Category: منتخب غزلیں
-

قرۃ العین حیدر کی پیدائش Jan 20, 1926 20 جنوری 19…
قرۃ العین حیدر کی پیدائش Jan 20, 1926 20 جنوری 1926ء اردو کی افسانہ نگار اور ناول نگار قرۃ العین حیدر کی تاریخ پیدائش ہے۔ اردو کے افسانہ نگاروں اور ناول میں قرۃ العین حیدر کا مقام بہت بلند ہے۔ وہ مشہور انشا پرداز سید سجاد حیدر بلدرم کی صاحبزادی ہیں۔ قرۃالعین حیدر علی گڑھ…
-

سید عابد علی عابد کی وفات Jan 20, 1971 اردو کے نا…
سید عابد علی عابد کی وفات Jan 20, 1971 اردو کے نامور شاعر‘ ادیب‘ نقاد‘ محقق‘ مترجم اور ماہر تعلیم سید عابد علی عابد 17 ستمبر 1906ءکو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے حکیم احمد شجاع کے رسالے ’’ہزار داستاں‘‘ سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا پھر مجلس وضع قانون (پنجاب)…
-

-

پروفیسر ڈاکٹر شریف کنجاہی کی وفات Jan 20, 2007 پر…
پروفیسر ڈاکٹر شریف کنجاہی کی وفات Jan 20, 2007 پروفیسر ڈاکٹر شریف کنجاہی (پیدائش: 13 مئی، 1914ء – وفات: 20 جنوری، 2007ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی اور اردو کے ممتاز ادیب، شاعر، ماہرِ لسانیات، محقق، مترجم اور معلم تھے جو قرآن پاک کا پنجابی زبان میں ترجمہ القرآن الکریم کی وجہ سے مشہور…
-

اک برگ سبز شاخ سے کر کے جدا بھی دیکھ مرتضیٰ برلاس …
اک برگ سبز شاخ سے کر کے جدا بھی دیکھ مرتضیٰ برلاس اک برگ سبز شاخ سے کر کے جدا بھی دیکھ میں پھر بھی جی رہا ہوں مرا حوصلہ بھی دیکھ ذرے کی شکل میں مجھے سمٹا ہوا نہ جان صحرا کے روپ میں مجھے پھیلا ہوا بھی دیکھ تو نے تو مشت خاک…
-

اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے مرتضیٰ برلا…
اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے مرتضیٰ برلاس اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے گر حرف غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے ایسے ہی اگر مونس و غم خوار ہو میرے یارو مجھے مرنے کی دعا کیوں نہیں دیتے اب شدت غم سے مرا دم گھٹنے…
-

آنسو لُٹا رہا ں تاروں کی روشنی میں تارے لُٹا رہا …
آنسو لُٹا رہا ں تاروں کی روشنی میں تارے لُٹا رہا ہوں تاروں کی روشنی میں دِل کو جَلا رہا ہوں تاروں کی روشنی میں مَشعل بَنا رہا ہوں تاروں کی روشنی میں جاؤں کِدھر مُجھے کچھ اے بے خودی بتانا چَکر میں آ رہا ہُوں تاروں کی روشنی میں تارے بھی آسماں پر کُچھ…
-
ڈوب کر دیکھ سمندر ہوں میں آوازوں کا ! طالبِ حْسنِ…
ڈوب کر دیکھ سمندر ہوں میں آوازوں کا ! طالبِ حْسنِ سماعت میرا سنّاٹا ہے ! مظفر وارثی
-
مجھ کو زخموں کی نمائش سے گریزاں پا کر لوگ ہر روز ن…
مجھ کو زخموں کی نمائش سے گریزاں پا کر لوگ ہر روز نئے زخم لگانے آئے سید سبط علی صباؔ
-

لفظ ٹُوٹے لبِ اِظہار تک آتے آتے م…
لفظ ٹُوٹے لبِ اِظہار تک آتے آتے مَر گئے ہم ترے معیار تک آتے آتے ایک لمحے کی مسافت بھی بڑی ہوتی ہے ہم کو تو عمر لگی ، یار تک آتے آتے ایسے لگتا ہے کہ آسودگی قسمت میں نہ تھی جل گئے سایہِ دیوار تک آتے آتے کس طرح سلب ہوئی قوتِ گویائی…