
ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتّوں کے آنے میں ابھی کُچھ دِن لگیں گے
بہت سے زرد چہروں پر غُبارِ غم ہے کم بے شک پر اِن کو مُسکُرانے میں ابھی کُچھ دِن لگیں گے
کبھی ہم کو یقیں تھا زُعم تھا دُنیا ہماری جو مُخالِف ہے تو ہو جائے مگر تُم مِہرباں ہو
ہمیں یہ بات ویسے یاد تو اب کیا ہے لیکن ہاں اِسے یکسر بُھلانے میں ابھی کُچھ دن لگیں گے
جہاں اِتنے مصائب ہوں جہاں اِتنی پریشانی کِسی کا بے وفا ہونا ہے کوئی سانحہ کیا
بہت معقُول ہے یہ بات لیکن اِس حقیقت تک دِلِ ناداں کو لانے میں ابھی کُچھ دِن لگیں گے
کوئی ٹُوٹے ہُوئے شیشے لئے افسُردہ و مغمُوم کب تک یوں گُزارے بے طلب بے آرزُو دِن
تو اُن خوابوں کی کِرچیں ہم نے پلکوں سے جھٹک دیں پر نئے ارماں سجانے میں ابھی کُچھ دِن لگیں گے
توَہُّم کی سیہ شب کو کِرن سے چاک کرکے آگہی ہر ایک آنگن میں نیا سورج اُتارے
مگر افسوس یہ سچ ہے وہ شب تھی اور یہ سُورج ہے یہ سب کو مان جانے میں ابھی کُچھ دِن لگیں گے
پُرانی منزِلوں کا شوق تو کِس کو ہے باقی اب نئی ہیں منزِلیں ہیں سب کے دل میں جِن کے ارماں
بنا لینا نئی منزِل نہ تھا مُشکِل مگر اے دِل نئے رستے بنانے میں ابھی کُچھ دِن لگیں گے
اندھیرے ڈھل گئے روشن ہُوئے منظر زمیں جاگی فلک جاگا تو جیسے جاگ اُٹھی زِندگانی
مگر کُچھ یادِ ماضی اوڑھ کے سوئے ہُوئے لوگوں کو لگتا ہے جگانے میں ابھی کُچھ دِن لگیں گے۔۔۔!
جاوید اختر
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