کبھی حَیا اُنھیں آئی ،کبھی غرُور آیا ہمارے کام می…
کبھی حَیا اُنھیں آئی ،کبھی غرُور آیا
ہمارے کام میں سَو سَو طرح فتُور آیا
ہزار شُکر وہ عاشِق تو جانتے ہیں مُجھے
جو کہتے ہیں کہ، تِرا دِل کہیں ضرُور آیا
جو، باحَواس تھا، دیکھا اُسی نے جلوۂ یار
جسے سرُور نہ آیا، اُسے سرُور آیا
خُدا وہ دِن بھی دِکھائے ،کہ میں کہوں بیخودؔ
جنابِ داغؔ سے مِلنے مَیں رام پُور آیا
بیخوؔد بدایونی