آپ ہیرا، صَدف، نَگیں، کیوں ہیں آپ بے انتہا حَسیں …
آپ ہیرا، صَدف، نَگیں، کیوں ہیں
آپ بے انتہا حَسیں ، کیوں ہیں
آپ کی کاکلوں کے جنگل میں
اِتنی مُوسیقیاں مَکیں، کیوں ہیں
چاند خود بھی ، نہیں سمجھ پایا
آپ اس درجہ مَہ جبیں، کیوں ہیں
شَمس حیراں ہے، آپ کے عارض
پُھول ہو کر بھی، آتشیں کیوں ہیں
آپ اتنے ، دروغ گو ہو کر
اِس قدر قابلِ یقیں ، کیوں ہیں
شاعروں کے دِلوں پہ، آپ چلیں
گامزن، برسرِ زمیں، کیوں ہیں
جتنے بے رَحم دِلرُبا ہیں، عدم
اتنے محبُوب، دِلنشیں، کیوں ہیں
(عبدالحمید عدم)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی