بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 6 ہما کو اس بات …
???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 6
ہما کو اس بات پر غصہ آیا
"ناٹ فنی مسڑ بلیو جینز !”
"بلیو جینز مس ہما ؟”
وہ نا سمجھی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا
"اُف مجھے بتائیں کے آپ کو میرا نام کیسے پتا !”
ہما نے چڑ کر کہا
"ابھی تو آپ نے مجھے بتایا نیور مائینڈ مس ہما پھر بات کریں گئے ویسے کہاں رہتی ہے آپ ۔”
اس کے لہجے میں دلچسپی تھیں
"کوئے کاف اب بتائیں مجھے بلیو میرا مطلب ہے ایس پی صاحب کے اس دن آپ نے مجھے جب پکڑا تھا تو میرا نام کیسے پتا چلا ۔”
"ارے وہاں تو جن رہتے ہیں آپ کیا جن ہیں !”
اس کے لہجے میں اشتیاق آیا
"ویسے آپ بڑی مزے کی باتیں کرتی ہے لیکن کیا کریں ڈیوٹی پر جانا ہے پھر ملاقات ہوگی ۔”
وہ پیاری مسکراہٹ اچھال کر چلا گیا
اور ہما مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی
"اُف ! آگ لگے سب کو !”
وہ غصے بھری نظر زُلنین کی طرف دیکھنے لگی جو اب اپنی رینج رور پہ بیٹھ چکا تھا زُلنین نے ایک نظر مرر پر ہما کا لال بھپو چہرہ دیکھا اور پھر گلاسس پہن کر آگئے بڑھ گیا
اور ہما اپنے گھر کی طرف مڑ چکی تھیں
????????????????????????
"کدھر گئی تھیں ؟”
نانو نے جیسے ہی اسے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو گھور کر بولی
"ایسی ہی چہل قدمی کرنے ۔”
ہما کے لہجے میں بیزاری تھیں
"اور یہ چہل قدمی ذولفیقار ہاوس سے آگئے تک کیوں گئی ۔”
ہما ایک دم رُک گئی اُف پکڑے گئے بیٹا
"کون سا زلفیقار ہاوس ؟”
انجان لہجے میں وہ کہتی اگے بڑھنے لگی جب نانو اس کے سامنے آئی
"ہما ! جھوٹ بھی بولنے لگی گئی ہو!”
"ایسا کیا ہے وہاں جو آپ مجھے منع کررہی ہے ۔”
"وہاں کچھ نہیں ہے لیکن وہاں کی سڑک کافی خطرناک ہے ۔”
نانو نے نظر چراتے کہا
"او کام آن یہ تو کوئی ریزن ہی نہیں ہوئی رہنے دیں آج مجھے سے کوئی بات نا ہی کریں تو بہتر ویسے ہی دماغ میرا پہلا خراب ہے ۔”
ہما خراب لہجے میں کہہ کر سڑھیوں کی طرف بڑھ گئی
اور نانو اس کو دور جاتا ہوا دیکھنے لگی اب انھیں لگ رہا تھا یہاں آکر انھوں نے سب سے بڑی غلطی کی ہے
????????????????????????????????????????????
بیڈ پہ جانے کے بجائے وہ سیدھا پچھلے ٹیرس کی طرف چل پڑی
اس کنفیوزن نے اس کا بیرا غرق کردینا تھا اس لیں اس کنفیوزن کو گولا مارنے کے لیں وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی سرد ہوائوں کی لہروں نے اس کے چہرے کو چھوا
خود کو ریلکس کرنے کے لیں وہ زمین پہ بیٹھ گئی اور بازو اپنے ٹانگوں کے گرد لپیٹ لیے پھر اس نے آنکھیں بند کردیں اچانک وہی آنکھیں
"اُف بھاڑ میں جاو تم ! جو کوئی بھی !”
