Category: منتخب غزلیں
-
اپنی تابش کو زمینوں سے نہ کرنا مشروط ورنہ سورج کی …
اپنی تابش کو زمینوں سے نہ کرنا مشروط ورنہ سورج کی طرح شام کو ڈھل جاؤ گے (ظہیر احمد ظہیرؔ)
-

محشرؔ بدایونی کسی عالَم میں، کسی راہگُذر سے گُزر…
محشرؔ بدایونی کسی عالَم میں، کسی راہگُذر سے گُزرے آدمی خالقِ منزِل ہے، جِدھر سے گُزرے راہِ میخانہ تھی، پِھر بھی نہ اُدھر سے گُزرے کم نظر تھےجو غَمِ شام و سَحر سے گُزرے اِشتیاق اِتنا، کہ وہ روز اِدھر سے گُزرے احتیاط اِتنی کہ کھنچ کھنچ کے نظر سے گُزرے میری بیتاب نِگاہی کا…
-

ظُلمت کدوں کی دہر میں کوئی کمی نہیں سورج چمک …
ظُلمت کدوں کی دہر میں کوئی کمی نہیں سورج چمک رہا ہے مگر روشنی نہیں سڑکوں پہ پھر رہی ہے سُلگتی ہوئی حیات اور وہ حیات جس کو ابھی موت بھی نہیں تْم ساتھ چل رہے ہو مگر اِتنا سوچ لو دشتِ طلب میں سایہِ دیوار بھی نہیں کب حادثوں نے چین سے سونے دیا…
-

"”ابھی کچھ دن لگیں گے”” ابھی کچھ دن لگیں گے دل ای…
????????””ابھی کچھ دن لگیں گے””???????? ابھی کچھ دن لگیں گے دل ایسے شہر کے پامال ہوجانے کا منظر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے جہانِ رنگ کے سارے خس و خاشاک سب سرو و صنوبر پھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر کہیں امید کا چھوٹا سا…
-
نہ میں یقین میں رکھوں نہ تو گمان میں رکھ ہے س…
نہ میں یقین میں رکھوں نہ تو گمان میں رکھ ہے سب کی بات تو پھر سب کے درمیان میں رکھ وہ دھوپ میں جو رہے گا تو روپ کھو دے گا چھپا لے سینے میں، پلکوں کے سائبان میں رکھ مرے بدن کو تو اپنے بدن کی آنچ نہ دے—!! جو ہو سکے تو…
-
انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا ت…
انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا اس حسن اتفاق پہ لٹ کر بھی شاد ہوں تیری رضا جو تھی وہ تقاضا وفا کا تھا دل راکھ ہو چکا تو چمک اور بڑھ گئی یہ تیری یاد تھی کہ عمل کیمیا کا تھا اس…
-
ﺭﻭﺵ ﺭﻭﺵ ﭘﮧ ﮨﯿﮟ ﻧﮑﮩﺖ ﻓﺸﺎﮞ ﮔُﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺣﺴﯿﮟ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ …
ﺭﻭﺵ ﺭﻭﺵ ﭘﮧ ﮨﯿﮟ ﻧﮑﮩﺖ ﻓﺸﺎﮞ ﮔُﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺣﺴﯿﮟ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ، ﺍﺭﻏﻮﺍﮞ ﮔُﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺍُﻓﻖ ﺍُﻓﻖ ﭘﮧ ﺯﻣﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺩُﮬﻨﺪ ﺳﮯ ﺍُﺑﮭﺮﮮ ﻃﯿﻮﺭ، ﻧﻐﻤﮯ، ﻧﺪﯼ، ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ، ﮔﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﺲ ﺍﻧﮩﻤﺎﮎ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮐﺸﯿﺪ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﻋﺮﻭﺱِ ﮔُﻞ ﺑﮧ ﻗﺒﺎﺋﮯ ﺟﮩﺎﮞ، ﮔﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺟﮩﺎﻥِ ﮔﺮیہ ﺷﺒﻨﻢ ﺳﮯ ﮐﺲ ﻏﺮﻭﺭ ﮐﮯ ﺳﺎت…
-
"”خواب”‘ کبھی اک خواب سا دیکھا تھا میں نے کہ تم م…
????????????””خواب”‘???????????? کبھی اک خواب سا دیکھا تھا میں نے کہ تم میری ہو اور میرے لیے ہو تمھاری دلکشی میرے لیے ہے میں جو کچھ ہوں تمھارے ہی لیے ہوں تمھاری ہر خوشی میرے لیے ہے وہ راتیں آہ وہ سرمست راتیں کہ جن کی تشنہ لب سرمستیوں نے سرورِ تشنگی بخشا تھا مجھ کو…
-

-
