اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

یہ بات صبا کہیو ان سے وہ جن کی کملیا کالی ہے اب ا…

یہ بات صبا کہیو ان سے وہ جن کی کملیا کالی ہے
اب ان کے غلاموں کے گھر کی دیوار الٹنے والی ہے

کہیو کہ انہوں نے اپنی نظر کیوں ہم سے الگ فرمالی ہے
ہم نے تو انہیں کی زلفوں کی زنجیر گلے میں ڈالی ہے

کہیو کہ دلوں پر چھائی ہوئی ہر سمت شکستہ حالی ہے
دن بھی ہے بڑا سونا سونا اور رات بھی کالی کالی ہے

کہیو کہ ستم نے تیروں کی بوچھار ہمیں پر ڈالی ہے
ہر شام نیا ہنگامہ ہے ہر صبح نئی پامالی ہے

کہیو کہ یہ صورت حال ہے اب ہم منہ کو چھپائے پھرتے ہیں
چہرے تو ہیں گردن پر لیکن چہروں پہ کہاں اب لالی ہے

کہیو کہ وہی تو ساقی ہیں کہیو کہ وہ یہ بھی جانے ہیں
رندوں کو لگی ہے پیاس بہت اور سب کا پیالہ خالی ہے

(کلیم عاجز رح)

اَلّٰلھُمَّ صَلِّ عَلٰی مَحَمَّد

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

This is the matter of Saba, those who are black.
Now the wall of the house of their slaves is about to be overturned.

Say why they have separated their eyes from us
Verily we! We have fastened their hairs with a chain.

Say, " every direction that covered the hearts is broken.
The day is also big gold gold and night is also black black

Say that rejection has put the arrows of arrows on us.
Every evening is a new commotion every morning is new pạmạly̰

Say, " this is what we hide our face
The faces are on the neck but where is the lollipop on the faces now

Say that they are the bartender, say that they also go
There is a lot of thirst and everyone's bowl is empty.

(Kaleem Humble RH)

May Allah bless Muhammad

Al-ạlmrsl :-:

Translated