Category: منتخب غزلیں
-

محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپناقدرت نے رکھاہے ! کہ…
محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپناقدرت نے رکھاہے ! کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے ا سے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے یقین کی آخر ی حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو ! نگاہوں سے ٹپکتی ہو ‘ لہو میں جگمگاتی ہو ! ہزاروں طرح کے دلکش ‘…
-
بہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر وہ زندگی ہے جو کا…
بہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر وہ زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیاں گزرے جگر مراد آبادی
-

امجد حیدر آبادی کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہے مانن…
امجد حیدر آبادی کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہے مانند حباب ابھر کے اتر آتا ہے کرتے ہیں ذرا سی بات پر فکر خسیس تنکا تھوڑی سی ہوا سے اڑ جاتا ہے …. ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہے اک چشم زدن میں کیا سے کیا ہوتا ہے اصنام دبی زباں سے…
-

ہم اس سے عشق کا اظہار کر کے دیکھتے ہیں کیا ہے جرم …
ہم اس سے عشق کا اظہار کر کے دیکھتے ہیں کیا ہے جرم تو اقرار کر کے دیکھتے ہیں ہے عشق جنگ تو پھر جیت لیں چلو ہم لوگ ہے دریا آگ کا تو پار کر کے دیکھتے ہیں ہے کوہسار تو نہریں نکال دیں اس سے ہے ریگزار تو گلزار کر کے دیکھتے ہیں…
-

قلندربابا اولیاء اِک جرُعہ مئے ناب ہے کیا پائے گا …
قلندربابا اولیاء اِک جرُعہ مئے ناب ہے کیا پائے گا اِتنی سی کمی سے کیا فرق آئے گا ساقی مجھے اب مفت پِلا کیا معلوم یہ سانس جو آگیا ہے پھر آئے گا
-

عزیز احمد کی وفات December 16, 1978 16 دسمبر 1978…
عزیز احمد کی وفات December 16, 1978 16 دسمبر 1978ء کو اردو کے نامور افسانہ نگار، مترجم اور اسلامی تاریخ و ثقافت کے عالمی پروفیسر عزیز احمد کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ پروفیسر عزیز احمد 11 نومبر 1913ء کو عثمان آباد ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے تھے۔…
-

سانحہ پشاور کے معصُوم شہیدوں کی نذر ……………..
سانحہ پشاور کے معصُوم شہیدوں کی نذر ………………. اب مرے قتل کا الزام نہ تقدیر پہ رکھ ہاتھ سینے سے اُٹھا، قبضۂِ شمشیر پہ رکھ میری تصویر پہ اے پھول چڑھانے والے میرے قاتل کا عمامہ مری تصویر پہ رکھ عارف امامِ ….. قاتلوں سے بس اِتنا کہنا ہے شدّتِ غم کا اِحترام کرو قتل…
-

نظیؔر اکبرآبادی ہم دیکھیں کِس دِن حُسن اے دِل! اُ…
نظیؔر اکبرآبادی ہم دیکھیں کِس دِن حُسن اے دِل! اُس حُسن پری کا دیکھیں گے وہ قد وہ کمر، وہ چشم وہ لب، وہ زُلف وہ مُکھڑا دیکھیں گے مت دیکھ بُتوں کی ابرُو کو، ہٹ یاں سے تُو اے دِل! ورنہ تُجھے ایک آن میں بسمِل کردیں گے اور آپ تماشا دیکھیں گے دِل…
-

-

دنوں کا دکھ شہزاد نیّرؔ (سانحہء پشاور ۔ سولہ دسمبر…
دنوں کا دکھ شہزاد نیّرؔ (سانحہء پشاور ۔ سولہ دسمبر) عجب دن آ پڑے ہیں بوڑھی صدیاں رات رو کر دیکھتی ہیں صبح کے کاندھے پہ پھولوں کے جنازے ہیں نہ اِن کا بَوجھ اُٹھتا ہےنہ آنکھیں نَم اُٹھا کر دو قدم چلتی ہیں سکتہ ہے۔۔۔۔۔ سکوتِ مرگ سے بھی سخت سکتہ سِسکیوں کی راہ…