پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#Zimmar "لڑکیاں یہ تحریر پڑھ لیں شاید کوئی لڑکی …


#Zimmar

"لڑکیاں یہ تحریر پڑھ لیں شاید کوئی لڑکی خودکشی کرنے سے بچ جائے”
(از رشحاتِ قلم محمداسلم علی پوری ڈنمارک)- *مرد عورت کی آزادی نہیں بلکہ عورت تک پہنچنے کا آزادی چاہتا ہے* آجکل "عورت کی آزادی” کے دلفریب نعرے بہت لگ رہے ہیں- یورپ کی نقالی کی جارہی ہے- بازو تو ننگے ہوگئے جلد ٹانگیں بھی اس ماڈرن ازم کا شکار ہوکر ننگی ہوجائیں گی جسم کو آہستہ آہستہ ننگے کراتے جانا شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہےمیری ماں سب کی "آپاجی” اور بے شمار لڑکیوں اور لڑکوں کواپنےگھر پر مفت پڑھانے والی ٹوپی والا برقع پہنتی تھیں میری والدہ جوانی ہی میں فوت ہوگئیں میرے تایاجان پرسہ دینے والوں کو بتارہے تھے کہ انکو ہم بڑے لاڈوپیار سے اپنے چھوٹے بھائی کے ہاں بیاہ کر لائے تھے لیکن میں نے انکا چہرہ کبھی نہیں دیکھا پھر میری ماں والا یہ برقع بھی چلاگیا اور اسکی جگہ "فیشنی برقعہ”آیا اور وہ بھی فیشن کی نظر ہوگیااور برقع دقیانوسی چیز قرار پایا پھر چادر آئی وہ بھی چلی گئی اور دوپٹہ سے سر ڈھانپا جانے لگا – پھر دوپٹہ بھی سر سے ڈھلک کر گلے میں آن گرا اور آھستہ آھستہ یہ بھی غائب ہوگیا اور پھر لباس نے ایک نیا رخ اختیار کیا لباس چست اور مختصر ہوتا چلاگیا
آج کل کا لباس چھی چھی چھی !
جو چھپانا ہے وہ دکھاتے ہیں
آخر اس سب ننگے پن کا سبب کیا ہے؟ صرف مرد کو اپنا جسم دکھانا اور پھر مرد بھی ایسی لڑکیوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور انہیں حاصل کرکے انکی زندگی تباہ کردیتے ہیں

مجھ جیسے حساس انسان کو یہ پڑھ کر بہت رونا آیا تھا—

جب انٹرنیٹ کیفے سکینڈل کے باعث، اکلوتی بیٹی کی پنکھے سے لٹکی لاش سے باپ لپٹ کر زارو قطار رو رہا تھا۔

مجھے اس وقت بھی رونا آیا، جب ایک خبیث لڑکے نے، ایک لڑکی سے ناراضگی پراس کی برہنہ ویڈیو اپ لوڈ کردی اور اس بے چاری کو اپنی نبض کاٹ کر دنیا سے جانا پڑا۔

مجھے اس وقت بھی رونا آیا جب ایک لڑکی ایک لڑکے کے سامنے بے لباس رو رہی تھی کہ میری ویڈیو ڈیلیٹ کردو
اور وہ کہہ رہا تھا کہ میرے دوستوں کو بھی خوش کرو اور اس رات وہ چھت سے کود کر مر گئی

مجھے اس وقت بھی رونا آیا جب ایک لڑکی اپنی سہیلی کے ہمراہ اپنے محبوب سے ملنے گئی اور وہاں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بن کر سسک سسک کر مر گئی
ہسپتال والوں نے جب فون کیا تو والدین نے کہا ہماری تو کوئی بیٹی ہی نہیں!

