Category: منتخب غزلیں
-
اب آسمان پہ غم کے سوا اور کچھ نہیں مٹی میں ہم نے …
اب آسمان پہ غم کے سوا اور کچھ نہیں مٹی میں ہم نے چاند ستارے چھپا دئیے زاہد شمسی
-

فضل احمد کریم فضلی کا یومِ پیدائش December 17, 198…
فضل احمد کریم فضلی کا یومِ پیدائش December 17, 1981 شاعر اور ناول نگار فضل احمد کریم فضلی 4 نومبر 1906 کو بہرائچ (اترپردیش) میں پیدا ہوئے ۔ الہ آباد اور آکسفرڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ۔ بنگال میں کئی اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے اور حکومت…
-

غموں سے کھیلتے رہنا کوئی ہنسی بھی نہیں فضل احمد کر…
غموں سے کھیلتے رہنا کوئی ہنسی بھی نہیں فضل احمد کریم فضلی غموں سے کھیلتے رہنا کوئی ہنسی بھی نہیں نہ ہو یہ کھیل تو پھر لطف زندگی بھی نہیں نہیں کہ دل میں تمنا مرے کوئی بھی نہیں مگر یہ بات کچھ ایسی کی گفتنی بھی نہیں ابھی میں کیا اٹھوں نیت ابھی بھری…
-
دو ہی مشکل وقت۔ گُذرے ہیں دلِ مجبور پر اک ترے آنے …
دو ہی مشکل وقت۔ گُذرے ہیں دلِ مجبور پر اک ترے آنے سے پہلے، اک ترے جانے کے بعد …….. خدا کسی کو کبھی صاحبِ غرَض نہ کرے سخی ہے کون ، یہ دستِ سوال کیا جانے ………….. کلام: حکیم اجمل خاں مرحوم ۔
-

جہاں تم چومتی تھیں ماں!! وہاں تک آ گیا تھا وہ ان …
جہاں تم چومتی تھیں ماں!! وہاں تک آ گیا تھا وہ ان لازوال اشعار کے خالق جناب میجر عمران ہیں۔ یہ اشعار انہوں نے آج سے چار قبل آرمی پبلک سکول میں شہید ہو جانے والے بچوں کی یاد میں تحریر کئے بتا کیا پوچھتا ہے وہ کتابوں میں ملوں گا میں کیے ماں سے…
-

فیض احمد فیضؔ ہم دیکھیں گے! لازم ہے کہ ہم بھی دیک…
فیض احمد فیضؔ ہم دیکھیں گے! لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے وہ دِن، کہ جس کا وعدہ ہے جو لوحِ ازل میں لکھا ہے جب ظُلم و سِتَم کے کوہِ گراں رُوئی کی طرح اُڑ جائیں گے ہم محکوُموں کے پاؤں تَلے یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی اور اہلِ حَرَم کے سر…
-

-

نظیؔر اکبرآبادی ہے عزم یہ دِل میں، ہم بھی اُسے اِ…
نظیؔر اکبرآبادی ہے عزم یہ دِل میں، ہم بھی اُسے اِک روز نظر بھر دیکھیں گے گر کھولے گا پُر تِیر نگہ ، چِھد جائیں گے ہم، پر دیکھیں گے جو نقشہ ہوگا اُلفت کا اور بات بھی کُچھ بَن آوے گی کیا بات ہے اے دِل! پِھر تو اُسے، ہم جاکر اکثر دیکھیں گے…
-

اندیشوں میں ڈوبی خبر غلام محمد قاصر کچھ اس طرح اُن…
اندیشوں میں ڈوبی خبر غلام محمد قاصر کچھ اس طرح اُنہیں مدرسے میں رات آئی کہ اب وہ گھر نہیں آئیں گے لوگ کہتے ہیں جنھیں ہم اپنی دُعاؤں کے ساتھ چھوڑ آئے وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے لوگ کہتے ہیں ہر ایک آنکھ کی ٹھنڈک سبھی کے نورِ نظر کہیں نظر نہیں آئیں…
-

اِسْتِفْسار (16 دسمبر 1971، سُقُوطِ مشرقی پاکستان …
اِسْتِفْسار (16 دسمبر 1971، سُقُوطِ مشرقی پاکستان پر) کیا اِسقدر حقیر تھا اِس قوم کا وقار ہر شہر تُم سے پُوچھ رہا ہے جواب دو یہ بات کیا ہُوئی کہ بیابانِ وقت میں اِحساسِ تشنگی کو بڑھا کر سراب دو ہم کو تھپک تھپک کے دِکھائے گئے تھے خواب خاموش کیوں ہو؟ اب ہمیں تعبیرِ…