کرشن بہاری نورؔ کا جنم دن
08 November 1925
منتخب اشعار
آئنہ یہ تو بتاتا ہے کہ میں کیا ہوں مگر
آئنہ اس پہ ہے خاموش کہ کیا ہے مجھ میں
—
میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا
سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے
—
کیسی عجیب شرط ہے دیدار کے لیے
آنکھیں جو بند ہوں تو وہ جلوہ دکھائی دے
—
زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
اور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں
—
اتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں میں
میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں
—
میں جس کے ہاتھ میں اک پھول دے کے آیا تھا
اسی کے ہاتھ کا پتھر مری تلاش میں ہے
—
ہوس نے توڑ دی برسوں کی سادھنا میری
گناہ کیا ہے یہ جانا مگر گناہ کے بعد
—
کیوں آئینہ کہیں اسے پتھر نہ کیوں کہیں
جس آئینے میں عکس نہ اس کا دکھائی دے
—
تشنگی کے بھی مقامات ہیں کیا کیا یعنی
کبھی دریا نہیں کافی کبھی قطرہ ہے بہت
—
اک غزل اس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت
ان دنوں خود سے بچھڑ جانے کا دھڑکا ہے بہت
—
اپنا پتہ نہ اپنی خبر چھوڑ جاؤں گا
بے سمتیوں کی گردِ سفر چھوڑ جاؤں گا
—
یوں دعوتِ شباب نہ دو میں نشے میں ہوں
یہ دوسری شراب نہ دو میں نشے میں ہوں
—
میں ایک قطرہ ہوں میرا الگ وجود تو ہے
ہوا کرے جو سمندر مری تلاش میں ہے
—
تیز ہو جاتا ہے خوشبو کا سفر شام کے بعد
پھول شہروں میں بھی کھلتے ہیں مگر شام کے بعد
—
یہ لمحہ زیست کا ہے بس آخری ہے اور میں ہوں
ہر ایک سمت سے اب واپسی ہے اور میں ہوں
—
بچھڑ کے تجھ سے نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں
عجیب طرح کے بس حادثے گزرتے ہیں
—
کسی کے رخ سے جو پردہ اٹھا دیا میں نے
سزا یہ پائی کی دیوانگی کی قید میں ہوں
—
موسم ہیں دو ہی عشق کے صورت کوئی بھی ہو
ہیں اس کے پاس آئنے ہجر و وصال کے
—
یارو گھر آئی شام چلو میکدے چلیں
یاد آ رہے ہیں جام چلو میکدے چلیں
—
دینا ہے تو نگاہ کو ایسی رسائی دے
میں دیکھوں آئینہ تو مجھے تو دیکھائی دے
کاش ایسا تال میل سکوت و صدا میں ہو
اس کو پکاروں میں تو اسی کو سنائی دے
مجرم ہے سوچ سوچ ، گنہ گار سانس سانس
کوئی صفائی دے تو کہاں تک صفائی دے
………………………….
