اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#hamidnaved من تشاء, (ابن عبداللہ) تیسری اور آخر…


#hamidnaved
من تشاء, (ابن عبداللہ)
تیسری اور آخری قسط

رامش اس سے دور رہنا چاہتا تھا۔وہ جس راستے پر چل رہا تھا اس کا انجام وہ اچھے سے جانتا تھا۔
” ہم اکثر ہی اپنی محبت کا انجام جانتے ہیں پر اسے نظر انداز کر کے خوش گمانی کے درخت تلے بیٹھ کر حقیقت کی دھوپ کو اپنی طرف بڑھتے دیکھتے ہوئے بھی یہ یقین کر لیتے ہیں کہ نہیں خوش گمانی کا درخت ہمیں اس دھوپ سے بچا لے گا۔”
رامش کوئی ٹین ایج لڑکا نہیں تھا ۔ایک ذمہ دار انسان تھا پر اس بار وہ جس چیز کا شکار ہوا تھا وہ بلکل نئی اور اچھوتی تھی ۔
عقل کہہ رہی تھی کہ وہ ان ستاروں کی طرح ہیں جو ایک مدار میں رہ کر بھی نہیں ملتے ہیں
ان کا ملنا بہت بڑی تباہی لاتا ھے۔
پر کچھ جذبوں پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا ہے ۔
” محبت پانی کی طرح ہوتی ہے اپنا راستہ خود بناتی ہے اور آپ اس کے ساتھ بہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ”
رامش بھی اس محبت کی مخالف سمت تیرنے کی کوشش کر رہا تھا پر اس کے طاقت اسے مغلوب کر رہی تھی۔
اسے معلوم تھا کہ اس کے خاندان نے تیمور ولا کا نمک کھایا ہے اور اگر وہ یہاں آیا ہے تو کسی نمک حرام کی طرح ایسا کچھ نہیں کر سکتا جس سے اس کے خاندان پر سوال اٹھیں۔
پر جو محبت اس کے اندر خامو سے پنپ رہی تھی وہ اس سے اب خوفزدہ ہو رہا تھا۔
******
دن تیزی سے گزر رہے تھے تمیور ولا میں معمولات زندگی واپس نارمل روٹین میں آچکے تھے ۔
من تشاء کے علاوہ سب کی زندگی ہی واپس سے شروع ہوچکی تھی۔
ایمان دادی کے قریب تھی اور ارسلان تو ویسے بھی سب کی آنکھوں کا تارا تھا۔
پر من تشاء تنہا ہوچکی تھی۔اور جو کمیاں اس کی ماں نے اپنی محبت سے سب سے چھپا رکھی تھیں وہ ایک ایک کر کے سب پر کھل رہی تھیں۔
ارسلان کی شادی کی تاریخ پکی ہوگئی اور تیمور ولا میں ماتم کی جگہ شہنائیاں بجنے لگیں۔
اس بار ساری خریداری چھوٹی چچی نے کی تھی۔اور شادی کے دن تک بمشکل خریداری پوری ہوئی تھی۔چچی نے ایمان اور من تشاء کے لئے کھلے دل سے چیزیں خریدی تھیں۔
من تشاء کی اپنی تو کوئی پسند نہیں تھی اس لئے اس کے لئے سب کچھ چچی نے اپنی مرضی سے خریدا تھا ۔
اور خلاف معمول اسے پسند آیا تھا۔
شادی سے دو دن پہلے سب اپنی لائی ہوئی چیزوں کو پہن کر دیکھ رہے تھے۔۔
گہرے سبز رنگ اور کوپر کلر کا غرارا چچی نے من تشاء کے لئے لیا تھا ۔
ملبوسات جیولری اور جوتے وغیرہ سب میچنگ تھے اور جب اس نے وہ سب پہن کر چچی کو دکھایا تو انہوں نے کہا بلاشبہ تم پر یہ بہت جچ رہے ہیں ۔
پھر شادی کا دن بھی آگیا۔
میرب کو بلانے کے باوجود وہ نہیں آئی تھی اور من تشاء سخت الجھی تھی۔
آج بارات والے دن جب وہ تیار ہو کر کمرے سے نکلی تو سب کی نگاہیں اس پر جم گئیں۔
چچی نے بڑی محنت سے اسے تیار کیا تھا اور وہ آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
ثمینہ چچی ایک سلجھی ہوئی خاتون تھیں وہ جانتی تھیں من تشاء کیسی لڑکی ھے وہ چاہتی تھیں بھائی ہی شادی پر وہ کسی بھی قسم کی احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔۔اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئیں تھی ۔
*****
دن بھر کی تھکن سے چور وہ بستر پر گر چکی تھی پر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔عشاء کی نماز میں وہ خوب روئی تھی۔
میرب نے اسے کال کر کے شادی پر نہ آنے کی وجہ بتاتے ہوئے معذرت کی کہ احل آج باہر جا رہا تھا اس لئے وہ نہیں آسکی۔۔۔
آج من تشاء کو ادراک ہوا تھا کہ اسے احل سے محبت ہوگئی تھی ۔کب اور کیسے یہ تو اسے بھی معلوم بھی نہیں تھا۔
پر ہر لمحہ اس کی محبت کا احساس گزرے لمحے سے زیادہ ہو رہا تھا۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں آنسو اس کے رخساروں کو بگھو رہے تھے اس بے اپنے وجود کو اپنے بازؤں میں لیٹ لیا۔
اس احساس کے ساتھ کہ اس کی ماں نے اسے سینے سے لگا دیا ہے۔۔
پھر جانے کب اسے نیند آئی۔۔
فجر کی آزان کے ساتھ اس کی آنکھ کھلی معمول کے مطابق اس نے بسمہ اللہ پڑھی اور وضو کر کے دو رکعت نوافل کی نیت باندھ لی۔
آج اپنے دوست کے ساتھ کرنے کے لئے اس کے پاس بہت ساری باتیں تھیں ۔
