#hamidnaved حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش) قسط …
#hamidnaved
حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش)
قسط نمبر 25
’’تیاری کا آخری مرحلہ آگیا ہے شہنشاہ!‘‘یہودی راہب نے جواب دیا۔ ’’کیا تمہیں احساس ہے کہ تم کتنے عرصے سے اس کام میں لگے ہوئے ہو؟‘‘ یزدگرد نے غصیلی آواز میں کہا۔’’
عربی لشکر ہمارے سر پر پہنچ گیا ہے۔‘‘
’’مجھے احساس ہے شہنشاہ! ‘‘راہب نے کہا۔’’ میرا جادو عربی لشکر کو یہیں تباہ کر دے گا۔ اسے پسپائی کی مہلت ہی نہیں ملے گی۔‘‘
’’تو اب کیا لینے آئے ہو؟‘‘ یزد گرد نے کہا۔’’ کیا تم خود نہیں سمجھ سکتے کہ جھوٹی تسلیاں مدائن کو نہیں بچا سکتیں؟
کبھی تو مجھے شک ہوتا ہے کہ تم یہودی اپنی فطرت کے عین مطابق مجھے دھوکا دے رہے ہو۔ جس سے تمہارا مقصد شاید یہ ہے کہ مسلمان مدائن پر قابض ہوجائیں اور تم مدائن کے خزانوں میں سے اپنا حصہ وصول کرو۔‘‘
’’نہیں شہنشاہ!‘‘بوڑھے راہب نے کہا۔ ’’میں تسلیاں دینے نہیں آیا۔ میں صرف ایک حکم لینے آیا ہوں۔ آخری چیز جو مجھے درکار ہے وہ ایک نوزائیدہ بچہ ہے، جس کی عمر تین دن سے زیادہ نہ ہو۔ میں نے شہر میں اپنے مخبر چھوڑے ہوئے تھے۔ ابھی ابھی مجھے ایک مخبر نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ رات ایک عورت نے ایک بچے کو جنم دیا ہے، وہ بچہ ہمیں دے دیں اور دو دنوں کے بعد آپ میرے جادو کا اثر دیکھ لیں گے۔‘‘ یزدگرد نے اسی وقت حکم دیا کہ جو بچہ رات کو پیدا ہوا ہے ۔وہ اس راہب کو دے دیا جائے ۔اگر بچے کے ماں باپ بچے کی قیمت مانگیں تو اس سے زیادہ قیمت دے کر بچہ لے لیا جائے اور اگر وہ بچہ کسی قیمت پر نہ بھی دینا چاہیں تو تو بچہ اٹھا لیا جائے اور اس راہب کے سپرد کر دیا جائے۔
یزد گرد نے یہ بھی کہا کہ بچے کے ماں باپ مزاحمت کریں تو انہیں قتل کر دیا جائے۔ حکم ملتے ہی یزدگرد کے محافظ دستے کے چار آدمی اس گھر جا پہنچے اور بادشاہ کا حکم سنایا۔ ماں نے لپک کر نوزائیدہ بچے کو سینے سے لگا لیا۔ماں کو بتایا گیا کہ اس بچے کی وہ جتنی قیمت مانگے گی اس سے زیادہ قیمت دی جائے گی۔
’’نہیں!‘‘ماں نے بچے کو سینے سے چپکاتے ہوئے کہا ۔’’یہ میرا پہلا بچہ ہے۔ آسمان کے ستارے توڑ لاؤ تو بھی میں یہ بچہ نہیں دوں گی۔‘‘ محافظوں نے بچے کے باپ کی طرف دیکھا ۔باپ نے بھی بچہ دینے سے انکار کر دیا اور اس نے محافظوں کے قدموں میں بیٹھ کر التجا کی کہ وہ ان پر یہ ظلم نہ کریں۔ ’’
