اگر کبھی اللہ نے مجھے موقع دیا تو میں کسی ماں کو …


💥 اگر کبھی اللہ نے مجھے موقع دیا تو میں کسی ماں کو یہ ذلت محسوس نہیں ہونے دوں گی۔” 💔🥹

کہتے ہیں بڑھاپا صرف جسم پر نہیں اترتا…

کبھی کبھی وہ انسان کی خاموشیوں میں بھی گھر بنا لیتا ہے۔

راولپنڈی کے ایک پرانے سے محلے میں، بازار کے اوپر والی منزل پر ایک مختصر سا فلیٹ تھا۔ اس کی چھوٹی سی بالکونی میں ہر صبح ایک سفید بالوں والی خاتون اپنے گملوں سے باتیں کرتی تھیں۔ پودینے کی خوشبو، تلسی کے پتے، دو گلاب اور ایک ضدی سا ٹماٹر کا پودا… یہی ان کی دنیا تھی۔

پورا محلہ انہیں سعیدہ آنٹی کہتا تھا۔

عمر اسی برس۔

شوہر کو بچھڑے برسوں بیت چکے تھے، اور اکلوتا بیٹا روزگار کے سلسلے میں دبئی جا بسا تھا۔ ہر مہینے رقم آ جاتی، مگر تنہائی کبھی بینک اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوتی۔

ان کی زندگی میں ایک عادت ایسی تھی جو کبھی نہ بدلی۔

ہر اتوار صبح، وہ اسی سپر اسٹور جاتیں۔

وہی راستہ…

وہی ٹوکری…

وہی چیزیں…

چائے، ڈبل روٹی، دال، سوپ کے پیکٹ…

اور آخر میں ایک ڈیری ملک چاکلیٹ۔

یہ چاکلیٹ ان کی کمزوری نہیں تھی…

یہ اس بات کا ثبوت تھی کہ انسان کو اپنی خوشیوں کا آخری چراغ کبھی بجھنے نہیں دینا چاہیے۔

—

اس دن بارش مسلسل برس رہی تھی۔

بازار میں غیر معمولی رش تھا۔ لوگ جلدی جلدی ہفتے بھر کا سامان خرید رہے تھے۔

سعیدہ آنٹی قطار میں خاموش کھڑی تھیں کہ اچانک ان کی نظر اپنے آگے کھڑی ایک نوجوان عورت پر پڑی۔

اس کی گود میں ایک بچی تھی، اور دوسرا بچہ اس کا دوپٹہ پکڑے کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا سا خرگوش تھا، جس کی ایک آنکھ غائب تھی۔

شاید وہ کھلونا بھی اپنے مالک کی طرح وقت کے ہاتھوں زخمی تھا۔

عورت نے آٹا، دودھ، انڈے، چاول، بچوں کے ڈائپر اور چند ضروری چیزیں کاؤنٹر پر رکھ دیں۔

کیشیئر نے بل بنایا۔

"چار ہزار آٹھ سو ساٹھ روپے۔”

عورت نے جلدی سے اے ٹی ایم کارڈ نکالا۔

مشین نے انکار کر دیا۔

اس نے دوسرا کارڈ نکالا۔

وہ بھی ناکام ہوگیا۔

قطار میں کھڑے لوگ بے صبری سے اسے دیکھنے لگے۔

عورت نے نظریں جھکا لیں۔

ہونٹ کانپ رہے تھے۔

وہ آہستہ سے بولی،

"بھائی… دودھ اور ڈائپر واپس رکھ دیں… باقی دے دیں۔”

یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی آنکھوں میں اترتے آنسو بڑی مشکل سے روک لیے۔

مائیں اکثر اپنے لیے نہیں روتیں…

وہ بچوں کی مجبوری پر ٹوٹتی ہیں۔

—

سعیدہ آنٹی نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔

اپنا کارڈ کیشیئر کی طرف بڑھاتے ہوئے صرف اتنا کہا،

"پورا بل اسی سے کر دیں۔”

عورت گھبرا کر پلٹی۔

"نہیں آنٹی… میں آپ کے پیسے واپس نہیں کر سکوں گی۔”

سعیدہ آنٹی مسکرائیں۔

وہ مسکراہٹ کسی دولت مند کی نہیں…

ایک زخمی دل کی تھی، جو کسی اور کا زخم پہچان گیا تھا۔

انہوں نے آہستہ سے کہا،

"بیٹی… ہر قرض پیسوں سے نہیں اتارا جاتا۔ کچھ قرض آگے بڑھا دیے جاتے ہیں۔”

وہ سامان اٹھا کر خاموشی سے چلی گئیں۔

نہ نام بتایا۔

نہ شکریہ سنا۔

—

راستے بھر انہیں پینتیس سال پرانا ایک منظر یاد آتا رہا۔

وہ بھی کبھی ایسی ہی قطار میں کھڑی تھیں۔

شوہر اچانک انتقال کر گئے تھے۔

گھر میں صرف پانچ سال کا بیٹا تھا۔

جیب میں چند نوٹ کم پڑ گئے تھے۔

لوگ دیکھتے رہے…

کسی نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔

اس دن انہوں نے خاموشی سے اپنے آنسو نگل لیے تھے۔

اور دل میں ایک وعدہ کر لیا تھا…

"اگر کبھی اللہ نے مجھے موقع دیا تو میں کسی ماں کو یہ ذلت محسوس نہیں ہونے دوں گی۔”

