اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

کہانی سانس لیتی ہے کہانی قطرہ قطرہ زندگی سے آنس ل…


کہانی سانس لیتی ہے

کہانی قطرہ قطرہ زندگی سے آنس لیتی ہے
کبھی لمحوں کی چٹیا میں ستارے ٹانک جاتی ہے
کبھی پَل بھر میں صدیوں کی مسافت پھانک جاتی ہے
کہانی سانس لیتی ہے

کہانی سانس لیتی ہے
کسی کو ساتھ لیتی ہے
کسی کو چھوڑ جاتی ہے
کبھی انگلی پکڑتی ہے
کبھی بانہوں میں بھرتی ہے
کبھی ایڑی کے بَل پر بس اچانک گھوم جاتی ہے

کہانی سانس لیتی ہے
کبھی آنگن کی مٹّی میں ہنسی کے پھول اگاتی ہے
کبھی رستے کے جِھلمل میں دُکھوں کی دھول اڑاتی ہے
کبھی آنسو ‘ کبھی سِسکی
کبھی خوش بو سے بھی ہلکی
کبھی ساون بھرا بادل
کبھی روٹھا ہُوا آنچل
کبھی لفظوں سے دل کی تختیوں کو چوم جاتی ہے
کہانی سانس لیتی ہے

( ایُّوب خاور)