نوافل کے بعد وہ تسبیح پڑھتے ہوئے جانے اسے کیا ہوا کہ وہ سجدے میں گر کے رونے لگی۔۔
آج اس کی دعاؤں میں ماں کے ساتھ ایک اور رشتے بھی جڑ گیا تھا اور وہ رشتہ احل کا تھا۔
خوب رو کر دعائیں مانگ کر اس کا دل کچھ ہلکا ہوا تھا۔۔
آج من تشاء کو احساس ہوا تھا کہ وہ احل کی محبت میں پوری طرح ڈوب چکی تھی۔
یوں تو وہ دن میں پانچ وقت اپنے دوست اللہ سے باتیں کرتی تھیں اور اسے لگتا جیسے اللہ اس کی باتیں سن کر اسے جواب بھی دیتا ہے پر
اب ایک انسان تھا جس سے وہ باتیں کرنے لگی تھی ۔۔جیسے جیسے دن گزر رہے تھے من تشاء کی دیوانگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔اب تو وہ براہ راست احل سے باتیں کرنے لگی تھی اس کا یہ تصور اس قدر مضبوط تھا کہ وہ احل سے باتیں کرتی تو لگتا جیسے وہ اس کے پاس بیٹھا اس کی باتیں سن رہا ہے ۔
فجر کو کبھی یہ محبت یکطرفہ لگی ہی نہیں تھی اب وہ اکیلی نہیں رہتی تھی احل کا احساس ہر دم اس کے پاس رہتا تھا ۔
*****
میرب من تشاء کی وجہ سے کافی پریشان تھی۔وجہ اس کی اداس آنکھیں تھیں ۔جہنیں دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ کسی بھی وقت چھلک جائیں گی۔نہ وہ ٹھیک سے سوتی تھی اورنہ کھانے پینے کا اسے ہوش تھا۔
میرب کو لگا شاید وہ اپنے گھر کی وجہ سے پریشان ہے۔
چھوٹی چچی کی نرم مزاج تھیں پر بڑی چچی کی کبھی ان سے اور ایمان آپی سے نہیں بنی تھی۔
دادی کو تو وہ لگتی ہی بری تھی اس لئے وہ اپنے گھر میں قید ہوکر رہ گئی تھی۔اگر کسی کا موڈ کسی اور پر خفا ہوتا تو اس کا غبار من تشاء پر نکلتا تھا ۔
ایمان آپی کی نسبت طے ہوچکی تھی اور ماہ شوال میں ان کی شادی متوقع تھی۔
ایمان کا رشتہ چھوٹی چچی کے رشتہ داروں میں ہوا تھا دادی جلدی از جلد ایمان کی شادی کرانا چاہتی تھیں۔وجہ بڑی چچی تھیں۔
جہنوں نے اپنے نکھٹو اور نالائق بھائی کے لئے ایمان کا رشتہ مانگا تھا ۔۔
ان کے خیال میں بن ماں باپ کے بچی ھے کون پوچھے گا پر ایمان میں تو دادی کی جان تھی بہو کو ایسی ایسی سنائیں کہ دوبارہ ان کی ہمت ہی نہیں ہوئی کچھ کہنے کی۔
بڑی چچی کا نام ملیحہ تھا پر ملاحت انہیں چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔ان کو ایمان سے عجیب سی نفرت تھی۔ان کے بھائی ایمان کو پسند کرنے لگے تھے جو کسی بھی لحاظ سے ایمان کے لائق نہیں تھے۔شکل نہ عقل اوپر سے کوئی کام کاج بھی نہیں کرتے تھے۔میٹرک فیل تھے۔
اس رشتے کی چھوٹی چچی نے بھی مخالفت کی تھی نتیجہ ان سے بھی بڑی چچی کی ٹھن چکی تھی ۔
بس اس روز روز کے جگھڑے سے تنگ آکر چھوٹی چچی کی طرف سے آنے والے ایک معقول رشتے کو دیکھ کر دادی نے ہاں کر دی تھی ۔
جنید ایم اے انگلش تھا اور اپنا بزنس تھا دیکھنے میں بھی معقول انسان
وہ اپنے بیٹے کے لئے رشتہ تلاش کر رہے تھے اور یوں ان کی نظر انتخاب ایمان پر آئی۔چھوٹی چچی کی توسط سے رشتہ طے ہوگیا اور ایمان کی منگنی ہوگئی۔
دادی جلد از جلد ایمان کی شادی کرنا چاہتی تھیں پر ارسلان کے امتحان تھے وہ ڈل میتھ کے ساتھ ایم ایس سی کر رہا تھا اور ہر وقت کتابوں میں ڈوبا رہتا تھا۔
اس کے امتحانات کے مناسبت سے تاریخ رکھی گئی تھی۔
پر من تشاء کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں تھی وہ سب سے الگ ہو چکی تھی کم نیند اور کم خوراکی سے اسے کسی بیماری کے نہ ہونے کے باوجود مریضہ بنا دیا تھا ہر وقت اس کی آنکھیں اداس اور متورم رہتی تھیں۔وہ تو غنیمت تھا کہ کسی کی اس پر توجہ ہی نہیں ہوتی تھی ۔
بس ایک میرب تھی جس اس کی وجہ سے پریشان رہتی تھی ۔اسے لگتا تھا کہ من تشاء گھر میں تناؤ کی وجہ سے پریشان ہے پر کہیں نہ کہیں اسے لگتا تھا جیسے وجہ کچھ اور بھی ہے۔وہ چاہتی تھی من تشاء خود ہی اسے سب بتائے کیوں کے وہ جانتی اس کے پوچھنے پر وہ اسے کبھی کچھ نہیں بتائے گی۔

****
رامش تیمور ولا کے حالات سے باخبر تھا۔۔اور من تشاء کی گرتی ہوئی صحت اسے پریشان کر رہی تھی۔اسے موقع نہیں مل رہا تھا کہ وہ من تشاء سے بات کرے۔
آج اتنے دن بعد اسے لان میں بیٹھے دیکھ کر وہ سیدھا اس کی طرف آیا تھا ۔
ہیلو من تشاء کیسی ہیں آپ؟
دکھائی تو دے رہی ہوں کیسی ہوں ۔
وہ زبردستی مسکرائی۔
رامش اس کے پاس بیٹھ چکا تھا۔
اپنی صحت کا خیال رکھیں میں کافی دنوں سے نوٹ کر رہا ہوں کہ آپ ٹھیک نہیں ہیں ۔انسان اپنا خیال خود رکھتا ہے تو وہ ٹھیک رہتا ہے کوئی کسی کا خیال نہیں رکھتا ھے