ان سے بچہ چھین لو۔‘‘ محافظوں کے کمانڈر نے حکم دیا۔ محافظ سپاہوں نے بچہ ماں کے سینے سے نوچ لیا ۔ماں نے چند ہی گھنٹے پہلے بچے کو جنم دیا تھا۔ اس لیے بھی وہ اٹھنے کے قابل نہیں تھی۔ پھر بھی وہ کھڑی ہو گئی تھی لیکن سپاہی کے دھکے سے وہ گری تو پھر اٹھ نہ سکی۔ اس کے خاوند نے اسے اٹھایا۔ اتنی دیر میں محافظ سپاہی اس بچے کو لے جا چکے تھے ۔پیچھے ماں کی چیخیں رہ گئی تھیں ۔وہ دروازے کی طرف دوڑتی تھی اور خاوند اسے پکڑتا تھا اور رو رو کر کہتا تھا کہ یہ بادشاہوں کا حکم ہے جس کی خلاف ورزی کی جرأت رستم بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ماں چیختی چلاتی رہ گئی اور بچے کو یہودی راہب لے گیا۔ ٭
آدھی رات کا وقت ہو گا جب دریا کے کنارے تالابوں والی ویران جگہ پر یہودی راہب نے اس لڑکی کو دو زانو بٹھا رکھا تھا۔ روز مرہ کی طرح لڑکی چغے میں ملبوس تھی۔ اس سے پہلے وہ لڑکی کو کُٹیا کے اندر بٹھایا کرتا تھا ۔اس رات اس نے لڑکی کو کُٹیا کے باہر ایک قدرتی تالاب کے قریب بٹھایا اور نوزائیدہ بچے اس کی گود میں دے دیا۔ راہب لڑکی کو اپنے عمل سے ہپناٹائز کر کے اس سے کچھ پوچھتا تھا اور لڑکی جواب دیتی تھی۔ ان جوابوں کے مطابق راہب کوئی جادو تیار کر رہا تھا۔ اس کا آخری مرحلہ یہ تھا کہ نوزائیدہ بچے کو اس لڑکی کی گود میں ڈالنا تھا جو اس نے ڈال دیا۔ پھر کُٹیا میں چلا گیا ۔باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھری تھی۔ معلوم نہیں کہ اس چھری سے اس نے بچے کو ذبح کرنا تھا یا کہیں سے اس کا خون نکالنا تھا یا اس نے لڑکی کی ہی جان لینی تھی۔ چھری دیکھ کر لڑکی کی چیخ نکل گئی۔ ’’
ڈرو مت لڑکی!‘‘راہب نے بڑے پیار سے کہا۔’’ اس چھری سے مت ڈر۔‘‘ تالاب بالکل قریب تھا ۔یہودی معلوم نہیں کیوں پیچھے ہٹا ۔اچانک اس کی ایک ٹانگ ایک شکنجے میں آگئی۔ لڑکی ایک بار پھر چیخی اور اٹھ کر کُٹیا کی طرف دوڑی۔ پیچھے دیکھا تو اسے یہودی راہب پانی میں ہاتھ مارتا نظر آیا۔ لڑکی کو صاف نظر آرہا تھا کہ ایک مگر مچھ نے یہودی کی ٹانگ پکڑ لی تھی اور اسے گھسیٹ کر تالاب میں لے گیا تھا ۔ یہودی کے شور شرابے پر اس کا جواں سال چیلا کُٹیا سے دوڑتا تالاب کے کنارے تک چلا گیا۔ وہاں ایک نہیں دو مگر مچھ تھے۔ ایک کو تو شکار مل گیا تھا اور دوسرا اس سے اس کا شکار چھیننے کی کوشش کر رہا تھا۔ لڑکی نے بچے کو زمین پر رکھا اور اس جواں سال چیلے کی طرف دوڑی اور اسے پیچھے سے اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ پانی میں جا پڑا۔ دوسرے مگر مچھ نے تیزی سے آکر اسے اپنے لمبے اور خوفناک جبڑوں میں جکڑ لیا ۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہودی راہب اور اس کا چیلا غائب ہو گئے۔