جنجھلاتے ہوئے اُٹھی اور اپنی بے چینی دور کرنے کے لیں وضو کرنے لگی سوچا کے سارے شیطانی کام چھوڑ کر قران پاک کی تلاوت ہی کر لی جائے مما نے تو ہمیشہ سے اس کو عادت ڈالی تھیں کے فجر کے بعد فورن تلاوت کرنی ہے بس ماما کی ڈیتھ کے بعد وہ سب بھول گئی تھی بس نانو کی ڈانٹ زور سے نماز پڑھ رہی تھیں اور اس کو بھی یہی لگ رہا تھا یہ ساری عجیب حرکتیں اللّٰلہ کی عبادت نہ کرنے کا نتیجہ ہے جب انسان کو لگے وہ بہت بے چین ہے ایسی بے چینی جس کا وہ تو کیا کوئی حل نہیں کر پاتا تو وہ اپنے اللّٰلہ سے ربطہ کریں بیشک وہ دلوں کا حال جانے والا ہے اور مشکلات دور کرنے والا ہے
وضو کر کے وہ کمرے سے باہر نکلی اور سڑھیوں کئ طرف بڑھنے سے پہلے رُکی
"اسے جیل کیوں نہیں بھیجا گیا !”
"کیسے بھیجتے بی بی جی اسے کوئی ہاتھ تو لگائیں تو موت کو دعوت دینے والی بات ہے ۔”
نانو اور کام کرنی والی ماسی کی آواز پر وہ وہی رُک کر سُنے لگی
"مجھے تو ہما کی فکر ہے اسے تو شوق ہوتا ہے انھوکی جگہ جانے کو اور اس جگہ تو سب سے انھوکی جگہ ذولفیقار ہاوس ہے اور اگر اس کی نظر ہما پر پڑ گئی اس سے آگئے میں سوچ نہیں سکتی ۔”
"ہائے بی بی جی ہما بی بی کو اتنی ڈروانی جگہ جانے کا شوق ہے ۔”
"ہاں وہ ایسی ہے ڈرتی ورتی نہیں ہے امریکہ میں بھی رات کے تین بجے اپنی ماں کی قبر پر چلی جاتی تھیں ۔”
ہما کا منہ کھل گیا یہ سب نانو کو کیسے پتا چل جاتا ہے
"ہائے اللّٰلہ جی پھر تو بی بی جی دور ہی رکھیے آپ ہما باجی کو ورنہ اس جلاد نے ہما باجی کے عورت ہونے کا بھی لحاظ کرنا ۔”
یہ کس جلاد کی بات کررہے تھے ہما سوچ میں پڑ گئی
بہرحال اس نے ابھی کچھ نہیں سوچنا اسے ابھی صرف زہنی سکون چائیے
وہ دبے قدموں نیچے آئی اور نانو کی طرف بڑھی جو اب
تسبی پڑھنے میں مصروف تھی اور ماسی اُٹھ چکی تھیں
"نانو مجھے اپنا قُرانِ پاک دیں دے ۔”
ہما کا لہجہ سپاٹ تھا اور وہ ناچاہتے ہوہے بھی بڑے ہی غور سے نانو کو دیکھ رہی تھیں جو سر ہلاتے ہوئے اُٹھی لیکن منہ سے کچھ نہیں بولی
نانو اُٹھ گئی تو ماسی جو جانے والی تھیں ہما نے اسے روکا
"بات سُنے !”
ماسی ایک دم مڑی
"جی بی بی !”
"دیکھیں آپ مجھ سے کچھ چھپائے گا نہیں لیکن یہ زُلنینُ زولفیقار اس بڑے محل نما گھر کا مالک ہے ۔”
ہما نے بڑی نرمی سے کہا
"جی جی مجھے نہیں پتا آپ کس کی بات کررہی تھیں ۔”
"جھوٹ سے کیا فائدہ ہوگا ایسا کیا ہے جو سب اس جگہ سے بے حد گھبڑا رہے ہیں ۔”
"ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے بی بی جی مجھے واقی نہیں پتا میں اس سائڈ پہ کھبی گئی نہیں ہوں نہ اس کے بارے میں پوچھا یہ تو کونے کی طرف ہے ہیں میں تو دوسرے راستے پر جاتی ہوں ۔”
وہ اتنا لمبا اور تیزی سے بول رہی تھی جیسے ہما کو اس نے نہ بتانے کا ہی ارادہ رکھ لیا تھا
نانو کو آتا دیکھ کر وہ بولی
"ٹھیک ہے صحیح کہہ رہی ہوگی آپ !”
????????????????????????????????????????????????