جی میں ٹھیک ہوں آپ کو وہم ہوا ہے۔
مم تشاء نے کہا ۔
آپ ٹھیک نہیں ہیں میں کہہ تو رہا آپ کی صحت گر رہی ھے۔
رامش نے اپنی بات پر زور دیا تو وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
میں نے جو کہا ٹھیک ہوں تو مطلب ٹھیک ہوں۔آپ کو یا کسی اور کو میری فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ھے۔
سپاٹ لہجے میں کہتی وہ وہاں سے اٹھ گئی اور رامش ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔
جانے وہ کیوں اپنے ساتھ ایسا کر رہی تھی ۔یہ سوال رامش کو پریشان کر رہا تھا ۔
*****
من تشاء امتحان پاس کر چکی تھی اور اد دوران بہت کچھ بدل چکا تھا۔میرب کی منگنی اپنے کزن کے ساتھ طے ہو چکی تھی اور احل کے آنے میں کافی وقت رھے۔
ایمان آپی کی شادی ہوچکی تھی اور ارسلان امتحان کے بعد آگے ایڈمیشن لینے کی تیاریوں میں تھا۔ایمان اپنے گھر میں خوش تھی۔۔ایمان کی شادی کے بعد تیمور ولا میں جگڑا طول پکڑ چکا تھا جس کے نتیجے میں بڑی چچی نے علحدہ گھر کا مطالبہ کیا تھا بڑے چچا بھی اس کے ساتھ تھے۔۔دادی بھی یہی سوچے بیٹھیں تھیں انہوں نے جائیداد کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔
دادی کی اس کی بات پر من تشاء نے پہلی بار کھل کر کہا تین کیوں۔۔پھپو کا حصہ بھی ہونا چاہیے ۔۔اس کا اتنا کہنا تھا جیسے قیامت آگئی بڑے چچا تو ایسے غضبناک ہوئے کہ جیسے اس نے کوئی خلاف اسلام کوئی بات کر دی ہو۔
من تشاء کو احساس ہوا کہ جس معاشرے میں وہ زندہ ھے۔وہاں مذہب سے رسم و رواج زیادہ مضبو ہیں۔
اور شاید ان کی اہمیت ایک جان سے زیادہ قیمتی ھے۔
اسے پہلی بار لگا احل کو نادانستہ انکار کرنا ہی اس کے حق میں اچھا تھا ۔۔
من تشاء کی طبیعت اب مکمل رہنے لگی تھی اب تو چھوٹی چچی بھی اس کی وجہ سے پریشان تھیں کہی بار اس سے پوچھ چکی تھیں پر وہ پڑھائی کے دباؤ کا کہہ کر بات ٹال دیتی تھی۔
پر میرب کی برداشت اب جواب دینے لگے تھی ۔
پھر ایک دن کالج کے لان میں بیٹھے ہوئے میرب نے اس سے صاف پوچھا ۔
من تشاء کیا بات ہے تم پریشان رہتی ہو کیا ہوا ہے تمہیں ۔
میرب کی بات سن کر من تشاء کی انکھیں جو کم سے رونے کو بے چین تھیں چھلک اٹھیں۔اور وہ ہلکی سی آواز میں بس اتنا ہی کہہ سکی تھی ۔
میرب۔۔احل۔
میرب تو جیسے سکتے میں آگئی تھی۔اسے یوں لگا جیسے کسی نے اس کے سر پر بم پھوڑ دیا ہو ۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اس کی حد درجہ حساس دوست اتنے عرصے سے اس کے بھائی کی محبت میں گرفتار ھے وہ بھی یک طرفہ ۔
من تشاء بولے جا رہی تھی پر میرب کے کانوں میں اس کے بھائی کا وطن چھوڑنے سے پہلا والا جملہ سنائی دے رہا تھا۔
کون من تشاء۔۔۔۔؟؟
من تشاء نے میرب کا کاندھا پکڑ کر ہلایا تو وہ جیسے ہوش میں آئی۔
اچھا چلو اس پر پھر بات کرتے ہیں یہ جگہ مناسب نہیں
میرب نے جیسے خود کو تسلی دینے کے لئے کہا تھا
*****

احل لندن سے آکر مزید آگے تعلیم جاری رکھنے کی تیاری میں تھا ۔لندن میں بھی وہ بس پڑھائی کا ہوکر رہ گیا تھا نہ اتنے دوست بنے نہ وہ اس ماحول میں ایڈجسٹ ہو پایا ۔۔
اس کے دماغ میں دادی اور ماں کی یہ باتیں تھیں کہ وہاں بس پڑھنا ھے اور کچھ نہیں ۔ویسے بھی وہ اپنے گھر کے معاملات میں سنجیدہ قسم کا جوان تھا جو غیر ضروری چیزوں میں پڑ کر اپنا وقت برباد نہیں کرتا تھا ۔
لندن یونیورسٹی سے اس نے فرسٹ کلاس ڈگری لی تھی اور وہاں اسے ہمیشہ گھر کی یاد ستاتی تھی
کبھی کبھی من تشاء ہے انکار کو سوچ کر اس کے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی تھی پر وہ خود کلامی کرتا تھا ۔
کہ اس نے مجھے مٹی سمجھ کر انکار کیا تھا اب میں اسے آسمان میں ستارہ بن کر چمکتا دکھائی دوں گا۔
اپنی اس خود کلامی پر اسے اپنے اندر یہ بات ضرور سنائی دیتی تھی کہ احل یہ محبت تو نہیں یہ تو ضد ھے۔
پر جواباً اسے کبھی اس پر شرمندگی نہیں ہوئی اسے فخر تھاکہ اس نے من تشاء کے انکار کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ کامیابی کا زینہ بنایا تھا۔
من تشاء اسے ٹھکرا کر یقیناََ پچھتائے گی پر وہ کبھی بھی نہیں پچھتائے گا
لندن سے واپسی پر ایک بڑی کمپنی میں جاب اس کی منتظر تھی اور وہ اپنی زندگی میں اب کافی حد تک پرسکون تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ کوئی اس کے ہجر میں جل کر راکھ ہو رہا ہے ۔
