نظیؔر اکبرآبادی ہم دیکھیں کِس دِن حُسن اے دِل! اُ…


نظیؔر اکبرآبادی

ہم دیکھیں کِس دِن حُسن اے دِل! اُس حُسن پری کا دیکھیں گے
وہ قد وہ کمر، وہ چشم وہ لب، وہ زُلف وہ مُکھڑا دیکھیں گے

مت دیکھ بُتوں کی ابرُو کو، ہٹ یاں سے تُو اے دِل! ورنہ تُجھے
ایک آن میں بسمِل کردیں گے اور آپ تماشا دیکھیں گے

دِل دے کر ہم نے آج اُسے ہی، دیکھی صُورت تیوری کی
یہ شکل رہی تو اے ہمدم! کل دیکھیں کیا کیا دیکھیں گے

جب دیکھی اُس کی چِیں جبِیں یُوں، ہم نے نظیؔر اُس بُت سے کہا!
خیر آپ تو ہم سے ناخوش ہیں اب اور کو ہم جا دیکھیں گے

کیا لُطف رہا اِس چاہت میں جو ہم چاہیں اور تُم ہو خفا
یہ بات سُنی تو وہ چنچل یُوں ہنس کر بولا دیکھیں گے

نظیؔر اکبرآبادی
1830- 1740



Comments

جواب دیں