ہیں۔“ چوکیدار نے ہمیں قالین پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ ہم جوتے اتار کر قالین پر بیٹھ گئے ۔ وہ باہر نکل گیا۔ہمیں زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا جلد ہی تین آدمی کمرے میںداخل ہوئے سب سے آگے درمیانی قامت کا سرخ رُو شخص تھا اس کے انداز سے ہم سمجھ گئے کہ وہ ملک جانان خان تھااس کے پیچھے دوخوفناک صورت کے گرانڈیل افراد تھے جو لا محالہ اس کے باڈی گاڈ تھے۔ ہم دونوں انھیں دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے تھے جانان خان نے ہم سے مصافحہ کرکے کہا۔….
”تشریف رکھیں۔“ اور ہمارے بیٹھنے کے ساتھ وہ خود بھی بیٹھ گیا البتہ اس کے باڈی گارڈ کھڑے رہے۔ ابھی میں گفتگو کرنے کے لیے اپنے ذہن میں الفاظ ترتیب دے ہی رہا تھا کہ ایک شخص چاے کے برتن اٹھائے اندر داخل ہوا، مہمان نوازی تو ویسے بھی اس کے علاقے کے لوگوں کا خاصا ہے۔
”ہاں برادر اب بتائیں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“ چاے کاگھونٹ بھرتے ہوئے جانان خان مستفسر ہوا۔
”ملک صاحب !ہمیں ایک من چرس چاہئے…. کیا آپ مہیا کر سکیں گے؟ لیکن شرط یہ ہے کہ مال خالص ہونا چاہئے اور کچا مال بھی نہیں چاہئے پکی ہوئی چرس ہونا چاہئے۔“
مجھے چرس کے متعلق کوئی خاص معلومات نہیں تھیں بس اتنا پتا تھا کہ چرس کچی بھی ہوتی ہے جو پینے والے کو تیلی سے جلا کر پینے کے قابل بنانا پڑتی ہے اورپکی ہوئی بھی ہوتی ہے۔ کچی چرس کی شکل بالکل ایسی ہوتی ہے جیسے نسوار خشک ہو جائے اور پکنے کے بعد اس کی شکل تارکول جیسی ہو جاتی ہے۔ اپنی اسی ادھوری معلومات کی بنیاد پر میں نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا تھا۔
”مل جائے گی مگر چند دن انتظار کرنا پڑے گا۔“
”چند دن نہیں بلکہ آپ کے پاس دو ہفتے ہیں۔ ابھی ہمیں صرف نمونے کے لیے تھوڑی سی چرس چاہئے ہو گی جو ہم اپنے بڑے کے پاس دکھانے کے لیے لے جائیں باقی مال ہم اس کی اجازت سے لینے آئیں گے۔“
”اس کا مطلب ہے آپ لوگوں نے دوسری جگہ سے بھی نمونے کے لیے چرس لینا ہو گی اور جو آپ کے خان کو پسند آئے گی وہی آپ خریدیں گے؟“
”آپ ٹھیک سمجھے ہیں۔“ میں اثبات میں سرہلایا۔
”اگر آپ کے خان کو ہمارا مال پسند نہ آیا تومیں اس ایک من چرس کا کیا کروں گا؟“ اس نے ایک جائز بات کی ۔
اس کی بات سن کر میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھرکہا….
”ملک صاحب ….!پھر ایسے کریں کے کہ آپ ہمیں نمونے کے لیے چرس دے دیں وہ ہم اپنے خان کے پاس لے جاتے ہیں اگر اسے پسند آگئی تو ہم دوبارہ آ کر آپ کو بتائیں گے اس کے بعد آپ ہمارے مطالبے کے مطابق منگوا لینا۔“
”ہاں یہ ٹھیک ہے۔“ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”آپ کو نمونے کے لیے کتنی چرس چاہئے ہو گی؟“
”پاﺅ ادھ پاﺅ ہو جائے تو کافی ہے اور اس مقدار کی پے منٹ ہم ابھی کریں گے۔“
”جاگیر دار خان۔“ وہ اپنے ایک باڈی گارڈ کو مخاطب ہوا۔ ”جاﺅ منشی سے ایک پاﺅ خالص چرس لے آﺅ۔ اسے کہنا کہ وہ مال دے جو بعد میں ہم ایک من کی مقدار میں مہیا بھی کر سکیں۔“
ایک باڈی گارڈ۔”جی خان جی۔“ کہہ کر کمرے سے نکل گیا۔
”ہمارے علاوہ آپ نے کس کس کے پاس جانا ہے۔“ جاگیردار کے کمرے سے نکلتے ہی وہ مستفسر ہوا …. اس کے اس سوال کا میں کافی دیر سے منتظر تھا۔
”آپ کے علاوہ ڈابیر میں تو صرف چودھری اکبر کے پاس یہ مال مل سکتا ہے، اس کے علاوہ بھی اگر کوئی آدمی ایسا ہے یہاں تو اس کے متعلق آپ ہماری رہنمائی کر دیں بڑی مہربانی ہو گی۔“
”ڈیرہ اسماعیل خان والا چودھری اکبر؟“ وہ حیرانی سے مستفسر ہوا۔
”جی اس کے علاقے کا تو پتا نہیں ہے۔ صرف اس کا نام اور شہرت سنی ہے۔“
