کیا کعبہ و بُت خانہ، کیا مسجد و میخانہ یہ مستی و …
کیا کعبہ و بُت خانہ، کیا مسجد و میخانہ
یہ مستی و ہُشیاری افسانہ ہے، افسانہ
انکار ہے پھر دل کو زنداں سے نکلنے میں
دیوانے کو کیا کہیے؟ دیوانہ تو دیوانہ
پھر کوچۂ جاناں میں عالم ہے تموّج کا
پھر چھیڑ پہ مائل ہے وہ نکہتِ مستانہ
وہ شوخ کسی صورت اپنا بھی نہیں ہوتا
اور یہ بھی نہیں ممکن سمجھیں اُسے بیگانہ
سنتے ہیں ازل سے ہی تنگ اہلِ جنوں پر ہے
گُلشن ہو کہ صحرا ہو، بستی ہو کہ ویرانہ
آئینہ ہے ہر محفل نیرنگِ محبّت کا
عکسِ دلِ سوزاں ہے، ہو شمع کہ پروانہ
پھر چاک گریباں ہے دنیائے سِیہ کاری
اک شعلۂ عریاں ہے پھر جلوۂ جانانہ
سنتے ہیں نہیں ٹوٹا عالم کا جمود اب تک
لے ہم بھی لگاتے ہیں اک نعرۂ مستانہ
پھر مٹنے مٹانے پر آیا دلِ دیوانہ
انجام سے بے پروا، آغاز سے بیگانہ
کیا ہوں گی فراقؔ اُس کی بیباک نگاہیں بھی؟
ہے کم نگہی جس کی افسانہ در افسانہ
(فراقؔ گورکھپوری)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی