اندیشوں میں ڈوبی خبر
غلام محمد قاصر
کچھ اس طرح اُنہیں مدرسے میں رات آئی
کہ اب وہ گھر نہیں آئیں گے لوگ کہتے ہیں
جنھیں ہم اپنی دُعاؤں کے ساتھ چھوڑ آئے
وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے لوگ کہتے ہیں
ہر ایک آنکھ کی ٹھنڈک سبھی کے نورِ نظر
کہیں نظر نہیں آئیں گے لوگ کہتے ہیں
جو برگِ گُل خس و خاشاک کی طرح بِکھرے
کبھی اِدھر نہیں آئیں گے لوگ کہتے ہیں
یہ ٹوپیاں ہیں انہی کو سنبھال کر رکھنا
اب ان کے سر نہیں آئیں گے لوگ کہتے ہیں
از:-آٹھواں آسماں بھی نیلا ہے
اِک شعر ابھی تک رہتا ہے (کلیاتِ قاصر)
انتخاب
سفیدپوش

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