منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

آپ کہہ سکتی ہیں کہ ٹھیک ہے، یہ قدرتی نظام ہے اور ی…

آپ کہہ سکتی ہیں کہ ٹھیک ہے، یہ قدرتی نظام ہے اور یہی ترقی ہے۔ ٹھیک ہے، میں اتفاق کرتا ہوں۔ میں سمجھ سکتا تھا اگر تباہ و برباد کئے جانے والے درختوں کی جگہ کچھ تو حاصل ہوتا ! اگر معاشرتی ترقی ہوتی، روزگار ہوتا، سکول ہوتے تو لوگوں کا بھلا ہوتا۔۔۔ ٹھیک ہے؟ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا! وہی جوہڑ ہیں، وہی مچھر، وہی افلاس، وہی بیماریاں۔۔۔ بخار، اسہال، خناق۔۔۔ یہاں جو ہمیں دکھائی دے رہا ہے وہ صرف بقا کی ایک لا متناہی کشمکش ہے۔ سردی سے ٹھٹھرتا، بھوکا، بیمار شخص جو اپنی باقی ماندہ زندگی کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کی کوشش کر رہا ہے، تو پھر وہ کیا کرتا ہے؟ جبلّت اس پر حاوی ہو جاتی ہے۔۔۔ وہ ہر اس چیز پر جھپٹتا ہے جو اس کے خیال میں اس کا پیٹ بھر سکے گی اور اسے سردی سے بچا سکے گی۔۔۔ وہ مستقبل کے بارے میں سوچے بغیر اپنے ارد گرد ہر چیز کو تباہ کرتا جاتا ہے۔ جنگل تقریباً سارا ہی ختم ہو چکا ہے اور اب اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

اینٹان چیکوف کے ڈرامے "انکل وانیا" کے اردو ترجمے سے ایک اقتباس
ترجمہ : شوکت نواز نیازی
پی ڈی ایف ویک اینڈ پر پیش کی جائے گی۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2892864407610740