"نانو میں سوچ رہی ہوں کے میں تیاری شروع کردیتی ہوں ایسے بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے خالی دماغ شیطان کا ہوتا ہے کچھ کرلو ۔”
رات کو وہ نانو کے کمرے میں ایسے ہی باتیں کرنے کے لیں آئی تھیں تب اچانک بولی
"ہاں کیوں نہیں ویسے بھی تین چار مہینے کے بعد تمھاری یونی شروع ہوجائیں گی اس پہلے جو دل کریں وہ کرو ۔”
نانو نے پیار سے ہما کا چہرہ دیکھا
"ویسے کرو گی کیا ؟”
"ام مزے کی بات بتاو آپ کو میں ایک ہارر ناول لکھنا چاہتی ہوں ۔”
ہما مزے سے بولی نانو نے منہ کھولے حیرت سے دیکھا
"توبہ ہے ہما ریحان آپ کا کیا بنے گا !”
ہما نے اپنا نام کے ساتھ ریحان کہنے پر انھیں گھورا
"مجھے ہما ریحان نہیں ہما شفق کہا کریں ۔”
"نام تو وہی کاغذ میں ہر جگہ ہے اب تم ریحان کی بیٹی ہوں اس تو انکار مت کرو بیشک جتنی ناراضگی ہوں ۔”
"ناراضگی ناراضگی نانو میں ان سے نفرت کرتی ہوں انھیں زرا میری ماں کی پروا نہیں تھی ایک پل بھی میری ماں سے انھیں محبت چلے محبت کو چھوڑیں ہمدردی محسوس ہوتی چلو ماما کو بھی چھوڑیں ان سے تو کوئی تعلق واسطہ نہیں رہا تھا لیکن میں میں تو ان کی بیٹی تھی انھیں زرا بھی پروا نہیں تھی کے میری پڑھائی حرج ہوگی اوپر سے میں ماما کی موت کے بعد کتنی ٹوٹ گئی ہوں وہ تو یہ ہے کے میں ظاہر نہیں کرتی لیکن میں بھی انسان ہوں مجھے بھی باپ کا شفقت بھرا ہاتھ اپنے سر محسوس کرو چلے وہ تو نہیں لیکن ایک دلاسے کا ایک جملہ تو دیں دے ہما کے فکر نہ کرو تمھارا باپ ہے نا بس لیکن انھوں نے تو گھر سے کیا اس ملک سے بھی نکال دیا کے وہ مجھے دیکھنا نہیں چاہیتے کسی بھی حالت میں خیر چھوڑیں کیا باتیں لیکر بیٹھ گئے ہیں ۔”
خود اس نے بات شروع کی اور خود ہی اس نے ختم کئ نانو خاموشی سے اسے دیکھتی رہی پھر خود کو کمپوز کرتے ہوے بولی
"کیا نام رکھو گی اپنے ناول کا ؟”
ہما کو اپنے کام کی بات پر تھوڑی ہلکی پھلکی ہوگئی
"ابھی تو سٹوری سوچنی ہے پھر دیکھنا نانو کیسے مشہور ہوگا ۔”
ہما چہکتے ہوئے بولی
اور کھڑکھی میں کھڑا زُلنین اسے مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا تو خود بھی مسکرا اُٹھا اور مڑنے لگا جب اس نے جزلان کو دیکھا تو اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے
"تم یہاں کیا کررہے ہو!”
زُلنین کا لہجہ کرخت ہوگیا جبکہ آنکھیں سچ مچ والی سُرخ
"سچ میں زُلنین ؟ ایک انسان سے ۔”
"بکواس اپنی بند رکھو !”
وہ غرایا
"اور میں بتا رہا ہوں کوئی اس پہ نظر نہیں رکھا گا اور اگر تم نے ایسا ویسا کچھ بھونکا تو سوچ لینا کے تمھارا کیا حال کرو گا ”
زُلنین جانے لگا جب جزلان بولا
"تم نے ٹھیک نہیں کیا زُلنین اس لڑکی کے ساتھ !”
"یہ میرے بس میں نہیں تھا اس کی معصومیت نے مجھے جکھڑ لیا تھا ۔”
"اور تم نے اسے عزاب میں دکھیل دیا ہے ۔”
زُلنین نے سر اُٹھایا
"جب تک میں زندہ ہوں کوئی درد یا تکلیف اسے چھو کر نہیں گزرے گی ۔”
وہ کہتے ہوئے تیزی سے چل پڑا….
جاری ہے