****
من تشاء یونیورسٹی سے آج اکیلی ہی نکلی تھی اس کے ڈرائیور کو بڑی چچی نے اپنے کام سے بیجھ دیا تھا اور اسے کال کر کے بتا دیا تھا کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ سے آج گھر آئے۔
من تشاء کو دکھ ہوا۔
پر اصل دکھ اسے اپنے باپ کے رویے پر تھا۔جو اسے یوں بھول چکے تھے جیسے وہ ان کی بیٹی ہی نہیں تھی۔
بس سٹاپ پر وہ اپنی سوچوں میں غلطاں کر کھڑی تھی جب فیضی وہاں اپنے لفنگے دوستوں کے ساتھ آتا دکھائی دیا ۔
بس سٹاپ خالی تھا ۔
کیسی ہو جان من کب تک نظر انداز کرو گی مجھے ۔
سیٹی بجاتے ہوئے اس نے کہا۔
من تشاء نے اس کی بات نظر انداز کی
بس لیٹ آئے گی کیوں نہ ساتھ چلو کچھ وقت ہمارے ساتھ بھی گزارو ۔
وہ اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا
باقی اس کے دوست دور کھڑے ہنس رہے تھے
دفع ہوجاؤ یہاں سے زلیل انسان ۔
من تشاء نے غصے سے کہا تو اس کے چہرے کے نقش بدلے۔
ایسی بھی کیا بات ہے تم میں جو اتنا اکڑتی ہو دکھاؤ مجھے۔
اس نے من تشاء کے حجاب پر ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔
من تشاء پیچھے ہٹی۔۔۔
اس وقت سب سوئے ہوئے تھے اور روڈ خالی تھا۔
اس کے دوست بھی اب وہاں اچکے تھے ۔
پلیز مجھے جانے دو۔
من تشاء خوف سے روہانسی ہو رہی تھی ۔
ایسے کیسے جانے دیں تمہاری اکڑ تو ختم کرنی ہی ہوگی تاکہ تمہیں پتا چلے فیضی سے پنگا لینا کسے کہتے ہیں۔۔
وہ خباثت سے مسکرایا۔
اچانک ہی سڑک پر ایک بائیک کی غراہٹ ابھری ۔
ایک بائیک وہاں رکی ۔۔
وہ بائیک والا نیچے اتر آیا تھا ۔سر پر ہیلمنٹ ہونے کی وجہ سے اس کا چہرہ نہیں دکھائی دے رہا تھا ۔
یہاں سے چلتے بنو ۔۔فیضی کا ایک دوست اس کی طرف بڑھا۔
اگلے ہی لمحے اس بائیک سوار نے سر سے ہیلمٹ اتاری گھما کر فیضی کے دوست کے منہ پر ماری۔
وہ رامش تھا۔
من تشاء نے اس کی آنکھوں میں سرخی کی لہروں کو دیکھا ۔
اس لڑکی سے دور رہو۔
وہ غرایا۔۔۔اس کی آواز میں اس قدر سنگینی تھی تھی کہ فیضی کے چہرے کا رنگ بدلا۔
وہ من تشاء کی طرف بڑھا اور اس کے ہاتھ پکڑ ا۔۔وہ اس کے ساتھ کھینچتی چلی گئی تھی۔
بائیک کے پاس جاکرا رامش رکا اور پھر واپس پلٹا۔
دوبارہ اس لڑکی کے آس پاس بھی مجھے تم لوگ دکھائی دئیے تو تمہاری جان لے لوں گا اسے دھمکی مت سمجھنا ۔
من تشاء کو اپنے پیچھے بٹھا کر وہ وہاں سے نکل آیا تھا ۔
کچھ آگے جاکر اس نے بائیک روکی اور اس کی طرف مڑا۔
تم ٹھیک تو ہو؟
من تشاء شاکڈ سے نکل آئی تھی اگلے ہی لمحے وہ رونے لگی
ارے ارے۔۔۔سب ٹھیک ہے روئے مت تم ۔
وہ بوکھلا گیا ۔
پر وہ اس کی بات سنے بغیر مسلسل روئے جا رہی تھی ۔رامش نے کچھ دیر اسے چپ کرانے کی کوشش کی پھر خاموشی سے بائیک تیمور ولا کی طرف جانے والی سڑک پر ڈال دی۔
اس کے آنسو دیکھ کر رامش کا دل کر رہا تھا کہ ان لڑکوں کو ابھی جاکر شوٹ کر دے۔۔

*****
میرب نے احل کی واپسی کی خبر من تشاء سے چھپا رکھی تھی اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کرے۔احل ٹرینگ پر اسلام آباد جا چکا تھا اور میرب چاہ کر بھی اس سے من تشاء کے بارے میں کوئی بات نہیں کر سکی تھی
اسے احل کے رویہ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔
اور من تشاء کی ہر لمحہ بے چینی بھی اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔
جس دن من تشاء نے اسے احل کا بتایا تھا اسی دن وہ لندن سے پاکستان کے لئے نکلا تھا ۔
اس کے کانوں میں بھائی کا بس ایک جملہ ہمیشہ گونجتا تھا ۔۔کہ کون من تشاء؟
یعنی احل نے اسے بس پسند کیا تھا اور انکار پر اسے بھلا دیا تھا
من تشاء دو تین بار ہی احل کے سامنے آئی تھی اور کبھی ان کی آپس میں کوئی بات تک نہیں ہوئی تھی ۔
پھر من تشاء کو احل سے اتنی شدید محبت کیسے ہوگئی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔
جتنا وہ اس معاملے پر سوچ رہی تھی اتنا پریشان ہو رہی تھی ۔
اسے اپنے بھائی کی ضد اور انا کا بھی پتہ تھا ۔۔
بھائی کے اسلام آباد سےلوٹتے ہی میں اس سے بات کروں گی
میرب اس فیصلے پر پہنچ کر مطمئن ہوئی تھی۔
*****
من تشاء بائیک سے اتر کر اندر بھاگ گئی تھی رامش طویل سانس لیکر واپس جانے کے لئے پلٹا تو اسے دادی کی آواز سنائی
سنو رامش۔
وہ پلٹا۔۔دادی لان میں کھڑی تھیں ۔رامش کی نظر پہلے ان پر نہیں گئی تھی
سلام دادی جان!
