Category: منتخب غزلیں
-

پہلو میں دل ہو اور دہن میں زباں نہ ہو میں کیسے …
پہلو میں دل ہو اور دہن میں زباں نہ ہو میں کیسے مان لوں کہ حقیقت بیاں نہ ہو میرے سکوتِ لب پر بھی الزام آ گئے میری طرح چمن میں کوئی بے زباں نہ ہو سوزِ دل و گدازِ جگر معتبر نہیں جب تک غمِ حبیب غم دو جہاں نہ ہو ہم نے تو…
-

جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے اس حادثہ وقت کو …
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے میخانے کی توہین ہے رِندوں کی ہتک ہے کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے ہے خوئے ایازی ہی سزاوارِ ملامت محمود کو کیوں طعنۂ اکرام دیا جائے ضد ہے کہ انہیں مان کے سرخیلِ بہاراں غنچوں…
-

کیا کعبہ و بُت خانہ، کیا مسجد و میخانہ یہ مستی و …
کیا کعبہ و بُت خانہ، کیا مسجد و میخانہ یہ مستی و ہُشیاری افسانہ ہے، افسانہ انکار ہے پھر دل کو زنداں سے نکلنے میں دیوانے کو کیا کہیے؟ دیوانہ تو دیوانہ پھر کوچۂ جاناں میں عالم ہے تموّج کا پھر چھیڑ پہ مائل ہے وہ نکہتِ مستانہ وہ شوخ کسی صورت اپنا بھی نہیں…
-

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا وہ شخص لہجہ…
غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا وہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا ہے تار تار مرے اعتماد کا دامن کسے بتاؤں کہ میں بھی امین رکھتا تھا اگر گیا ہے رگوں میں مری لہو بن کر وہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا گزرنے والے نہ یوں سرسری گزر دل سے مکاں…
-

کبھی حَیا اُنھیں آئی ،کبھی غرُور آیا ہمارے کام می…
کبھی حَیا اُنھیں آئی ،کبھی غرُور آیا ہمارے کام میں سَو سَو طرح فتُور آیا ہزار شُکر وہ عاشِق تو جانتے ہیں مُجھے جو کہتے ہیں کہ، تِرا دِل کہیں ضرُور آیا جو، باحَواس تھا، دیکھا اُسی نے جلوۂ یار جسے سرُور نہ آیا، اُسے سرُور آیا خُدا وہ دِن بھی دِکھائے ،کہ میں کہوں…
-
نالے ہی سدا بھر بھر دِن عُمر کے بھرتے ہیں ہیں نزع …
نالے ہی سدا بھر بھر دِن عُمر کے بھرتے ہیں ہیں نزع میں ہم تُجھ بِن جیتے ہیں نہ مرتے ہیں۔۔۔! مُحَمَّد عابد دِلؔ عظیم آبادی
-

ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتّو…
ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتّوں کے آنے میں ابھی کُچھ دِن لگیں گے بہت سے زرد چہروں پر غُبارِ غم ہے کم بے شک پر اِن کو مُسکُرانے میں ابھی کُچھ دِن لگیں گے کبھی ہم کو یقیں تھا زُعم تھا دُنیا ہماری جو مُخالِف ہے تو ہو…
-
کِس قدر سادہ لوح . . . . سونپ کر باغ دستِ گلچیں ک…
????کِس قدر سادہ لوح . . . .???? سونپ کر باغ دستِ گلچیں کو آرزوئے بہار کرتے ہیں خونِ قلب و جگر کی سرخی کو صرفِ روئے نگار کرتے ہیں بخش کر راہزن کو راہبری محو ہیں انتظارِ منزل میں جزبۂ رحم و پہلوئے بخشش ڈھونڈتے ہیں ادائے قاتل میں ظالموں سے ہیں عدل کے…
-
"”تسلسل ٹوٹ جائے گا”” نہ چھیڑوکھلتی کلیوں ,ہنستے …
????????””تسلسل ٹوٹ جائے گا””???????? نہ چھیڑوکھلتی کلیوں ,ہنستے پھولوں کو ان اڑتی تتلیوں, آوارہ بھونروں کو تسلسل ٹوٹ جا ئے گا فضا محو سماعت ہے، حسیں ہونٹوں کو نغمہ ریز رہنے دو نگاہیں نیچی رکھو اور مجسم گوش بن جاؤ اگر جنبش لبوں کو دی تسلسل ٹوٹ جائے گا ہوا سے پتیاں سرگوشیوں میں محو…
-
