جگنو
.
فضا کا سرمئی رنگ اور ہو چلا گہرا
گھلا گھلا سا فلک ہے دھواں دھواں سی ہے شام
ہے جھٹپٹا کہ کوئی اژدہا ہے مائلِ خواب
سکوتِ شام میں درماندگی کا عالم ہے
رُکی رُکی سی صفیں ملگجی گھٹاؤں کی
اُتار پر ہے سر صحن رقص پیپل کا
وہ کچھ نہیں ہے اب اِک جنبشِ خفی کے سوا
خود اپنی کیفیت نیلگوں میں ہر لحظہ
یہ شام ڈوبتی جاتی ہے چھپتی جاتی ہے
حجابِ وقت سر سے ہے بے حس و حرکت
رُکی رُکی دلِ فطرت کی دھڑکنیں یک لخت
یہ رنگِ شام کہ گردش ہی آسماں میں نہیں
بس ایک وقفۂ تاریک، لمحۂ شہلا
سما میں جنبشِ مبہم سی کچھ ہوئی فوراً
تلی گھٹا کے تلے بھیگے بھیگے پتوّں سے
ہری ہری کئی چنگاریاں سی پھوٹ پڑیں
کہ جیسے کھلتی جھپکتی ہوں بے شمار آنکھیں
عجب یہ آنکھ مچولی تھی نور و ظلمت کی
سہانی نرم لویں دیتے انگنت جگنو
گھنی سیاہ خنک ّپتیوں کے جھرمٹ سے
مثال چادرِ شب آب جگمگانے لگے
کہ تھرتھراتے ہوئے آنسوؤں سے ساغر شام
چھلک چھلک پڑے جیسے بغیر سان گمان
بطونِ شام میں ان زندہ قمقموں کی چمک
کسی کی سوئی ہوئی یاد کو جگاتی تھی
وہ بے پناہ گھٹا وہ بھری بھری برسات
دیکھ کے آنکھیں مری بھر آتی تھیں
.
فراق گورکھپوری
@2023 – u062cu0645u064au0639 u0627u0644u062du0642u0648u0642 u0645u062du0641u0648u0638u0629. u062au0635u0645u064au0645 u0648u062au0637u0648u064au0631 PenciDesign