وعلیکم السلام ۔۔کیا ہوا اسے اور یہ تمہارے ساتھ کیوں آئی اور رو کیوں رہی ہے؟
وہ پوچھ رہی تھیں ۔
ایک لمحے کو رامش کا دل کیا وہ کچھ نہ بتائے پر پھر یہ سوچ کر کہ اس طرح من تشاء اور اس کا کردار مشکوک ہو سکتا ہے ساری بات بتا دی۔
وہ اس کی باتیں سن کر سوچ میں کھو گئیں ۔
رامش کچھ دیر ان کے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر بولا۔
میں جاؤں دادو؟
ہاں۔۔ہاں تم جاؤ
وہ چونکی اور سر ہلاتے ہوئے بولیں ۔۔
رامش نے انہیں سلام کیا اور خاموشی سے بائیک پر بیٹھ کر باہر نکل گیا۔
بڑی بیگم کے پیشانی پر شکنوں کا جال پھیل چکا تھا
*****
بڑی چچی نے پینترا بدلا تھا۔۔انہوں نے اب من تشاء کا رشتہ مانگا تھا اور بڑے چچا کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔
اس بار انہوں نے پکا داؤ کھیلا تھا۔
اپنے شوہر سے انہوں نے کہلوا دیا تھا کہ اگر یہ رشتہ نہ ہوا تو وہ کبھی بھی تیمور ولا میں نہیں آئیں گے
پڑی بیگم کو من تشاء سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔۔اس لئے اس بار انہوں نے کچھ خاص ردِعمل نہیں دیا۔
بڑی چچی نے ان سے کہا کہ ایک ہی لڑکا ھے ان کے ہاتھ تلے رہے گا ۔
بڑی بیگم نے تیمور ہمدانی سے بات کی۔۔انہوں نے کہا آپ جیسا مناسب سمجھیں۔
ویسے بھی تیمور ہمدانی کو بزنس سے فرصت کم ملتی تھی اور گھر کے ایسے فیصلے بڑی بیگم خود ہی کرتی تھیں ۔
ایمان اپنے شوہر کے ساتھ دبئی جا چکی تھی ۔۔چھوٹی چچی نے ایک بار پھر اس فیصلے سے اختلاف کیا پر بڑی بیگم کے تیور دیکھ کر چپ رہ گئیں۔
من تشاء کو جب اس رشتے کا علم ہوا پہلے تو اسے یقین ہی نہیں آیا تھا۔
پر وہ جانتی تھی وہ کسی کے لئے اتنی اہمیت نہیں رکھتی ہے اتنا سوچا جائے ۔
اس لئے وہ سمجھ چکی تھی کہ اس سولی پر جلد ہی اسے ٹانگ دیا جائے گا۔
اسے اپنے بچنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔
اس کے مقدر کو خدا لکھتے وقت جانے کس بات پر برہم تھا کہ اس کے نصیب میں سوائے آنسوؤں کے اور کچھ بھی نہ تھا
*****
من تشاء میرب سے ملنے آج اس کے گھر آئی تھی اور میرب کی امی نے ہمیشہ کی طرح اسے گلے لگا کر بہت ساری دعائیں دی تھیں۔اب وہ میرب کے پاس اس کے کمرے میں بیٹھی تھی۔
اب مجھے شروع سے ساری بات کہ کیسے تمہیں بھائی سے اتنی محبت ہوئی
میرب نے پوچھا تو من تشاء سوچ پر پڑھ گئی۔۔پھر کچھ دیر بعد بولنے لگی۔
میں نہین جانتی کہ ایسا کب ہوا ہے ۔۔جس دن تم احل کی بات کر کے گئی تھی اور میں نے انکار کر دیا تھا اس دن کے بعد میں ہمیشہ سے ہی اسے سوچنے لگی تھی۔۔ارسلان کی شادی پر خود کو دیکھ کر مجھے لگا شاید مجھے کوئی بھی پسند کر سکتا ھے۔۔
وقت گزرنے کے ساتھ احل کا احساس مجھے شدید تر ہونے لگا تھا ۔
میں نے غلطی کر دی تھی میرب بہت بڑی۔
من تشاء سسکی تو میرب نے اسےدلاسا دیا
ایسی بات نہیں وہ تمہارا حق تھا۔
ہر گزرتے دن مجھے احل کی محبت میں مزید گہرا ڈبو گیا۔۔میں یہ بات کسی سے بھی کرنے سے ڈرتی تھی۔سوائے اپنے دوست اللہ سے۔میں نے سجدوں میں احل کو مانگا اور اس کی روئی۔مجھے خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ مجھے کیا ہوا ہے۔
تب سے مجھے احل کی محبت دیمک کی طرح کھائے جا رہی ھے۔
میں یہ بات کبھی بھی احل سے نہیں کہہ سکوں گی میں اس سے محبت کرتی ہوں اور اس کے لئے دھیرے دھیرے مر رہی ہوں۔
احل میرے دل کے ساتھ دماغ پر بھی حاوی ہو چکا ھے
شاید سب کی بے روخی کے بعد احل کی محبت ہی تھی جو مجھے ملی اور ایک بد قسمت لڑکی کے لئے یہ بہت قیمتی چیز تھی ۔جب بھی احل کی یاد آتی ھے میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
میرب کو یاد آیا ایک بار وہ اسے ملنے گئی تو وہ سو رہی تھی اور تب اس نے دیکھا تھا کہ سوتے ہوئے بھی من تشاء کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔
میرب تم میرے لئے احل سے بات کرو گی کیا پلیز انکار کہ کرنا.
من تشاء کی بات کر میرب سوچ میں پڑ گئی۔
وہ اسے کیا بتاتی کہ احل اس کے انکار کے بعد اسے دو دن میں ہی بھول چکا تھا ۔
پر وہ یہ بات سمجھ چکی تھی من تشاء کے دل میں احل کی محبت دیوانگی کی حد تک شدید ھے۔
اگر اسے مناسب طریقے سے احل کا نہیں بتایا گیا تو من تشاء پاگل ہو جائے گی۔
میں اس پر کچھ سوچوں گی۔۔
من تشاء اس کا شکر یہ ادا کر چلی گئ پر میرب کو بری طرح پریشان کر گئی تھی۔
****
وہ گاؤں کے گھر کے صحن میں بیٹھا سوچوں میں کھویا ہوا تھا ۔
جو بات دل میں ھے وہ کہہ دو بیٹے جب سے شہر گئے کو کسی گہری سوچ میں گم رہتے ہو۔
ماں کی آواز پر سوچوں سے نکلا۔۔
ایسا نہیں ہے ماں
رامش نے مسکرانے کی کوشش کی۔
کچھ تو ھے جو تم کھوئے کھوئے سے رہتے ہو ہر وقت ۔ایسی کون سی بات ہے جو تم ماں کو نہیں بتا سکتے ہو۔جب بھی گاؤں آتے ہو میں اسی طرح تمہیں دیکھتی ہوں
