منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

اس نے لرزتی آواز میں کہا کہ حضرت اگر دو ہزار روپے …


اس نے لرزتی آواز میں کہا کہ حضرت اگر دو ہزار روپے کا انتظام ہو جائے تو بڑی مہربانی ہوگی، میں بہت بڑی مصیبت میں ہوں 🥹💔

دوپہر کا وقت تھا جب ایک پریشان حال شخص میری دہلیز پر آیا، جس کے چہرے پر زمانے کی سختی اور آنکھوں میں شدید بے بسی تھی۔
اس نے لرزتی آواز میں کہا کہ حضرت اگر دو ہزار روپے کا انتظام ہو جائے تو بڑی مہربانی ہوگی، میں بہت بڑی مصیبت میں ہوں اور اگلے مہینے تنخواہ ملتے ہی واپس کر دوں گا۔

میں نے اپنی جیب ٹٹولی مگر وہاں کچھ نہیں تھا، وہ آخری رقم بھی میں کچھ دیر پہلے خرچ کر چکا تھا، اس لیے میں نے بڑے افسوس سے کہا کہ بھائی اس وقت تو ہاتھ بالکل خالی ہے لیکن تم ہمت نہ ہارو، عصر کے وقت دوبارہ آنا، میں دیکھتا ہوں اور امید ہے کہ اللہ کوئی نہ کوئی سبب بنا دے گا۔
وہ شخص مایوسی اور بے بسی کے عالم میں الحمدللہ کہہ کر بوجھل قدموں سے لوٹ گیا۔

عصر کے قریب میں گھر میں اپنے کمپیوٹر پر کام کر رہا تھا کہ اچانک میرا فون بجا، اسکرین پر جو نمبر چمک رہا تھا اور وہ ہماری مسجد کے جوائنٹ سکریٹری کا فون تھا

علیک سلیک کے بعد بڑی بے چینی سے کہا کہ حضرت میرے دل میں ایک عجیب سا احساس ہے، اگر میں آپ کو کچھ رقم بھیجوں تو کیا آپ آج ہی کسی انتہائی مجبور اور ضرورت مند کو وہ رقم پہنچا سکتے ہیں؟
میں یہ سن کر سن ہو گیا اور میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ میں سوچنے لگا کہ اس کائنات کا نظام کتنا حیران کن ہے کہ ابھی عصر کا وقت بھی نہیں ہوا تھا اور اس سائل کے مالک نے میلوں دور بیٹھے ایک شخص کے دل کو اس کے لیے تڑپا دیا۔ کچھ ہی دیر میں میرے اکاؤنٹ میں دو ہزار نہیں بلکہ پورے تین ہزار منتقل ہو گئے۔
مغرب کی نماز کے بعد میں اور مسجد کے مؤذن صاحب دفتر میں بیٹھے تھے جب میں نے اس شخص کو دوبارہ بلایا اور پوچھا کہ بھائی تم دوپہر کو اتنے پریشان تھے، آخر ان پیسوں کا کرنا کیا تھا؟

وہ تڑپ کر بولا کہ حضرت کل رات میرا گیس سلنڈر ختم ہو گیا تھا، گھر میں چولہا ٹھنڈا پڑا ہے اور ادھر میری سگی بہن ہسپتال میں داخل ہے، میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ جا کر اس کا چہرہ دیکھ سکوں۔

میں نے پوچھا کہ جب میں نے دوپہر کو تمہیں خالی ہاتھ لوٹا دیا تو تم نے کیا کیا؟

وہ روتے ہوئے بولا کہ حضرت میرا دل بالکل ٹوٹ گیا تھا، میں نے یہاں سے جا کر سیدھا اپنے مالک کو پکارا اور کہا کہ اے میرے مالک میں چار چھوٹے بچوں کو لے کر کہاں جاؤں، اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرے خاندان کا کیا بنے گا، بس دل پھٹ پڑا تھا۔

میں نے مسکرا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ تمہارے مالک نے تمہاری پکار سن لی ہے، اس نے دور بیٹھے ایک ایسے شخص کو تمہارا وسیلہ بنا دیا جو نہ تمہیں جانتا ہے اور نہ تم اسے جانتے ہو، تمہیں دو ہزار کی ضرورت تھی نا، لیکن تمہارے سخی رب نے تمہاری جھولی میں تین ہزار ڈال دیے ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ شخص وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور سسکیاں لے کر رونے لگا۔

اس کا یہ اخلاص دیکھ کر پاس بیٹھے مؤذن صاحب کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے اور میں خود ہنسی کے پیچھے اپنے خوشی کے آنسو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ وہ شخص اٹھا، مسجد کے صحن میں گیا اور اپنے رب کے حضور طویل سجدہِ شکر میں گر گیا۔

عشاء کی نماز کے بعد میں نے اس مخیر کو دوبارہ فون کیا اور انہیں پوری کہانی سنائی اور پوچھا کہ محترم آخر اللہ نے اپنے اس پیارے بندے کی حاجت روائی کے لیے آپ ہی کا انتخاب کیوں کیا؟ تو دوسری طرف مکمل خاموشی چھا گئی اور میں سمجھ گیا کہ وہ بھی جذباتی ہو چکے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ اس مادی معاشرے میں دو یا تین ہزار روپے کی کوئی اوقات نہیں ہے، لیکن اس چھوٹی سی رقم کے پیچھے میرے رب نے اپنی غیبی طاقت اور بندے سے اپنی سچی محبت کا جو شاہکار دکھایا ہے، وہ انسان کے ایمان کو ایک نئی زندگی دے دیتا ہے۔