”غلط سنا ہے۔“اس نے منہ بنایا۔ ”اس پرچون فروش کے پاس تمھیں10,5کلو سے زیادہ چرس نہیں مل سکتی۔“
”مگر بازار میں تو ایک بندہ اس کی بڑی تعریف کر رہا تھا۔“میں نے دل میں بے ساختہ اٹھنے والی خوشی کی لہر کو دباتے ہوئے اپنی بات کا جواز پیش کیا۔ چودھری کے بارے یہ کنفرم ہو جانے کے بعد کہ وہ یہیں ڈابیر میں موجود تھا میرا جانان خان کے پاس آنے کا مقصد پورا ہو گیا تھا۔ اب کسی ترکیب سے اس سے چودھری کی رہائش کی لوکیشن معلوم کرنا رہ گئی تھی۔
جانان خان نے جواب دیا۔”اس طرح کے بندے اسی طرح اپنی پبلسٹی کراتے ہیں۔“
اس کے جواب میں مَیں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ چوکیدار اجازت مانگ کر اندر داخل ہوا۔
”خان جی…. چودھری اکبر نام کا بندہ آپ سے ملنا چاہتا ہے اس کے ساتھ چار باڈی گارڈ بھی ہیں۔“ اس کی بات نے مجھے بے ساختہ پہلوبدلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ امجد کے پلے بھی یہ بات پڑ گئی تھی اس لیے وہ بھی چو کناہو گیا تھا۔
”چودھری اکبر؟“ جانان خان کے لہجے میں حیرانی تھی۔ ایک لمحہ سوچ کر وہ بولا۔ ”اسے بلا کر ساتھ والے کمرے میں بٹھاﺅ میں آتا ہوں۔“
چوکیدار ”جی خان جی ۔“ کہہ کر کمرے سے نکل گیا اور اس کے باہر جاتے ہی جانان خان نے کمرے میں موجود باڈی گارڈ کو کہا۔
”دروازہ اندر سے بند کر دو۔“ اور اس نے سرہلا کر دروازے کو اندر سے کنڈی لگا دی۔
”معاف کرنا برادر آپ سے کاروبار کے متعلق گفتگو تو تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ مگر ابھی تک میں آپ کا نام نہیں جان سکا ہوں۔“ ا س مرتبہ اس کے مخاطب ہم دونوں تھے۔
”جی میرا نام عبداﷲ اور اس کا نام عبدالرحمن ہے۔“ میںنے اپنا تعارف کرایا۔ ”عبدالرحمن بھائی پشتو بولنا نہیں جانتا اس لیے یہ ہماری گفتگو میں شریک نہیں ہو سکا ہے۔ میرا تعلق لکی مروت سے ہے اور عبدالرحمن کا ہری پور سے لیکن ہم رہتے میرن شاہ میں ہیں۔“
”اچھا میں چودھری کورخصت کر دوں، پتا نہیں یہ کس مقصد کے لیے آیا ہے اس کے بعد آپ سے بات چیت ہو گی۔“ وہ کھڑاہو گیا۔ ”اور اگر آپ لوگ بھی اس سے ملنا چاہتے ہو تو میرے ساتھ آجاﺅ۔“
”مہربانی خان صاحب ہم بعد میں مل لیں گے….اب نہ جانے وہ کس مسئلے کے سلسلے میں آپ کے پاس آیا ہے“ اور جانان خان سر ہلاتا ہوا دروازے کی جانب بڑھ گیا۔کمرے میں موجود اکلوتے باڈی گاڈ نے اس کے لیے دروازہ کھولا اور وہ دونوں ساتھ والے کمرے میں چلے گئے۔ چونکہ چودھری کو اس نے اسی کمرے میں بلایا تھا اس لیے دروازہ کھلتے وقت ہم دونوں نے دروازے کی طرف پیٹھ کرلی تھی۔
”وہ موذی کہیں ہمارے تعاقب میں یہاں نہ پہنچا ہو۔“ دروازہ بندے ہوتے ہی امجد تشویش بھرے لہجے میں پوچھا۔
”ابھی پتا چل جاتا ہے۔“ میں اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اٹھ کر دروازے کے قریب پہنچا۔ بات رسمی تعارف سے گزر چکی تھی اور اس وقت چودھری اکبر احتجاجی انداز میں جانان خان سے مخاطب تھا۔
”ملک صاحب یہ اچھی بات تو نہیں ہے نا؟ اور اس طرح دوسری مرتبہ ہو رہا ہے کہ آپ کے آدمیوں نے میرے سو دے کوخراب کرنے کی کوشش کی ہے۔“
”چودھری صاحب میں تمھاری بات نہیں سمجھا؟“ جانان خان نرم لہجے میں مستفسر ہوا ۔
” آج جنگل خیل میں ایک آدمی کو ہم نے مال ڈیلیور کرنا تھا، زبانی کلامی بات ہو چکی تھی، لیکن جب ہم پہنچے تو آپ کے آدمی ہم سے پہلے جا کر اسے مال دے کر رقم وصول کر چکے تھے۔“
”تو اس میں تو سراسر اس بندے کی غلطی ظاہر ہو رہی ہے جس کے ساتھ آپ کی بات پکی ہو چکی تھی۔ وہ آپ ہی سے مال وصول کرتا۔ میرے آدمیوں کا اس میں کیا قصور ہے۔ وہ تو بہ طور دکاندار اپنا مال ہر اس شخص کو بیچیں گے جو ان سے خریدنے آئے گا۔“