ارے آپ بھی نا بس جاب اور آگے سٹڈی کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔
رامش نے کہا
ماں کی نگاہیں اولاد کی سوچوں کو بھی سمجھتی ہیں پتر ۔۔جو بات ہے کہہ دو مجھ سے نہ سہی کسی اور سے کہہ دو ۔کچھ باتیں وقت پر نہ کہیں جائیں تو عمر بھر اندر ہی اندر ڈستی رہتی ہیں ۔
ماں کی بات پر اس نے مسکرانے پر ہی اتفاق کیا۔
وہ کچھ دیر اس کے پاس بیٹھی ادھر اُدھر کی باتیں کرتی رہی پھر گھر کے کاموں میں مشغول ہوگئیں ۔
رامش سوچ رہا تھا کہ عمر بھر بچھتانے سے بہتر ھے کہ من تشاء سے بات کر لی جائے۔
اپنی اس سوچ پر وہ مسکرایا اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔
اس بار شہر جاتے ہی اسے بتا دوں گا۔
اس نے خود کلامی کی تھی۔
*****
احل ٹرینگ سے واپس آچکا تھا خوبرو وہ پہلے ہی تھا پر اب باہر کی آب ہوا اور کامیابی نے اسے مزید وجیہہ بنا دیا ےھا ۔
بہترین تعلیم اور اعلیٰ جاب پاکر اس کا دماغ ہواؤں میں تھا ۔
میرب کچن میں رات کا کھانا بناتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ بھائی سے کس طرح بات کہ اس کے سامنے من تشاء کی سبکی بھی نہ ہو۔
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب احل کچن میں داخل ہوا اور اس کے سر پر محبت سے چیت رسید کی۔
میرب یک ٹک اپنے بھائی کو دیکھنے لگی جیسے وہاں کچھ ڈھونڈ رہی ہو۔لیکن وہ بھلا کی خود اعتمادی کے سوا اسے کچھ نہ پلا تو اس نے نگاہیں جھکا لیں۔۔
احل نے کچھ دیر بعد خود ہی پوچھا ۔
وہ تمہاری دوست کی شادی ہوگئی ہوگی اب تک۔
پھر خود ہی بولا۔
شکر مجھے عقل آگئی ورنہ اس سڑیل کے ساتھ عمر گزارنی پڑ جاتی مجھے۔
اپنی بات پر اس نے قہقہ لگایا۔
میرب کو سمجھ نہیں آرہی تھی کس پر افسوس کرے بھائی پر یا اپنی دوست
میرب نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس بارے میں وہ احل سے اب بات نہیں کرے گی۔کیوں کے کچھ پوچھے بنا ہی اسے احل کا جواب پتا چل گیا تھا تھا ۔
******
آج صبح سے من تشاء میرب کو دل بار کال کر چکی تھی پر کسی نے کال رسیو نہیں کی
ابھی بھی وہ فون کان سے لگائے ہوئے تھے بیل جارہی تھی ۔
جب وہ فون رکھنے ہی والی تھی دوسری طرف سے فون اٹھا لیا گیا ۔
پر جس ہستی نے فون اٹھایا اس سے بات کرنے کے لئے بڑی ہمت کی ضرورت تھی ۔وہ کال بن بھی نہیں کر سکتی تھی کہ وہ سلام کر چکی تھی۔
احل کو اندازہ ہو چکا تھا کہ دوسری طرف کون ھے۔
اس نے بے تکلفی سے وعلیکم السلام اور حال چال پوچھا ۔
من تشاء کی جان میں جان آئی کہ احل کے دل میں غبار نہیں اس کے بارے میں۔
اس نے احل سے حال چال پوچھا اور پھر ہمت کر کے یہ بھی پوچھ لیا کہ جاب کیسی جا رہی ھے اور زندگی کیسی گزر رہی ھے
احل نے کہا یہ تو شروعات ہیں۔۔سب اچھا جا رہا ہے
انشاء۔۔اللہ آپ کو ہر چیز سے نوازے گا میں نے آپ کے لئے دعائیں جو اتنی کی ہیں۔
اگلے ہی پل اسے اپنی بے وقوفی کا احساس ہوکا احساس ہوا ۔
احل ساری بات سمجھ چکا تھا ۔کافی دیر خاموشی رہی۔
من تشاء فون رکھنے ہی والی تھی کہ احل بولا۔
من تشاء میری سنئے ۔
من تشاء کو اس کے لہجے کی قطعیت سے خوف آیا اور ساتھ ہی اپنا انکار کرنا بھی۔۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی فون بند نہیں کر سکی تھی۔۔
جی میں سن رہی ۔۔اس کے منہ سے بمشکل یہی الفاظ نکلے تھے۔
مجھے ایک لڑکی پسند ہے مائرہ نام اس کا میں جلد اس سے منگنی کر رہا ہوں۔
اس سے آگے کہ الفاظ من تشاء نہیں سن سکی تھی۔۔اسے لگا جیسے ابھی اس کا دل بند ہو جائے گا۔
اس نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا تھا۔
احل بہت مبارک ہو آپ کو۔
اس نے کانپتی آواز میں کہا۔۔۔احل نے اس کی آواز میں آنسوؤں کو محسوس کر لیا تھا تبھی وہ بولا۔
آپ مجھے اچھی لگیں تھیں اور میں نے مناسب طریقے سے پیغام بھی دیا تھا جسے آپ نے رد کر دیا تھا ۔
ظاہر ھےجو آپ کو مناسب لگا وہ آپ نے کیا اب جو مجھے مماسن لگے گا میں وہ کروں گا۔
من تشاء نے فیصلہ کر لیا وہ دل کی بات کہہ دے اس لئے وہ بولی۔
احل میں آپ سے محبت کرتی ہوں اور بہت زیادہ کرتی ہوں۔
اس وقت میں سمجھی نہیں میرے اندر اعتماد کی کمی تھی پر وقت گزرنے کے ساتھ احساس ہوا کہ میرا وجود آپ سے ہے۔
من تشاء نے امید بھرے لہجے میں کہا۔
پر احل نے جیسے کچھ سنا ہی نہیں تھا۔اس لئے بڑے نارمل انداز میں بولا
بچوں جیسی باتیں نہ کریں آپ مجھے اب کچھ مزید کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

فجر چند لمحے کے لئے سن سی ہوگئی۔۔پھر بولی۔
میرا آپ پر اتنا حق ہے کہ آپ کے لئے دعا تو کرسکتی ہوں وہ میں کرتی رہوں گی۔
باقی کبھی آپ کو شاید فخر ہو کہ آپ نے مجھے پسند کیا تھا اور پھر ٹھکرایا تھا۔۔پر میرا دوست مجھے کبھی نہیں ٹھکرائے گا۔۔
فجر نے کال کاٹ دی وہی گر کر رونے لگی ۔
