پیر • 5 اکتوبر 2026ء
📚 کتب خانہ ۱۴۸٬۸۹۴

ابوالمظفر اقبال سہیل کا یومِ وفات 08 November 1955…

ابوالمظفر اقبال سہیل کا یومِ وفات
08 November 1955
…
نہ رہا کوئی تار دامن میں
اب نہیں حاجت رفو مجھ کو
…..
جو تصور سے ماورا نہ ہوا
وہ تو بندہ ہوا خدا نہ ہوا
…..
وہ شبنم کا سکوں ہو یا کہ پروانے کی بیتابی
اگر اڑنے کی دھن ہوگی تو ہوں گے بال و پر پیدا
…..
آشوب اضطراب میں کھٹکا جو ہے تو یہ
غم تیرا مل نہ جائے غم روزگار میں
…..
کچھ ایسا ہے فریب نرگس مستانہ برسوں سے
کہ سب بھولے ہوئے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سے
…..
حسن فطرت کی آبرو مجھ سے
آب و گل میں ہے رنگ و بو مجھ سے
…..
خاکستر دل میں تو نہ تھا ایک شرر بھی
بیکار اسے برباد کیا موج صبا نے
…………………………