لڑکی نے نوزائیدہ بچے کو اپنے چغے میں لپیٹا اور وہاں سے دوڑ پڑی۔ شہر کی دیوار دور نہیں تھی، لیکن شہر کے دروازے بند تھے ۔اس نے باقی رات دروازے کے ساتھ بیٹھ کر گزاردی۔ صبح جب یہ دروازہ کھلا تو لڑکی شہر میں داخل ہو گئی اور اپنے گھر جا پہنچی۔ لڑکی کا باپ ڈر گیا کہ یہ شاہی حکم سے لے جائی گئی تھی اور شاید وہاں سے بھاگ آئی ہے اور ابھی سرکاری ہرکارے آئیں گے اور لڑکی کو گھسیٹ کر لے جائیں گے۔اس نے اپنی خیریت اسی میں سمجھی کہ لڑکی کو شاہی محل میں لے جائے۔ وہ اپنی بیٹی اور نوزائیدہ بچے کو ساتھ لے کر شاہی محل جا پہنچا اور دربانوں کو بتایا کہ وہ کیوں آیا ہے۔
یزدگرد کو اطلاع ملی تو اس نے فوراً بلا لیا۔ اس کے سامنے جا کر لڑکی نے اسے بتایا کہ یہودی راہب اور اس کے چیلے کا کیا انجام ہوا ہے۔ ’’وہ تمہارے ساتھ کرتا کیا تھا؟‘‘ یزدگرد نے لڑکی سے پوچھا۔’’ کیا وہ تم پر کوئی عمل کیا کرتا تھا؟‘‘
’’نہیں شہنشاہ!‘‘ لڑکی نے یہ سوچ کر کہ وہ دونوں یہودی تو مگر مچھوں کے پیٹ میں چلے گئے ہیں جھوٹ بولا۔’’ وہ دونوں میرے ساتھ سوائے بدکاری کے اور کچھ نہیں کرتے تھے ۔میرا خیال ہے کہ وہ اس نوزائیدہ بچے کو صرف اس لئے وہاں لے گئے تھے کہ آپ کو دھوکا دیا جائے کہ وہ واقعی کوئی جادو تیار کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ بچے کو پانی میں پھینک دینا چاہتے ہوں لیکن قدرت نے اُلٹا انہیں پانی میں پھینک دیا اور وہ دونوں کو مگرمچھ کھا گئے۔‘‘
اس وقت پوران بھی وہاں موجود تھی اور یزدگرد کی ماں بھی وہیں تھی۔ ’’یہ بچہ تم نے کہاں سے لیا تھا؟‘‘ یزدگرد کی ماں نے پوچھا اور بڑی بیتابی سے کہنے لگی۔’’ یہ ظلم نہ کرو۔ کسی ماں کی آہیں نہ لو۔ میں بھی ماں ہوں ۔تم بادشاہ ہو اور جوان بھی ہو، لیکن تمہارے متعلق میری جو بیتابی ہے اس سے تم بھی تنگ آئے ہوئے ہو ۔لیکن ماں کی مجبوری کو اور مامتا کی تڑپ کو تم نہیں سمجھتے۔‘‘
’’یہودیوں کے چکر سے نکلو یزدی!‘‘پوران نے کہا۔’’ یہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ یہودی جادوگری کے ماہر ہیں۔ لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ جادو کی تیاری میں اتنا لمبا عرصہ نہیں لگا کرتا۔ یہ بچہ جس ماں کا ہے اسے واپس کردو ۔مامتا کی آہوں سے ڈرو، اور اس حقیقت کو دیکھو جو کالی گھٹا کی طرح دامن میں بجلیاں لیے ہوئے ہمارے سروں پر گہری ہی ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اپنے آپ کو دھوکے اور فریب میں نہ رکھو۔ جہاں تلوار اور تیر چلا کرتے ہیں وہاں جادو نہیں چل سکتے ۔کیا تم عربوں کی تیغ زنی سے واقف نہیں؟