******
احل نے مائرہ کا بم میرب کے سر پر پھوڑ دیا تھا اور اسےا سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ یہ بات من تشاء سے کیسے کہے گی۔
وہ من تشاء کو ملنے آئی تھی اور اس کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی ۔
مائرہ کیسی ہے میرب کیا وہ خوبصورت ہے مجھ سے بہت زیادہ؟
من۔تشاء نے اچانک میرب سے سے پوچھا وہ نظریں چرا گئی۔
بتاؤ نا۔
میرب کی آنکھیں نم ہوئیں اور اس نے من تشاء کو گلے سے لگا دیا ۔
کوئی لڑکی تم جیسی نہیں ہوسکتی ہے من تشاء ۔
پر من تشاء بے حس بنی رہی۔
میرب نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جو بلکل خشک اور خالی تھیں ۔
میرب کو اس کی آنکھوں سے آج بہت خوف آیا۔۔اس قدر خالی آنکھیں اس نے کبھی بھی نہیں دیکھی تھیں
میرب نے من تشاء سے معافی مانگی کہ اس نے احل کی واپسی کا اسے نہیں بتایا۔۔وہ چاہتی تھی اسے دکھ نہ ہو۔
پر من تشاء نے یہ کہہ کر اسے چپ کرا دیا کہ احل جو گیا تھا وہ واپس نہیں آیا ھے میرب ۔
میرب کے پاس کوئی جواب نہیں تھا وہ بس خاموشی سے من تشاء کو دیکھتی رہی ۔
اسے احل پر افسوس ہو رہا تھا کہ اس نے من تشاء جیسی لڑکی کو۔کھو دیا جو اس سے بے تحاشہ پیار کرتی تھی
******

رات کو من تشاء کی طبعیت خراب ہوئی اور بے ہوش ہو چکی تھی۔۔ڈاکٹرز نے زہنی دباؤ کا بتایا تھا۔
چھوٹی چچی اس کے پاس بیٹھی ہوئیں تھیں۔
من تشاء بے ہوشی میں بھی احل کا نام لے رہی تھی۔
اب ان پر ساری بات کھل چکی تھی۔
انہیں اتنے عرصے سے فجر کی گرتی ہوئی صحت اور دیوانگی جیسی عبادت اور لمبی لمبی دعاؤں کی اصل وجہ آج پتا چلی تھی۔
انہیں فجر پر دکھ ہو رہا تھا ۔۔اتنا عرصہ وہ اندر ہی اندر کسی کی محبت سے مر رہی ہے کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔
پر اب انہوں نے سوچ لیا تھا کہ من تشاء کے ٹھیک ہوتے ہی وہ اسے ساتھ لیکر خود احل کے گھر جائیں گی اور ساری بات کریں گی۔
چاہے انہیں کچھ بھی کرنا ہو۔
****
من تشاء کو ٹھیک ہوئے کچھ دن گزر چکے تھے
وہ اپنے کمرے میں لیٹی تھی جب چھوٹی چچی وہاں داخل ہوئیں۔
سنو میرب کی کال آئی ہے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ھے تمہیں وہاں بلایا ھے میں بھی ساتھ چلتی ہوں
من تشاء ہڑ بڑا کر اٹھی ۔
چلیں چچی۔۔۔اچانک اسے جیسے کوئی خیال آیا تو بولی۔
پر وہاں تو۔۔۔
وہاں کیا؟
جلدی کرو ۔۔احل بھی گھر پر نہیں ھے ۔۔
من تشاء نے شکر کیا اور ان کے ساتھ باہر گاڑی میں آکر بیٹھی ۔
ڈرائیور کو میرب کے گھر کا پتا تھا۔راستے میں چچی نے رک کر فروٹ خریدا
کچھ دیر میں وہ میرب کے گھر داخل ہوئے۔
صحن میں ہی میرب بیٹھی ہوئی تھی اور ساتھ احل بھی جس کی دروازے کی طرف پیٹھ تھی۔
چچی نے سلام کیا تو سب نے جواب دیا۔اچانک احل نے مڑ کر انہیں دیکھا ۔
من تشاء کے قدم جہاں تھے وہیں رُک گئے تھے ۔۔اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
مری مری سی آواز میں اس نے چچی کو پکارہ اور وہ من تشاء کا چہرہ دیکھ کر ڈر گئیں۔
وہ بلکل زرد ہوچکی تھی۔
اچانک اس کے قدم لڑکھڑائے تو چچی نے اسے سنبھالا ۔
آپ نے مجھ سے احل اور میرب کے بارے میں جھوٹ بولا۔
چچی نے اس کی بات پر نظریں چرا لیں ۔
من تشاء نے آنکھیں بند کر لیں اور دل میں بولی۔
خدا تو پہلے بھی مجھے شرمندگی سے بچاتا رہا ھے آج بھی بچا لے ۔یا مجھے مار دے۔
موت مانگنا گناہ کبیرہ ھے۔۔کوئی اس کے اندر بولا تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔
وہ کسی حد تک سنبھل چکی تھی۔
احل نے دوست سے ملنے کا بہانا کر کے وہاں سے جانا چاہا تو چچی نے اسے روک دیا ۔
مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ھے
احل کو معاملہ سنگین لگا۔
وہ سب اندر ڈرائینگ روم میں اچکے تھے ۔
دیکھیں احل من تشاء آپ سے پاگلوں کی طرح محبت کرتی ھے۔۔اگر آپ اس سے دور رہے تو یہ مر جائے گی۔
چچی نے کہنا شروع کیا تو میرب تڑپ اٹھی۔
ایسا تو نہ کہیں آپ۔
میں یہ بات بتا چکا ہوں کہ میں اب اس سے محبت نہیں کرتا ہوں ۔
میرب نے بھائی کو تاسف سے دیکھا ۔
چچی کو اس سے اتنی بے حسی کی امید نہیں تھی ۔
من تشاء کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب آرہا تھا۔پر وہ احل کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی ۔
اسے لگا جیسے وہ آج اس کے در پر محبت کی بھیک مانگنے آئی ھے۔
یہ ایک دن زندگی کا سوال ھے احل۔
چچی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو وہ کھڑا ہوگیا اور دو ٹوک انداز میں بولا۔
من تشاء مجھ سے محبت کرتی ہے یا نہیں یہ اس کا ذاتی معاملہ ھے ۔
وہ مزید کچھ کہتا پر میرب کی چیخ نے ان سب کو دہلا دیا تھا۔
من تشاء بے ہوش چکی تھی ۔