”مجھے اس بندے نے بتایا کہ آپ کے آدمیوں نے اسے میرے بارے یہ کہا کہ میں ملاوٹ والا مال بیچتا ہوں اور اس کے علاوہ بھی چند الٹی سیدھی باتیں میرے بارے میں کی ہیں۔“
”چودھری صاحب !آپ نے اسے کہنا تھا کہ اس طرح کسی کی باتوں میں آ کر سودے منسوخ نہیں ہوا کرتے۔ وہ آپ کے مال کا معائنہ کر کے پھر ہم سے سودا کرتا۔“
”ملک صاحب!…. آپ ساری بات خریدار کے اوپر ڈال رہے ہیں، حالانکہ آپ کے آدمی بھی اس کے جرم میں برابر کے شریک ہیں۔“ چودھری کا لہجہ خاصا کڑوا تھا۔ ”بہ ہر حال یہ دو دفعہ ہو چکا ہے اس کے بعد میں بھی آپ کے آدمیوں والا طریقہ کار اپناﺅں گا۔ بعد میں گلہ نہ کرنا۔“
جانان خان نے جواب دیا۔”چودھری مرد گلہ شکوہ نہیں کیا کرتے۔“
”چلو یہ بھی دیکھ لیں گے۔“ چودھری کی آواز سے مجھے محسوس ہوا کہ اس نے بات مکمل کرلی تھی میں جلدی سے آ کر امجد کے ساتھ بیٹھ گیا اس جگہ دروازہ بند ہونے کی وجہ سے آواز واضح سنائی نہیں دے رہی تھی۔
”کیا بات چیت ہو رہی تھی؟“ امجد نے اشتیاق سے پوچھا۔
” کوئی کاروباری معاملہ تھا بعد میں تفصیل سے بتاﺅں گا۔“
”ویسے جانو۔ ابھی موقع تھا کہ ہم ہلابول کر چودھری کو قابو کر لیتے۔“
”بے وقوف وہ جانان خان کے گھر آیا ہوا ہے اور تمھیں پتا ہونا چاہئے کہ اپنے گھر آئے دشمن کی بھی حفاظت میں یہ لوگ جان تک قربان کر دیتے ہیں۔ تم خواہ مخواہ جانان خان کے ساتھ دشمنی کی داغ بیل کیوں ڈالنا چاہتے ہو؟“
” سوری…. مجھے خیال نہیں رہا تھا۔“
میں جواباً کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ جانان خان دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور میں نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا۔ اس کے پیچھے اس کے دونوں باڈی گاڈ بھی اندر داخل ہو ئے۔
جانان خان اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔
”جاگیردار بھائی….! صاحب کو مال چیک کراو۔“
جاگیردار نے ہاتھ میں پکڑا ہوا شاپر میری جانب بڑھا دیا۔ شاپر لے کر میں نے اپنے پاس رکھ لیا۔
”ملک صاحب یہ ہمارا خان خود ہی چیک کرے گا۔“
”آپ تھوڑی سی پی کر دیکھیں۔“ جانان خان نے ہلکا سا اصرار کیا۔
”ہم اس سے آج تک مستفید نہیں ہو سکے ہیں۔“ میں مسکرا یا۔ میری بات سن کر جانان خان کے چہرے پرحیرانی کے اثرات نمودار ہوئے اور جب وہ بولا تو یہ حیرانی اس کے لہجے میں بھی ہویدا تھی۔
” عجیب بات ہے کاروبار کرتے ہو اور خود استعمال نہیں کرتے؟“
”بس ملک صاحب نئے نئے وارد ہوئے ہیں نا اس میدان میں۔“
”اب آپ یہ مال میرن شاہ لے کے جائیں گے؟“ وہ مستفسر ہوا۔
”جی۔“ میں مختصراً
”آپ کے خان کا نام کیا ہے؟“
”ملک حاجی بہادر خان۔“
”کیا ….؟….تم حاجی بہادر کے بندے ہو۔“ اس کے لہجے میں حیرانی تھی۔
”جی ۔“
”مگر وہ تو دگن میں رہتا تھا اور جہاں تک میرا خیال ہے وہ اس قسم کے کسی کام میں ملوث نہیں۔“ جانان خان کے لہجے میں شکوک کی پرچھائیاں لہرا رہی تھیں۔
”وہ اب بھی دگن ہی میں رہتا ہے لیکن آپ کی آسانی کے لیے میں نے میران شاہ بتلا دیا کیونکہ دگن اتنا معروف نہیں۔ دوسرے وہ واقعی اس کا روبار میں ملوث نہیں ہے یہ کام اس کا دست راست طوفان خان سرانجام دیتا ہے۔“
”اچھا اچھا۔“اس نے اطمینان سے سرہلایا۔ ”بہ ہر حال آپ لوگوں نے اور جس سے مال کے نمونے حاصل کرنے ہیں وہ کر لیں اور جتنے دن آپ ڈابیر میں ہیں میرے گھر میں مہمان رہیں گے۔“
”مگر ہم یہاں کسی سے واقف نہیں۔“
”آپ کی رہنمائی جاگیردار کر دے گا ہمارے علاوہ چودھری اکبر، ملک دل شاد خان اور سبز علی خان اس کا روبار میں ملوث ہیں۔“
”آپ نے اس کی قیمت نہیں بتلائی۔“ میں نے ہاتھ میں موجود چرس کے شاپر کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔
”اس کا ریٹ اور یکمشت ایک من لینے کا ریٹ بھی جاگیر دار بتا دے گا۔ فی الحال آپ لوگ آرام کرو۔ میں بھی تھوڑا مصروف ہوں بعد میں گپ شپ ہو گی۔“ یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور ہم سے مصافحہ کر کے رخصت ہو گیا۔ اس کے جاتے ہی جاگیردار ہمیں وہاں سے ایک دوسرے کمرے میں لے گیا جہاں چارپائیوں پر صاف ستھرے بستر بچھے ہوئے تھے۔ وہ کمرہ یقینا مہمانوں کے ٹھہرانے کے کام آتا تھا۔
جاگیردار ہمیں چرس کے ریٹ وغیرہ سے آگاہ کرنے کے بعد آرام کا مشورہ دیتے ہوئے رخصت ہو گیا۔ اس پاﺅ بھر چرس کی پے منٹ کرنا میں نہیں بھولا تھا۔
اس کے کمرے سے نکلتے ہی امجد نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی، جواباًمیں نے اسے ساری صورتِ حال سے آگاہ کر دیا۔
” یہاں تک تو ٹھیک ہو گیا۔ آگے کیا کریںگے؟“ تفصیل جان کر وہ مستفسر ہوا۔
”پہلے چودھری کی رہائش کا جائزہ لے لیں، اس کے بعد کوئی لائحہ عمل طے کریں گے۔“
”تو اس وقت آرام کرنے کی کیا ضرورت تھی، جاگیردار کو ساتھ لے کر چلے جاتے یا ویسے ہی اس سے حویلی کا محلِ وقوع پوچھ لیتے، تاکہ آج رات ہی اس کام کو نمٹا دیتے، ڈیڑھ مہینے سے اسے تلاش کر رہے ہیں اور اب اس کا پتا چلا ہے تو جناب کو آرام کی سوجھ گئی ہے۔“
”آرام سے ماجے، اب اس کا پتا تو چل گیا ہے خواہ مخواہ بے صبری کا مظاہرہ اچھا نہیں۔ گھنٹا ڈیڑھ آرام کرو عصر کو چلے چلیں گے۔“ یہ الفاظ میرے ہونٹوں پر تھے کہ ایک شخص چھابے میں روٹیاں اور ترکاری کا ڈونگہ لیے حاضر ہوا۔ دن کے کھانے کا وقت قریباً گزر گیا تھا مگر اس کے باوجود انھوں نے کھانا بھجوا دیا تھا اور ایسا شاید انھوں نے احتیاط کے طور پر کیا تھا۔ اتفاق سے ہم دونوں اس وقت تک کھانا نہیں کھا سکے تھے اس لیے اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ ترکاری پلیٹوں میں ڈالنے کا تکلف کیے بغیر ہم ڈونگے میں ہی جڑ گئے۔ کھانے کے بعد وہی آدمی قہوہ لے آیا اور ہمارے قہوہ پیتے ہی برتن سمیٹ کر باہر نکل گیا۔ روٹی کھانے کے دوران میرا ارادہ تھا کہ کھانے کے بعد جاگیردار سے چودھری اکبر کا پتا پوچھ کر اس کی حویلی کے جانب چلیں گے ۔ مگر کھانا کھاتے ہی ایک عجیب قسم کی غنودگی میرے حواس پر چھا گئی۔ بند ہوتی آنکھوں سے میں نے امجد کی جانب دیکھا تو اس کی حالت بھی مجھے خود سے مختلف نہ لگی۔ بے انتہا کوشش کے باوجود میں اپنے حواس قائم نہ رکھ سکا اور چند لمحوں میں ہی دنیا و مافیہاسے بے خبر ہو گیا۔
l l l
حواس میں آنے پر مجھے اپنے سر پر بہت بوجھ محسوس ہو رہا تھا۔ سر جھٹک کر میں نے دائیں بائیں دیکھا۔ امجد مجھے اپنے بائیں جانب زمین پر پڑا نظر آیا۔ ہم دونوں کی قمیصیں اتارلی گئی تھیں اور دونوں کے ہاتھ پشت کی طرف رسّی سے باندھ دیئے گئے تھے۔ اپنے علاوہ مجھے اس کمرے میں ذی روح تو کیا بے جان چیز بھی نظر نہ آئی۔ تھوڑی دیر بعد ہی امجد کے جسم میں بھی حرکت پیدا ہوئی اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔
”یہ کیا جانو صاحب؟“
”وہی جو تم دیکھ رہے ہو۔“ میں اطمینان سے بولا۔
وہ طنزیہ انداز میںبولا۔”یہی ان کی مہمان نوازی ہے جس کے تم گن گا رہے تھے؟“
”پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ماجے۔ ہر قوم میں چودھری اکبر جیسے گھٹیا افراد موجود ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر شخص اپنے علاقے کی روایات کا پاس رکھے۔ ویسے بھی کسی علاقے کے رواج کوہم وہاں کے لوگوں کی اکثریت کے مزاج سے پہچانتے ہیں۔ اگر انفرادی طور پر کوئی بد خصلت ہو تو اس کی بری عادات کو ہم پورے علاقے یا پوری قوم پر منطبق نہیں کر سکتے۔“
”اب مجھے فلسفے سے قائل کرنے کی کوشش نہ کرو بقراط صاحب۔“