—

اسی رات اس نوجوان خاتون، عائشہ، نے فیس بک پر ایک پوسٹ لکھی۔

«”آج ایک اجنبی اماں نے میرا راشن خرید دیا۔ انہوں نے میرا نام نہیں پوچھا، میری غربت پر ترس نہیں کھایا، کوئی نصیحت نہیں کی… بس خاموشی سے میرا بوجھ اٹھا لیا۔ میرے بچوں نے آج پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ اگر کوئی انہیں جانتا ہے تو بس اتنا کہہ دیجیے گا… میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔”»

یہ پوسٹ چند گھنٹوں میں پورے شہر میں پھیل گئی۔

کسی نے لکھا،

"کیا وہ ہر صبح بالکونی میں پودوں کو پانی دیتی ہیں؟”

دوسرے نے جواب دیا،

"ہاں… وہ سعیدہ آنٹی ہیں۔”

—

اگلے چند دنوں میں ان کے دروازے پر عجیب سی بہار اتر آئی۔

کوئی گھر کا بنا ہوا اچار لے آیا۔

کوئی تازہ پھول۔

کسی نے گرم شال رکھ دی۔

ایک بچے نے اپنی جمع پونجی سے خریدی ہوئی چاکلیٹ رکھ کر صرف اتنا لکھا،

"دادی… یہ آپ کے لیے۔”

ایک نوجوان نے خط بھیجا۔

"آنٹی، آپ کی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میں غریب بچوں کو مفت ٹیوشن پڑھاؤں گا۔”

ایک نرس نے لکھا،

"آج میں ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد بھی ایک اکیلی مریضہ کے پاس بیٹھی رہی… کیونکہ آپ نے یاد دلایا کہ انسانیت کبھی اوور ٹائم نہیں مانگتی۔”

ایک شخص، جو برسوں نشے کی لت سے لڑ رہا تھا، اس نے لکھا،

"مجھے راستے میں ایک پرس ملا تھا۔ پہلے سوچا رکھ لوں… پھر آپ یاد آ گئیں۔ میں نے وہ اس کے مالک کو واپس کر دیا۔”

—

ایک ہفتے بعد عائشہ اپنے دونوں بچوں کے ساتھ سعیدہ آنٹی کے گھر آئی۔

بارش تھم چکی تھی۔

بالکونی میں چائے کی بھاپ اٹھ رہی تھی۔

ہوا میں پودینے کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔

چھوٹا بچہ خاموشی سے اپنا ایک آنکھ والا خرگوش سعیدہ آنٹی کی گود میں رکھ کر بولا،

"دادی… اب یہ آپ کا ہے۔ اسے آپ بہت اچھی لگتی ہیں۔”

اس لمحے سعیدہ آنٹی کی آنکھوں سے برسوں سے رکے ہوئے آنسو بہہ نکلے۔

شاید انسان کو اپنے خاندان سے زیادہ کبھی کبھی اپنی مہربانی اولاد دے جاتی ہے۔

—

آج بھی ہر اتوار وہ اسی سپر اسٹور جاتی ہیں۔

وہی ٹوکری…

وہی سامان…

اور وہی ڈیری ملک چاکلیٹ۔

فرق صرف اتنا ہے کہ کبھی کبھی کیشیئر مسکرا کر کہتا ہے،

"آنٹی… آج آپ کی چاکلیٹ کا بل پہلے ہی ادا ہو چکا ہے۔”

وہ کبھی نہیں پوچھتیں کہ کس نے دیا۔

بس خاموشی سے چاکلیٹ اپنے تھیلے میں رکھتی ہیں، آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرا دیتی ہیں اور دل ہی دل میں دعا کرتی ہیں۔

کیونکہ وہ جان چکی ہیں…

نیکی کبھی ختم نہیں ہوتی۔

وہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ، ایک دل سے دوسرے دل، ایک نسل سے اگلی نسل تک سفر کرتی رہتی ہے۔

دنیا بڑے نعروں، لمبی تقریروں یا خبروں کی سرخیوں سے نہیں بدلتی۔

وہ اس لمحے بدلتی ہے جب ایک عام انسان، کسی دوسرے عام انسان کی خاموش تکلیف کو دیکھ لیتا ہے… اور بنا کچھ کہے اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے۔

اور شاید…

قیامت کے دن اللہ ہم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ ہمارے پاس کتنا تھا…

بلکہ یہ ضرور پوچھے گا کہ جو کچھ تھا، اس میں سے ہم نے کتنے آنسو پونچھے، کتنی بھوک مٹائی، اور کتنے دلوں کو یہ احساس دلایا کہ وہ اس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں۔

افسانہ: احسان
©️ انتخاب سخن