چچی اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھیں میرب بھاگ کر پانی لیکر آئی اور فجر کے منہ لر چھڑکنے لگی۔احل کمرے سے نکل کر جا چکا تھا ۔
چچی کی آنکھوں میں آنسو اچکے تھے۔
اور میرب بھی آہستہ آہستہ روئے جا رہی تھی ۔
******
عصر کی آزنیں ہو رہی تھیں جب من تشاء اور چچی واپس تیمور ولا میں داخل ہوئے ۔
من تشاء نے سارے راستے کوٰی بات نہیں کی تھی۔
چچی بھی خاموش تھیں۔۔
من تشاء نے وضو کیا اور عصر کی نماز کے لئے کھڑی ہوئی ۔
نماز ادا کر کے وہ وہیں جائے نماز پر لیٹ گئی۔آج وہ خود کو بہت تھکا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔
چچی نے اس سے کھانے کے ساتھ پوچھا تو اس نے انکار کر دیا۔
شام تک وہ جائے نماز پر بیٹھی رہی اور درود شریف پڑھتی رہی۔
عشاء کی نماز ادا کر کے وہ سونے کے لئے لیٹ گئی۔
درود شریف پڑھتے ہوئے وہ کب سوئی اسے اندازہ ہی نہیں ہوا ۔
تہجد کے وقت اس کی آنکھیں کھلیں ۔اس نے بہت خوبصورت خواب دیکھا تھا ۔
اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ حرم پاک کے اندر مقام ابراہیم کے پاس کھڑی ہے اور کسی کو ڈھونڈ رہی ہے ۔
اس دوران اسے ایک جانی پہچانی آواز سنائی دیتی ہے۔وہ آواز کی سمت دیکھتی ہے تو اسے وہاں اپنی ماں کھڑی دکھائی دیتی ھے۔
جو خوش کن آواز میں اسے اپنی طرف بلا رہی ہوتی ہیں ۔من تشاء کچھ دیر خواب کے متعلق سوچتی رہی۔
پھر اٹھی اور وضو کر کے بو نوافل ادا کئے۔
اس کے زہن میں احل کی باتیں تھیں ۔
تو اس کے لئےمن تشاء کا ہونا نہ ہونا برابر تھا۔فجر کی آزانیں شروع ہوچکی تھیں۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی اس کا جسم بہت بھاری سا محسوس ہو رہا تھا۔
نماز کی نیت باندھ کر وہ کھڑی ہوئی پر اس سے زیادہ دیر کھڑا نہ رہا گیا وہ سجدے میں گر چکی تھی۔
****
چھوٹی چچی رات دیر تک من تشاء کے بارے میں سوچتی رہی
تھیں۔ان کا دل۔کیا تھا کہ آج وہ من تشاء کے ساتھ سوئیں پر پھر یہ خیال کر کے رہ گئیں کہ وہ اکیلی ہی حقیقت کا سامنہ کر کے اس سراب سے نکل آئے تو اچھا ہوگا۔
ابھی ان کی آنکھ کھلی تو فجر کا وقت گزر چکا تھا۔
وہ کمرے سے نکلیں اور ن تشاء کو دیکھنے اس کے کمرے کی طرف آئیں۔
دروازہ کھلا تھا اور من تشاء نماز ادا کر رہی تھی ۔
وہ مطمئن ہو کر لوٹ آئیں اور وضو کر کے قضا نماز ادا کی اور پھر من تشاء کے لئے ڈھیر ساری دعائیں کیں ۔
پھر اٹھیں اور من تشاء کو آواز دی پر کوئی جواب نہیں آیا۔اب تو اشراق کا وقت بھی ختم ہوچکا تھا
انہوں نے کمرے میں جھانکا تو من تشاء اسی طرح سجدے میں تھی ۔انہوں نے اسے آواز دی پر من تشاء نے جیسے سنا ہی نہیں تھا ۔
انہیں کسی گڑ بڑ کا احساس ہوا انہیں یاد آیا کہ کل بھی وہ بے ہوش ہوگئی تھی۔۔
وہ تیزی سے اس کی طرف آئیں اور اس کے کاندھے کو ہلائے اور وہ ایک طرف گرتی چلی گئی۔
چچی نے چیخ ماری۔۔
کچھ دیر میں سب وہاں جمع ہوچکے تھے۔
ارسلان ڈاکٹر کو لیکر جلدی آیا۔
پر دیر ہوچکی تھی ۔
ڈاکٹر نے کہا معاف کیجئے گا یہ قریباً فجر کے وقت شاید ان کی موت ہوئی ھے۔
****
من تشاء کی میت تیمور ولا کے صحن میں پڑی تھی۔میرب اور چھوٹی چچی بے تحاشہ رو رہے تھے۔
ایمان بھی اچکی تھی اور احل بھی وہیں موجود تھا۔۔آج سب کی آنکھوں میں اس کے لئے آنسو تھے ۔تیمور ہمدانی جیسے پتھر کے ہوچکے تھے ۔
آج من تشاء کے لئے سب کے دلوں میں احساس تھا محبت تھی وہ سب کی بے حسی اور نفرتوں کا زہر پیتے پیتے تھک چکی تھی اب اس کی ہمت نہیں رہی تھی اس لئے اس کے دوست نے اسے اپنے پاس بلا لیا تھا ۔
اس کی ماں کے پاس اپنے پاس۔
اس کی زندگی کا سفر فجر کی نماز سے لیکر فجر کی نماز تک ہی مختصر تھا پر اس کے لئے بہت تکلیف دہ اور زہر بھرا سفر تھا۔
اب وہ اس سفر پر روانہ ہو چکی تھی جس پر اسے کبھی دکھ یا نفرت نہ ملتی۔۔کوئی اسے حقارت سے دیکھتا کوئی بھی اسے زخمی نہ کرتا ۔
*****
رامش من تشاء کی قبر پر بھیگی ہوئی آنکھوں کے ساتھ کھڑا کہہ رہا تھا ۔مجھے معاف کرنا کہ میں نے آنے میں دیر کر دی۔
میں تمہیں ان نفرتوں سے بچا نہ سکا جہنوں نے تمہاری جان لے لی۔
تمہاری زندگی جتنی بھی تھی دکھ بھری تھی پر اب تم اطمینان سے لمبی نیند سو چکی ہو۔۔وہاں جا چکی ہو جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر واپس نہیں آتا۔۔
میں تم سے محبت کرتا ہوں یہ بات تم سے کہہ نہ پایا ۔
خدا تمہاری قبر میں وہ سکون نازل کرے جس کے لئے تم ہمیشہ ترستی رہی ۔
اس کی آنسو قبر پر گر رہے تھے۔
فضاء سوگوار ہو رہی تھی ۔من تشاء کا سفر تو ختم ہو چکا تھا پر اس جیسی نجانے کتنی لڑکیاں بیٹی ہونے کا خراج ادا کرتے ہوئے پل پل اپنوں کی نفرت کا شکار ہوکر مرتی تھیں
یہ کوئی نہیں جانتا تھا اور نہ کوئی سمجھتا تھا۔
شاید اس معاشرے میں موت ہی وہ واحد راستہ تھا جس پر چل کر ہم زندگی کی دکھوں سے نجات پاسکتے ہیں ۔
ختم شد