نظیؔر اکبرآبادی
ہے عزم یہ دِل میں، ہم بھی اُسے اِک روز نظر بھر دیکھیں گے
گر کھولے گا پُر تِیر نگہ ، چِھد جائیں گے ہم، پر دیکھیں گے
جو نقشہ ہوگا اُلفت کا اور بات بھی کُچھ بَن آوے گی
کیا بات ہے اے دِل! پِھر تو اُسے، ہم جاکر اکثر دیکھیں گے
سر رکھ کر اُس کی چوکھٹ پر بس ہم تو اُسی کے در کے ہُوئے
اب، اور کسی کے کہنے سے، کب اور کوئی در دیکھیں گے
وہ، حُسن کی تابش سے مُنہ پر، کہتے ہیں کہ ، پردہ رکھتا ہے
بِن دیکھے ہی پِھر آئیں گے یاں ہم، آہ یُوں ہی کر دیکھیں گے
اور شاید مُکھڑا کھول دیا کُچھ لُطفِ نظیؔر کا سوچ ،کہ ہم !
ٹھہرے گی نگہ تو دیکھیں گے، جو نہ ٹھہری تو کیونکر دیکھیں گے
نظیؔر اکبرآبادی
1830- 1740

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