”اچھا چھوڑو اس بحث کو اور میری رسّی کھولنے کی کوشش کرو۔“ میں کہنیاں ٹیک کر اٹھتے ہوئے بولا۔ ایک کمانڈوکے مزاج کے مطابق ہم پریشان ہونے کی بجائے حفاظتی اقدامات میں جڑ گئے، میں نے اپنی پیٹھ امجد کے جانب موڑی اور وہ دانتوں سے میرے ہاتھوں سے بندھی رسّی کھولنے لگا۔ تھوڑی محنت کے بعد ہی وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوگیا اور میرے ہاتھوں پر رسّی کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ اس کے بعد امجد کی رسّی کھولنے میں مجھے کوئی دشواری پیش نہ آئی۔ رسّی کھولنے کے بعد ہم نے وہ رسّی اس طرح اپنے ہاتھوں پر لپیٹ لی کہ ضرورت پڑنے پر ہم ایک جھٹکے سے اپنے ہاتھ آزاد کرا سکتے تھے
”یار!…. ہم جتنا ان سے لڑنے سے گریز کر رہے ہیں اتنا ہی ان سے لڑائی ناگز یر ہوتی جارہی ہے۔“ امجد دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
”ان سے لڑنا کوئی مشکل نہیں ہے ماجے….! مگر یہ فالتو پنگا ہو گا اور خواہ مخواہ ہمارا وقت ضائع ہو گا۔ دوسرے اگر اس لڑائی میں ہم دونوں سے کوئی ایک بھی وقتی طور پر ناکارہ ہو گیا تو چودھری کے خلاف ہماری طاقت آدھی رہ جائے گی۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ہماری پوری طاقت چودھری کے خلاف استعمال ہو۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے اور دوسرے رخ کے مطابق ہم دونوں ملک جانان خان کے آدمیوں سے لڑتے ہوئے یہاں سے عدم آباد بھی روانہ ہو سکتے ہیں ، گولی یہ نہیں دیکھتی کہ سامنے کمانڈو ہے یا کوئی عام بندہ اور اس علاقے کے لوگ زبانی کلامی جمع خرچ کی بجائے بندوق کی زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔“
”بس اپنی بزدلی کو کسی نہ کسی مصلحت کا نام دیئے رکھنا۔“
”چلو …. یونھی سہی۔“ میں نے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا ۔
”ویسے جانو…. یہ ایک دم ان کو کیا سوجھی؟ اچھا کھلا پلا کر اس حال میں لے آئے۔“
” ان کے آنے کی دیر ہے پتا چل جائے گا۔“
”وقت کیا ہو گا۔ اب تک اچھی خاصی روشنی محسوس رہی ہے ؟“امجد نے کہا۔ ”جہاں تک میرا اندازہ ہے تو ہم کافی دیر بے ہوش رہے ہیں۔“
”میرا خیال ہے دوسرا دن طلوع ہو چکا ہے۔“
”ایسا ہی ہو گا۔“ اس نے اثبات میں سرہلایا۔
میں نے پوچھا۔”اچھا ان کے آتے ہی ہلا بول دینا چاہئے یا…. ان کو پوچھ گچھ کا موقع دینا چاہئے۔“
”کمانڈو ٹریننگ کا تضاضا تو یہی ہے کہ انھیں سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر چھاپ لیا جائے….مگر پھر ان سے پوچھ گچھ میں دشواری پیش آئے گی اور ہمارے قابو آنے کے بعد وہ ہم سے جھوٹ بھی بول سکتے ہیں، دوسری صورت میں ہو سکتا ہے ان سے بات چیت کرنے کے دوران کوئی افہام و تفہیم کا پہلو بھی نکل آئے۔“
”اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ حملہ کرتے ہوئے ہم خود ہی پار ہو جائیں۔“ میں نے تاریک پہلو کی طرف اشارہ کیا۔
”یہ توپھر قسمت کی بات ہے؟….موت کے ڈر سے ہم اپنے ارادے تو مو¿خر نہیں کر سکتے وہ تو بستر پر لیٹے ہوئے بھی آ سکتی ہے، تو نے سنا ہو گا کہ اس دنیا میں آنے کی ترتیب تو موجود ہے یعنی حمل ہو گا اس کے آٹھ، نو، دس ماہ بعد بچہ پیدا ہو گا …. لیکن جانے کی کوئی ترتیب موجود نہیں ۔ہوسکتا ہے پوتا دادا سے پہلے مر جائے، بیٹا باپ سے پہلے فوت ہو جائے یہ تو مالک الملک کی منشا ہے، اس کی مرضی ہے۔ بندہ غریب تو اس ضمن میں بے بس اور لاچار ہے اور یہ وہ واحد حقیقت ہے جس کا منکر کوئی نہیں، چاہے کوئی دیندار ہو چاہے دنیا دار، چاہے کوئی مسلم ہو چاہے بے دین، یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کے وجود کے منکر بھی اس کو چیلنج کرنے کی جرا¿ت نہیں کر سکتے۔“
