Category: منتخب غزلیں
-

چھوٹی سی دُنیا میں ۔ شدید ٹھنڈی رات تھی ہلکی ہلکی …
چھوٹی سی دُنیا میں ۔ شدید ٹھنڈی رات تھی ہلکی ہلکی بوندوں میں برساتی اوڑھے تنہائی اور سرد ہَوا کے نشے میں جبل عمّان کی سِیڑھیاں اُترنے پر وہ مُجھے مِلا کئی مہینوں کے بعد ڈاؤن ٹاؤن میں "کہاں جا رہے ہو؟” "کہیں نہیں!” ” کیا مطلب؟” ” کُچھ دن پہلے پلٹا ہُوں غزہ سے…
-

شوکت صدیقی کی وفات December 18, 2006 18 دسمبر 200…
شوکت صدیقی کی وفات December 18, 2006 18 دسمبر 2006ء کواردو کے نامور ترقی پسند ادیب، ناول و افسانہ نگار، صحافی اور کالم نویس شوکت صدیقی کراچی میں وفات پاگئے۔ شوکت صدیقی 20 مارچ 1923ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے۔ان کا سب سے معرکہ آرا ناول خدا کی بستی کو سمجھا جاتا ہے۔ اس…
-

اِندرا وَرما ………….مجھے رنگ دے نہ سُرور دے،…
اِندرا وَرما ………….مجھے رنگ دے نہ سُرور دے، مِرے دِل میں خود کو اُتار دے مجھے رنگ دے نہ سُرور دے، مِرے دِل میں خود کو اُتار دے مِرے لفظ سارے مہک اُٹھیں، مجھے ایسی کوئی بہار دے مجھے دُھوپ میں تُو قریب کر، مجھے سایہ اپنا نصیب کر مِری نِکہتوں کو عرُوج دے مجھے…
-

پروین فناؔ سید :::::: تُو جِسے زخمِ آشنائی دے! تُ…
پروین فناؔ سید :::::: تُو جِسے زخمِ آشنائی دے! تُو جِسے زخمِ آشنائی دے! وہ تڑپتا ہُوا دِکھائی دے تیری چاہت کے جبرِ پیہم میں! کب سے زنجِیر ہُوں، رہائی دے رُوح کے جنگلوں میں کِس کی صَدا جب بھی سوچُوں، مُجھے سُنائی دے یا قریب آ، رَگِ گُلوُ کی طرح! یا پھر اِس کرب…
-

علامہ رشید ترابی کی وفات December 18, 1973 عالم ا…
علامہ رشید ترابی کی وفات December 18, 1973 عالم اسلام کے عظیم خطیب، عالم دین اور شاعر علامہ رشید ترابی کی تاریخ پیدائش 9 جولائی 1908ء ہے۔ علامہ رشید ترابی کا اصل نام رضا حسین تھا اوروہ حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم علامہ سید علی شوستری‘ آغا محمد محسن شیرازی…
-

ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا – سعید احمد اخت…
ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا – سعید احمد اختر ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا اس دیس پہ سایہ ہے کسی اور بلا کا ہر شام سسکتی ہوئی فریاد کی وادی ہر صبح سُلگتا ہوا صحرا ہے صدا کا اپنا تو نہیں تھا میں کبھی، اورغموں نے مارا…
-
وہ بدنصیب ہیں جنہیں غم ناگوار ہے غم تو دلیلِ رح…
وہ بدنصیب ہیں جنہیں غم ناگوار ہے غم تو دلیلِ رحمتِ پروردگار ہے غنچے ہیں،گل ہیں،سبزہ ہے،ابرِ بہار ہے سب جمع ہو چکے ہیں، ترا انتظار ہے آگے جبینِ شوق تجھے اختیار ہے یہ دیر ہے، یہ کعبہ ہے، یہ کوئے یار ہے الفاظ میں نہ ڈھونڈ مری بے قراریاں اے بے خبر!! زباں نہیں،…
-

-

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی نصیر ترابی…
وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی نصیر ترابی وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی نہ اپنا رنج نہ اوروں کا دکھ نہ تیرا ملال شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی محبتوں کا سفر…
-

خوابوں کے راہگزر میں رہنا پڑا مجھے تا عمر انتظار م…
خوابوں کے راہگزر میں رہنا پڑا مجھے تا عمر انتظار میں رہنا پڑا مجھے شہرِ وجود، جنگ زدہ شہر کی طرح لیکن اِسی دیار میں رہنا پڑا مجھے جب دل کے آئنے میں اقامت نہیں ملی دنیا! ترے غبار میں رہنا پڑا مجھے مجھ کو تو اپنے آپ میں رہنا عذاب تھا اب تیرے اختیار…