Category: منتخب غزلیں
-

افسر صدیقی امروہوی کا یومِ وفات February 09, 1984 …
افسر صدیقی امروہوی کا یومِ وفات February 09, 1984 پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، محقق، مترجم اور صحافی افسر صدیقی امروہوی 3 رجب، 1314ھ بمطابق 9 دسمبر، 1896ء بروز بدھ کو امروہہ، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے. ان کے جدِ اعلیٰ نوازش علی عرف نوازی صدیقی 1713ء میں دہلی سے…
-

سلیمان خطیب مانا حریف کہکشاں اور بھی تجھ سے تھے م…
سلیمان خطیب مانا حریف کہکشاں اور بھی تجھ سے تھے مگر میری نظر نے چن لیا اپنی نظر کو کیا کروں تیرا جو ذکر چھیڑ گیا آنکھ سے اشک گر پڑے دامن تر چھپا لیا دیدۂ تر کو کیا کروں صبر کا حکم خوب ہے لیکن حضور یہ کہیں سوزِ دروں کا کیا بنے دردِجگر…
-

-

علی افتخار جعفری کا یومِ وفات ہے۔ February 09, 201…
علی افتخار جعفری کا یومِ وفات ہے۔ February 09, 2014 علی افتخار جعفری 02 اگست 1969ءکو پیدا ہوئے تھے ۔ وہ پنجاب پولیس مین ڈی ایس پی کے عہدے پر فائز تھے ۔ سوڈان میں کچھ عرصہ انہوں نے اقوام متحدہ کی امن فوج میں خدمات انجام دی تھیں ۔ ستمبر 2013ء میں وہ ایک…
-

مہاراج بہادر ورما برق کی وفات Feb 09, 1936 وہ آئے…
مہاراج بہادر ورما برق کی وفات Feb 09, 1936 وہ آئے بزم میں اتنا تو برقؔ نے دیکھا پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی (منشی مہاراج بہادر ورما، تخلص برق) ۱۸۸۶ ۱۹۳۶
-

ﺟِﺴﻢ ﺩﻣﮑﺘﺎ، ﺯُﻟﻒ ﮔﮭﻨﯿﺮﯼ، ﺭﻧﮕﯿﮟ ﻟﺐ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟﺎﺩﻭ ﺳﻨﮓ…
ﺟِﺴﻢ ﺩﻣﮑﺘﺎ، ﺯُﻟﻒ ﮔﮭﻨﯿﺮﯼ، ﺭﻧﮕﯿﮟ ﻟﺐ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟﺎﺩﻭ ﺳﻨﮓِ ﻣﺮﻣﺮ، ﺍُﻭﺩﺍ ﺑﺎﺩﻝ، ﺳُﺮﺥ ﺷﻔﻖ، ﺣﯿﺮﺍﮞ ﺁﮨﻮ ﺑﮭﮑﺸﻮ ﺩﺍﻧﯽ، ﭘﯿﺎﺳﺎ ﭘﺎﻧﯽ، ﺩﺭﯾﺎ ﺳﺎﮔﺮ، ﺟﻞ ﮔﺎﮔﺮ ﮔُﻠﺸﻦ ﺧُﻮﺷﺒﻮ، ﮐﻮﺋﻞ ﮐُﻮ ﮐُﻮ، ﻣﺴﺘﯽ ﺩﺍﺭُﻭ، ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗُﻮ ﺑﺎﻧﺒﯽ ﻧﺎﮔﻦ، ﭼﮭﺎﯾﺎ ﺁﻧﮕﻦ، ﮔﻨﮕﮭﺮﻭ ﭼﮭﻦ ﭼﮭﻦ، ﺁﺷﺎ ﻣﻦ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﺎﺟﻞ، ﭘﺮﺑﺖ ﺑﺎﺩﻝ، ﻭﮦ ﺯُﻟﻔﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﺎﺯﻭ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﻣﮩﮑﯽ، ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ…
-

ندا فاضلی نیل گگن میں تیر رہا ہے اجلا اجلا پورا چ…
ندا فاضلی نیل گگن میں تیر رہا ہے اجلا اجلا پورا چاند ماں کی لوری سا بچے کے دودھ کٹورے جیسا چاند منی کی بھولی باتوں سی چٹکیں تاروں کی کلیاں پپو کی خاموشی شرارت سا چھپ چھپ کر ابھرا چاند مجھ سے پوچھو کیسے کاٹی میں نے پربت جیسی رات تم نے تو گودی…
-
چاند نے اپنا دیپ جلایا شام بجھی ویرانے میں اس …
چاند نے اپنا دیپ جلایا شام بجھی ویرانے میں اس کی بستی دور ہے شاید دیر ہے اس کے آنے میں کیا پتھر کی بھاری سِل ہے ایک اک لمحہ ماضی کا دیکھو دب کر رہ جاؤ گے اتنا بوجھ اٹھانے میں اس کو نہیں دیکھا ہے جس نے مجھ کو بھلا کیا سمجھے گا…
-
نہ کر سکیں انھیں برسوں کی آندھیاں مدّھم یہ کون چ…
نہ کر سکیں انھیں برسوں کی آندھیاں مدّھم یہ کون چھوڑ گیا لوحِ دل پہ نقشِ قدم ہزار دورِ خزاں سے گزر کے آئے ہیں عجیب رنگ سے گزرا بہار کا موسم ابھی ہے چاند ستاروں کی روشنی مدّھم ابھی ہے شام کے چہرے پہ پَرتوِ شبِ غم گزرنا ہو گیا دشوار رہگزاروں سے یہ…
-
صُراحی جام سے ٹکرائیے برسات کے دن ہیں حدیثِ زندگی…
صُراحی جام سے ٹکرائیے برسات کے دن ہیں حدیثِ زندگی دُہرائیے برسات کے دن ہیں سفینہ لے چلا ہے کس مخالف سمت کو ظالم ذرا ملّاح کو سمجھائیے برسات کے دن ہیں کِسی پُر نُور تمہت کی ضرورت ہے گھٹاؤں کو کہیں سے مہ وَشوں کو لائیے برسات کے دن ہیں طبیعت گردشِ دوراں کی…