مجھے اس دن بھی رونا آیاجب ایک لڑکی کواس کےمحبوب نے نشہ آور جوس پلا کراپنے دوستوں کے سامنے پیش کیااور اس غم کی ماری نے، ایک ٹرک تلے آکر جان دیدی۔

میں اس وقت کو نہیں بھول سکتا جب ایک لڑکی رورو کر یہ کہہ رہی تھی کہ تم میرے جسم سے کھیلتے رہے ہو شادی کا وعدہ کیا اب تم شادی کیوں نہیں کرتے؟ وہ فقط مسکرارہاتھامیں نے کہا کہ بے غیرت انسان اسے اپنالو! تو کہنے لگا کہ جو میرے پاس آسکتی ہے وہ پتہ نہیں کس کس کے پاس گئی ہوگی؟ یہ ڈائیلاگ میں لڑکوں کی زبانی بے شمار مرتبہ سن چکا ہوں یہ عیاش مردوں کی نفسیات ہے اور ان گندے انسانوں کو یہی خدشہ رہتا ہے- کاش لڑکیاں کسی لڑکے کی محبت میں کودنے سے پہلے میرے یہ الفاظ پڑھ کر سوچیں شاید وہ خود کشی کرنے سے بچ جائیں!

یاد رکھیں مرد تو جسم کا بھوکا ہے۔ وہ عورت کو نوچ بھی لیتا ہے۔ کاٹ بھی لیتا ہے۔ اسے انسان سے کتا بننے میں دیر نہیں لگتی لیکن اسے ایسا بننے کا موقع عورت دیتی ہے اور سمجھتی ہے کہ میری عزت کا رکھوالا بنے گا لیکن وہ یہ نہیں سوچتی کہ جب وہ خود اپنی عزت کی حفاظت نہیں کرسکی تو غیر کیسے کریگا؟ اس محبت کے دلفریب کھیل سے بچیں
ہر مرد مرد نہیں ہوتا
کچھ شیطان بھی ہوتے ہیں
اپنی عزت کرائیں اپنا جسم نمایاں نہ کریں- نیم عریاں جسم ہی درندوں کا شکار ہوتا ہے اور وہ نیم عریاں جسم کو عریاں کردیتے ہیں- لباس ایسا پہنیں کہ دوسرا انسان احترام کرنے پر مجبور ہوجائے- ہم یہاں یورپ میں رہتے ہیں- یہاں عورت آزاد ہوکر زیادہ پریشان ہوگئی کیونکہ اس سے مرد کہ فطرت نہیں بدلی- عورت نے آزادی حاصل کرکے بہت کچھ گنوادیااور اسکے بدلے میں بہت ہی کم فائدہ حاصل کیا مرد اور زیادہ آزاد ہوگیا- لیکن نتیجہ بے حد بھیانک نکلا دونوں اپنا سکون گنوابیٹھے اور خاندانی نظام تباہ ہوگیا- یہاں عورت مردوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر رہ گئی-عورت اور مرد کی اس آزادی کی سزااولاد کو ملی- میں ایک فیملی میں مدعو تھا- میاں بیوی اور بچے میرے ساتھ بیٹھے لیکن یہ بچے اس عورت کے تو بچے تھے لیکن اس مرد کے بچے نہیں تھے- انکی ماں ایک تھی لیکن انکے باپ الگ الگ تھے اور جب یہ چاروں بہن بھائی ایک ہی ماں کے بیٹے اور ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کو اپنے اپنے باپوں کی باتیں کررہے تھے تو میں انکی باتیں حیرانگی سے سن سن کر اللہ کا شکرادا کررہا تھا اور اپنے دین اسلام اور اپنے خاندانی نظام پر فخر کررہاتھا
تہذیب مغربی کو وہ تھپڑ رسید کر
جو اس حرام زادی کا حلیہ بگاڑ دے—————————-آج یورپ میں سب کچھ ہے لیکن ذھنی سکون نہیں ہے – ذھنی سکون حاصل کرنے کیلئے انہوں نے شراب, فری سیکس, منشیات, جوا اور دیگر سب دوسرے طریقے آزمالئیے ہیں لیکن انہیں سکون نہیں مل سکا- کاش ہم یورپ میں رہنے والے مسلمان انہیں بتاسکیں کہ اصلی سکون تو اللہ کے ذکر اور اس خالق کے اپنی مخلوق کیلئے بنائے ہوئے نظام پر چلنے سے ملتا ہے- اَے کاش !!!