”آج تو بڑے فلسفے بگھارے جا رہے ہیں۔“ میں ہنستا اور وہ بھی ہنس پڑا ہم کافی دیرگپ شپ میں مشغول رہے یہاں تک کہ کمرے کے باہر قدموں کی چاپ ابھری اور ہم خاموش ہو گئے۔ دروازہ کھول کر ایک ملازم سرکنڈوں سے بنا ہوا اسٹول اٹھائے اندر داخل ہوا جس کو ہمار ی زبان میں موڑھا کہتے ہیں۔ موڑھا کمرے کے وسط میں رکھ کر وہ باہر نکل گیا جبکہ اس کے پیچھے اندر داخل ہونے والوں میں ایک جاگیردار خان اور دوسرا، باڈی گارڈ تھا دونوں دروازے کے دائیں بائیںکھڑے ہو گئے۔ چند لمحوں بعد جانان خان اندر داخل ہوا اور آ کر موڑھے پر بیٹھ گیا۔
”ہاں بھئی جوانو کیا حال ہے۔“ اس کا لہجہ استہزائی تھا۔ دونوں باڈی گاڈ اس کے دائیں بائیں آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ جواباً ہم دونوں خاموش ہی رہے۔
”آپ لوگ خفا خفا سے لگ رہے ہو۔“
”ملک صاحب…. آپ کے ہاں مہمانوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے۔“ میں نے شکوہ کیا۔
”نہیں۔“ اس نے انکارمیں سر ہلایا۔ ”اس بات پر مجھے خفت بھی ہو رہی ہے مگر کیاکیاجائے کہ مہمانوں کی شکل میں ہماری جان کے دشمن قریب آنے کوشش کرتے ہیں تو پھر ایسا کرنا ہماری مجبوری بن جاتی ہے۔“
”میں سمجھا نہیں؟“ میں حیرانی سے بولا۔ ”آپ کی جان کے دشمن ہم کیسے ہو گئے؟“
”بچکانہ باتیں مت کرو عبداﷲ خان یا جو بھی نام ہے۔ تمھارا کیا خیال ہے جانان خان سویا ہوا ہے۔ ہیبت خان اور باسمت خان کے قتل کے بعد ہم نے جو تفتیش کی اس کے مطابق ان دونوں کو قتل کرنے والے دو لمبے تڑنگے نوجوان ہیں۔ جن کی عمر24سے 28سال کے درمیان ہے۔گندمی رنگت سیاہ آنکھیں ایک کے بال ہلکے بھورے جبکہ دوسرے کے سیاہ، ایک پشتو بول سکتا ہے اور دوسرا پشتو نہیں جانتا وغیرہ وغیرہ۔“
ایک لمحے کے لیے رک کر اس کی بات جاری رہی ۔ ”تم شاید سوچ رہے ہو کہ میں یہ اپنی طرف سے گھڑ رہا ہوں ۔ اگر ایسا ہے تو یہ تمھاری بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ تمھارا حلیہ ہمیں اس کوارٹربکنگ کرنے والے سے پتا چلا تھا جو بعد میں قتل ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ جو بندہ تمھیں کوارٹر تک چھوڑنے گیا تھا اس نے بھی اس کی تائید کی تھی، سب سے بڑھ کر وادی بہرام شاہ کے عبداﷲ خان سے ہم نے ہیرا پھیری سے تمھارا حلیہ اگلوا لیا تھا جس کے ہاں تم لوگوں نے رات گزاری تھی۔ اب تم سوچو گے ہم عبداﷲ خان تک کیسے پہنچے تو یہ بھی میں بتائے دیتا ہوں میران شاہ سے ڈابیر آتے ہوئے اتفاقاً عبداﷲ خان کا گھر ہی راستے میں پڑتا ہے اور وہ حددرجہ کا مہمان نواز ہے یہ بات ممکن ہی نہیں کہ کوئی اس جانب سے جنگل خیل کی طرف آئے اور عبداﷲ خان کی مہمان نوازی سے مستفید نہ ہو سکے۔ بہ ہر حال اس سب کے باوجود میں تمھیں نہ تو باسمت خان اور ہیبت خان کا قاتل گردانتا ہوں اور نہ اس ضمن میں کوئی سزا دینے کا ارادہ رکھتا ہوں کیونکہ نادانستگی میں سہی تمھاری وجہ سے مجھے ڈابیر کی سرداری ملی اور اسی وجہ سے تمھارے بارے تمام معلومات حاصل ہو جانے کے باوجود میں نے تمھیں تلاش کرنے یا کرانے کی بالکل کوشش نہیں کی یہ معلومات بھی مجھے ہیبت خان اور باسمت خان کے مرنے کے دو تین دن بعد مل گئی تھیں۔ رہی بات باسمت خان کی بیوی کی تو میرا خیال تھا شاید اسی کے چکر میں تم لوگوں نے باسمت خان اور ہیبت خان کا کام تما م کیا تھا مگر اب جبکہ تم اس واقعے کے ڈیڑھ دو مہینے بعد ہی میرے پاس آ پہنچے ہو اور وہ بھی بوگس قسم کے سمگلربن کر۔ بے وقوف تم لوگ حاجی بہادر اور طوفان خان کا نام لے رہے ہو جن سے ہم خود چرس وافیون وغیرہ منگواتے ہیں۔ حاجی بہادر اس علاقے کا سب سے بڑا چرس وافیون سپلائیر ہے۔ بہر حال اب تمھاری بہتری اسی میں ہے کہ تم چپ چاپ بغیر اپنی ہڈیاں تڑوائے یہ بتا دو کہ تم دونوں کس کے لے کام کرتے ہو ؟اور مجھے قتل کرنے میں تمھارا کون سا مفاد پوشیدہ ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ تمھیں کم سے کم سزا دی جائے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم مجھے اصل حقائق سے آگاہ کرد و باسمت خان ہیبت خان کو قتل کرنے اور مجھے قتل کرنے کا ارادہ کرنے کی وجوہات سے پردہ اٹھا دو تو شاید میں تمھاری جان بخشی کردوں ورنہ تو میرے آدمی باسمت خان اور ہیبت خان کے قاتلوں کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں۔ اگر انھیں پتا چل جائے کہ میں ان کے سرداروں کے قاتلوں سے مذاکرات کر رہا ہوں تو شاید وہ مجھے بھی معاف نہ کریں۔ البتہ جاگیردار خان اور صاحب گل کی بات اور ہے۔“ اس نے اپنے باڈی گارڈز کی طرف اشارہ کیا۔ ”یہ میرے باڈی گارڈ نہیں بلکہ بھائیوں کی طرح ہیں۔ خیر یہ ایک ضمنی بات تھی اب تم بغیر کوئی بات چھپائے سب کچھ بیان کردو۔“
”ہمارے پاس آپ کو بتانے کے لیے کوئی ایسی کہانی نہیں ہے جس سے ہم آپ کے نام نہاد اندیشوں کی تصدیق کر سکیں۔“
”ہوں۔“ اس نے ایک گہری سانس لی۔ ”اس کا مطلب ہے میری ساری بکواس رایگاں گئی۔ تم لوگ لاتوں کے بھوت ہو…. باتوں سے نہیں مانوگے۔….خیر تمھاری مرضی۔“وہ جاگیردار کی طرف متوجہ ہوا۔ ”اسے تفشتش کے دوسرے طریقے سے آگاہ کرو۔“
”جی خان جی۔“ کہہ کر اس نے کلاشن کوف اپنے ساتھی صاحب گل کو پکڑائی اور میری طرف خطرناک ارادے سے بڑھا۔ اس کے بڑھنے کا انداز اس بات کا مظہر تھا کہ اسے میری جانب سے کوئی خطرہ نہیں۔ کیونکہ ایک تو میں بندھا ہوا تھا۔ دوسرے وہ مجھ سے ناواقف تھا۔
جانان خان کی بات ختم ہوتے ہی میں نے اپنے ہاتھ رسّی سے آزاد کرالیے تھے۔ امجد بھی لازمی طور پر میرے انداز کو دیکھتے ہوئے ایکشن کے لیے تیار ہو گیا تھا۔ جانان خان دلچسپ نظروں مجھے گھور رہا تھا کہ سب سے پہلے مجھے ہی پھینٹی لگنا تھی اس کے بعد کہیں امجد کا نمبر آتا۔
قریب آ کر جیسے ہی جاگیردار جارحانہ انداز میں جھکا اور اس کا ہاتھ میرے گریبان کے جانب بڑھا میں ایک دم اوپر کو اچھلا میرے سر کی بھرپورا ٹکر اس کی ٹھوڑی پر لگی وہ لڑکھڑاتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹا اور اس پہلے کہ وہ سنبھلتا میں نے بجلی کی سی تیزی سے اس کے دائیں ہاتھ کو پکڑ کر جھٹکے سے گھمایا اور اس کے ساتھی صاحب گل کی طرف دھکیل دیا۔ اس میں طاقت کے ساتھ ٹیکنیک کا گہرا عمل دخل تھا کہ پہلے میں نے اس کے قدموں کو ان بیلنس کیا اور پھر ایک چکر دے کر اس کی سوچوں کو وقتی طور پر درہم برہم کرتے ہوئے اسے اس کے ساتھی پر پھینک دیا ۔اس کے بجائے اسے یرغمال بنا لینا میرے لیے زیادہ آسان تھا مگر اس میں یہ قباحت تھی کہ اس کا کمانڈر بچ کر نکل جاتا اور ہم ایک مرتبہ پھر پھنس جاتے اور دوبارہ ان کے قابو میں آنے کا مطلب صریحاً موت تھی۔ اسے دھکیلنے کے بعد میں رکانہیں تھا بلکہ اسی تسلسل میں میں موڑھے پر ہکا بکا بیٹھے جانان خان پر جا پڑا اور اگلے ہی لمحے پشت کے جانب اس کا دایاں بازو مروڑ کر اپنا بایاں ہاتھ میں اس کے گلے میں حمایل کرچکا تھا۔
دوسری جانب امجد بھی حرکت میں آچکا تھا۔ جاگیردار صاحب گل سے ٹکرایا اور دونوںنیچے گر گئے اس سے پہلے وہ سنبھلتے امجد ان کی کلاشن کوفوں پر قبضہ کر چکا تھا۔ ایک کلاشن کوف سلنگ اپ کر کے دوسری فائرنگ پوزیشن میں پکڑتے ہوئے وہ اُلٹے قدموں دروازے کی طرف بڑھا اور اندر سے کنڈی چڑھا دی۔ اس کی جگہ اگر میں ہوتا تو میرا ردِ عمل بھی یہی ہوتا کیونکہ ہم دونوں کمانڈو کے تربیت یافتہ تھے اور ایسی صورتِ حال میں کمانڈوزکا دماغ ایک ہی دائرے میں کام کرتا ہے۔ وہ ساری کارروائی ہم نے بغیر کسی منصوبے کے سرانجام دی اور ہر دونے بہ خوبی اپنا کردار ادا کر دیا تھا۔