‘‘ یزد گرد نے اسی وقت محافظ دستے کے کمانڈر کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ یہ بچہ جس ماں سے چھینا گیا تھا اسی کی گود میں ڈال دیا جائے۔ کمانڈر نے لڑکی سے بچہ لے لیا۔ بچہ بھوک سے بلبلا رہا تھا۔ یزدگرد نے لڑکی کو اس کے باپ کے حوالے کر کے کہا کہ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ۔ اُس ماں کے گھر کا دروازہ کھٹکا جو اپنے پہلے نوزائیدہ بچے کی جدائی میں چیخ چلّا رہی تھی اور اس کا خاوند اسے بہلانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ دروازہ کھولا تو وہی کمانڈر جو ماں کے سینے سے بچے کو نوچ کر لے گیا تھا۔ اندر آیا۔ ماں نے اس کے ہاتھوں میں اپنا بچہ دیکھا تو دوڑ کر بچے پر جھپٹی اور بچے اس کے ہاتھوں سے لے کر سینے سے لگالیا۔
’’شہنشاہ نے بچہ واپس دے دیاہے۔‘‘ کمانڈر نے کہا اور باہر نکل گیا۔ ’’ماؤں کی چھاتیوں سے بچے نوچنے والے بادشاہ کی بادشاہی زیادہ دن نہیں رہے گی۔‘‘ یہ ایک آہ تھی یا ایک فریاد تھی جو اس عورت کے منہ سے نکلی تھی۔ ’’یہاں جتنے یہودی ہیں انہیں قید خانے میں پھینک دیا جائے۔‘‘ یزد گرد نے حکم دیا۔ ٭
مدائن میں چند ایک ہی یہودی تھے جو تین چار مکانوں میں رہتے تھے ۔ایک کشادہ مکان کے ایک حصے میں انہوں نے عبادت گاہ بنا رکھی تھی۔ گذشتہ رات وہ سب اکٹھے بیٹھے اُس بوڑھے یہودی کے متعلق باتیں کر رہے تھے جو لڑکی اور ایک نوزائیدہ بچے کو دریا کے کنارے لے گیا تھا۔ اس بوڑھے کا نام شمعون جبریل اور اس کے ساتھی کا نام ابو ازمیر تھا ۔اس محفل میں سب سے زیادہ عمر والا ایک یہودی راہب تھا۔ ’’……
لیکن شمعون مجھے کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا۔‘‘ یہودی راہب کہہ رہا تھا۔’’ آخر میں بھی کچھ جانتا ہوں، میں نے خبر دار کر دیا تھا کہ تم جو عمل کررہے ہو اس میں خطرہ یہ ہے کہ اُلٹ بھی جایا کرتا ہے۔ تم ایک کنواری لڑکی اور ایک نوزائیدہ بچے کی جان لے رہے ہو۔ اگر تمہاری اپنی جان چلی گئی تو میں حیران نہیں ہوں گا……
وہ میری بات سن کر اس طرح ہنس پڑا تھا جیسے میں کم عقل اور نادان ہوں یا بچہ ہوں۔‘‘ ’’ربی شمعون کے ساتھ میری بھی بات ہوئی تھی۔‘‘ ایک اور یہودی بولا۔’’ اس نے کہا تھا کہ ہمارے پیغمبر موسیٰؑ نے دریائے نیل کا پانی روک دیا اور اپنے قبیلے کو اس سے گزار لائے تھے ۔فرعون کا لشکر جو اس کے تعاقب میں آرہا تھا ،نیل میں ڈوب گیا تھا۔ میں نے اپنے عمل کیلئے دجلہ کا انتخاب کیاہے۔ یزدگرد کی فوج کشتیوں اور پُل کے ذریعے مدائن میں آجائے گی اور مسلمان ان کے تعاقب میں دجلہ پار کرنے لگیں گے تو ان کا سارا لشکر ڈوب جائے گا ۔ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں بچے گا۔‘‘
’’اگر وہ یہ بات مجھ سے کرتا تو میں اسے سمجھاتا۔ ‘‘راہب نے کہا۔’’ وہ خدا کا حکم تھا کہ موسیٰ نکل آئے اور فرعون کا لشکر ڈوب جائے……یہاں کون موسیٰ ہے؟ فرعون کون ہے؟
ہم اگر مسلمانوں کے دشمن ہیں تو مسلمان فرعون تو نہیں ہو جاتے۔ فرعونوں والے اوصاف تو ان آتش پرستوں کے ہیں۔ ان کے بادشاہوں کا حکم ہے کہ جو کوئی دربار میں آئے ،پہلے سجدہ کرے۔ مسلمان خدا کے سوا کسی اور کے آگے سجدہ نہیں کرتے نہ ہی یہ بادشاہت کو مانتے ہیں……
