غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا وہ شخص لہجہ…


غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
وہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا

ہے تار تار مرے اعتماد کا دامن
کسے بتاؤں کہ میں بھی امین رکھتا تھا

اگر گیا ہے رگوں میں مری لہو بن کر
وہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا

گزرنے والے نہ یوں سرسری گزر دل سے
مکاں شکستہ سہی، پر مکین رکھتا تھا

وہ عقلِ کُل تھا بھلا کس کی مانتا محسن
خیالِ خام پہ پختہ یقین رکھتا تھا

محسن بھوپالی

از:-کُلیاتِ محسن ص ۵۰۹/۵۱۰

انتخاب
سفیدپوش