امجد کے پوزیشن سنبھالتے ہی میں نے جانان خان کا بازو آزاد کرتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ سے ماہرانہ انداز اس کی جیبوں کو ٹٹولا اور اس کی جیب میں پڑا پستول نکال کر اسے آہستہ سے سامنے کی طرف دھکیلا اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے سامنے دوڑتا چلا گیا۔
”اب بتاﺅ ملک جانان خان تمھیں بے بس لوگوں سے تفتیش کرنے کے اور کتنے طریقے آتے ہیں۔“
”تت تم بچ کر نہیں جاسکتے۔ حویلی میں چاروں جانب میرے آدمی بکھرے ہوئے ہیں۔“ اس نے اپنے تئیں مجھے دھمکی دینے کی کوشش کی مگر اس کی لڑکھڑاتی اور متوحش آواز اس کی دھمکی کے کھوکھلا ہونے کی مظہر تھی۔
”بھول ہے تمھاری جانان خان …. جب تک کسی کو تمھاری ہلاکت کا پتا چلے گا ہم اس علاقے سے بہت دور جا چکے ہو ں گے…. کیوں؟ میں غلط کہہ رہا ہوں جاگیردار خان۔“جانان خان سے بات کرتے کرتے میں جاگیردار کو مخاطب ہوا جو شعلہ بار نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔ مگر میری بات کا ان دونوں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
”ماجے ….!کیاخیال ہے انھیں گولی سے ماریں یاکوئی اور طریقہ اختیار کریں۔“ میں ان کی خاموشی دیکھتے ہوئے امجد سے مستفسر ہوا۔
”نہیں بھئی!…. میں تو بالکل بے گناہوں کا خون بہانے کے حق میں نہیں ہوں۔“وہ اطمینان سے بولا۔
”صحیح کہا۔“ میں جانان خان کو مخاطب ہوا۔ ”ملک صاحب بیٹھیں میں آپ کو اصل بات بتا دوں۔“ مگر اس بار بھی جانان خان خاموشی سے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر رہ گیا۔ شاید اسے بچنے کے امکانات صفر سے بھی کم دکھائی دے رہے تھے۔
” ملک صاحب !….آپ پریشان نہ ہوں ،ہم نہ پہلے آپ کے دشمن تھے اور نہ اب ہیں۔ یہ اقدام ہمیں اس لیے اٹھانا پڑا تاکہ آپ کو احساس دلائیں کہ اگر ہم آپ کو قتل کرنے کے ارادے سے آئے ہوتے تو کب کا ایسا کر چکے ہوتے اور ماجے انھیں گنیں واپس کر دو۔“ اس سے بات کرتے کرتے میں امجدکو بولا اور اس نے سر ہلاتے ہوئے دونوں کلاشن کوفیں جاگیرداراور صاحب گل کے قریب جا کر ان کی طرف بڑھا دیں۔ میں نے بھی اپنے ہاتھ میں موجود پستول جانان خان کی طرف بڑھا دیا جو اس نے میکانکی انداز میں لے لیا۔ جاگیردار اور صاحب گل کے چہروں پر بھی حددرجہ حیرت چھا گئی تھی۔
”اب بیٹھ جائیں ملک صاحب…. تاکہ میں آپ کواصل کہانی سنا سکوں۔“
”نہیں یہاں نہیں۔“ وہ جیسے ہوش میں آگیا۔ ”چلو میری آرام گاہ میں۔“
”چلیں ۔“ میں نے اس کی تائید کی۔
”جاگیردار…. مہمانوں کے کپڑے اور سامان وہیں پر لے آﺅ، اس کے علاوہ اچھے سے کھانے کا بندوبست بھی کرو کہ 25,24گھنٹوں میں انھوں کچھ نہیں کھایا۔“
”ٹھیک ہے خان جی۔“
”صاحب گل تم بھی جاگیر کے ساتھ چلے جاﺅ۔“ اور صاحب گل ،جاگیر خان کے ساتھ چل پڑا۔
”آپ چلیں میرے ساتھ۔“ جانان خان کے لہجے سے شہد ٹپک رہا تھا۔ موت کو اتنا قریب آ کر پلٹتے دیکھ کر اس کا رویہ عجیب سا ہو گیا تھا۔ ہم دونوں انھیں ختم کر کے آسانی سے نکل سکتے تھے مگر ایک تو یہ خواہ مخواہ کی خون ریزی ہوتی دوسرا اس کے بعد ہم اطمینان سے چودھری کے خلاف کوئی کارروائی نہ کر سکتے تھے۔ جبکہ یہ چال چل کے ایک تو ہم نے جانان خان کی نظروں میں اپنی پوزیشن صاف کرلی تھی دوسرے اس سے ہمارا ضمیر بھی مطمئن تھا۔
جانان خان کے ساتھ چلتے ہوئے ہم اس کی آرام گاہ میں پہنچے وہ کشادہ کمرہ کافی پُر تکلف انداز میں سجایا گیا تھا۔ ہلکے آسمانی کلر کی دیواریں، اسی رنگ کے کھڑکیوں پر لٹکتے ہوئے پردے، خوب صورت صوفہ سیٹ۔ فرش پر بچھا ہوا نرم ایرانی قالین ۔ دیواروں سے لٹکتی ہوئی خوب صورت تصاویر۔ وہ کمرہ واقعی ایک ملک کے شایانِ شان تھا۔
”آپ لوگ پہلے نہا دھو کر تازہ دم ہو جائیں، کھانا کھائیں اس کے بعد اطمینان سے بیٹھ کر بات چیت کریں گے۔“اور میں نے سر ہلاتے ہوئے اس سے اتفاق کیا تھا۔

جاری ہے