ہم مسلمانوں کو تباہ و برباد کر کے اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمارے چاہنے سے وہ قوت کمزور تو نہیں ہو جاتی جو مسلمانوں کو فتح پر فتح دیتی چلی آرہی ہے۔
‘‘ تفصیل سے پڑھئے ’’یہ قوت کیا ہے؟‘‘ ایک یہودی نے پوچھا۔’’ معلوم ہو جائے تو ہم اسے کمزور کر سکتے ہیں۔‘‘
’’یہ عقیدے کی قوت ہے ۔‘‘معمر ربی نے کہا۔’’ اور یہ یقین کی قوت ہے……خدا پر یقین، اپنی ذات پر یقین……اپنی ذات پر صرف اس شخص کو یقین ہوتا ہے جس کا کردار سحر کے ستارے کی طرح روشن اور شفاف ہوتا ہے۔ اس یقین کو اور اس کردار کو مسلمان ایمان کہتے ہیں۔ ہمارے پاس جوان لڑکیاں ہیں۔ ان کے حسن میں ان کے انداز میں طلسماتی اثر ہے ۔ہماری ہر لڑکی بادشاہی کا تخت الٹ سکتی ہے مگر یہی لڑکی معمولی سے ایک مسلمان کا دل نہیں موہ سکتی کیونکہ مسلمانوں پر کوئی اور ہی طلسم طاری ہے۔‘‘
’’کیا بات ہے ربی!‘‘ایک یہودی نے کہا۔’’ کیا آپ مسلمانوں کی حمایت میں نہیں بول رہے؟‘‘
’’مسلمانوں کے حق میں نہیں! ‘‘ربی نے کہا۔’’ میں ایک حقیقت بیان کر رہا ہوں……
اور میرے دوستو! اور میں کچھ اور بھی محسوس کر رہا ہوں……
مسلمان جسمانی طاقت کے زور پر یہاں تک نہیں پہنچے۔ سوچو، غور کرو۔ ہم اسلام کو نہیں مانتے، پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ مسلمانوں کے پاس بھی جادو ہے اور وہ ہمارے جادو سے زیادہ طاقتور اور تیز ہے۔ ہم نے کیا کیا جتن نہیں کیے ۔مسلمانوں کی پیش قدمی کو ہم نہیں روک سکے۔ شاید روک بھی نہیں سکیں گے ۔ربی شمعون نے میری بات نہیں مانی ۔ مجھے خطرہ نظر آرہا ہے۔‘‘
’’کیا آپ یزدگرد اور اس کی فوج سے مایوس ہو چکے ہیں؟‘‘
’’کیا تم دیکھ نہیں رہے؟‘‘ راہب نے کہا۔’’ ہمیں یزدگرد کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں۔ ہمارا مقصد مسلمانوں کو شکست دلانا ہے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ شمعون نے بڑا ہی خطرناک راستہ اختیار کیا ہے۔‘‘
’’کیا آپ انہیں روک نہیں سکتے؟‘‘ ’’روک سکتا ہوں۔‘‘ بوڑھے راہب نے جواب دیا۔’’ لیکن وہ اپنا عمل مکمل کرنے پرمجبور ہو گیا ہے۔ اس نے شاہِ فارس کو یقین دلایا ہے کہ وہ جو جادو تیار کر رہا ہے یہ مسلمانوں کو تباہ کر دے گا۔ یزدگرد بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔ اگر جادو نے کام نہ کیا تو یزدگرد شمعون کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔‘‘
اچانک سب یک زبان ہو گئے اور اس بوڑھے راہب سے کہا کہ ربی شمعون کوئی اناڑی نہیں اور اس نے خطرہ مول لیا ہے تو سوچ سمجھ کر لیا ہے۔ ٭
جاری ہے..
٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