# **کتابیں اور برطانیہ کی ورکنگ کلاس** **ڈاکٹر مبارک علی** اے پی ٹامسن نے برطا…
# **کتابیں اور برطانیہ کی ورکنگ کلاس**
**ڈاکٹر مبارک علی**
اے پی ٹامسن نے برطانیہ کی ورکنگ کلاس کی تشکیل پر کتاب لکھی ہے۔ جس میں اس نے ان تمام سیاسی، سماجی مرحلوں کا ذکر کیا ہے جن سے گزر کر ورکنگ کلاس کی تشکیل ہوئی تھی۔
جوناتھن روز (Jonathan Rose) نے اس کے برعکس اپنی کتاب The Intellectual Life of the British Working Classes میں انگریزی ورکنگ کلاس کی تعمیر میں خاص طور سے تعلیم کا ذکر کیا ہے کہ کتابوں کے مطالعے میں ورکنگ کلاس کے مصنفین کی آپ بیتیوں سے مواد لیا ہے۔ اس مقصد کے لئے اس نے ان کی ملنے والی ڈائریاں اور ان کتابوں کا بھی ذکر کیا ہے جو انہوں نے مختلف کتب خانوں سے لے کر پڑھی تھیں۔ یہ کتابیں مختلف مرحلوں میں بدلتی رہی تھیں۔ ابتدائی دور میں جبکہ خواندگی کی شرح کم تھی اس وقت بائبل کو پڑھا جاتا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ عام لوگ ریاست کے وفادار رہیں اور مذہبی اعتقادات پر ایمان رکھیں۔
ہنری ہشتم کے دورِ حکومت میں بائبل کے انگریزی ترجمے پر پابندی عائد کردی گئی تھی اور جنہوں نے اس کی خلاف ورزی کی تھی ان میں آٹھ آدمیوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بائبل کے پڑھنے سے ان میں کوئی طبقاتی شعور پیدا نہ ہو، لیکن صنعتی انقلاب کے بعد ورکنگ کلاس پید اہوئی اور انہوں نے فیکٹریوں میں کام کرنا شروع کیا ٹریڈ یونین نے ان میں اتحاد پید اکیا تو ان میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ علم کے ذریعے اپنے سماجی رتبے کو تبدیل کریں، لیکن برطانیہ کی اشرافیہ نہیں چاہتی تھی کہ ورکنگ کلاس تعلیم حاصل کرے کیوں کہ اس صورت میں ان کے اور ورکنگ کلاس کے درمیان سماجی فرق کے ختم ہونے کا خطرہ موجود تھا۔ علم کے حصول میں ورکنگ کلاس کو پرنٹنگ پریس کی وجہ سے سستی کتابیں ملنے کا موقع مل گیا اور کتب خانوں کے قیام میں ان کو یہ موقع دیا کہ وہ کتابیں کتب خانے سے لے کر پڑھ سکیں۔ اس طرح دو قسم کا تعلیمی نظام عمل میں آیا۔ ایک وہ تعلیمی نظام تھا جو اشرافیہ کے لئے مخصوص تھا اور جہاں ورکنگ کلاس کے لئے داخلہ ممکن نہ تھا۔ لہٰذا ورکنگ کلاس اپنی تعلیم کا خود انتظام کیا۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ تھا کہ لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے اور کوئی کتاب پڑھ کر سناتا تھا۔ دوسرے علم کے وہ شائقین تھے جو کتاب خرید کر پڑھتے تھے۔ مثلاً سکاٹ لینڈ کے جولاہوں میں کتابیں پڑھنے کا بڑا شوق تھا وہ اپنا کام بھی کرتے جاتے تھے اور کتابیں بھی پڑھتے جاتے۔ دوسرے کتابوں کو پڑھنے والے چرواہے تھے وہ مویشیوں کو چرواتے بھی جاتے تھے اور پڑھتے بھی جاتے تھے۔
ورکنگ کلاس نے امداد باہمی کی سوسائیٹیاں قائم کی تھیں جن کے اجلاس ہوتے رہتے تھے اور جہاں سیاسی اور سماجی مسائل پر بحث و مباحثے کرتے رہتے تھے۔ اسی سے تعلق رکھنے والا تھیٹر گروپ ہوتاجہاں خاص طور سے شیکسپیئر کے ڈرامے سٹیج کئے جاتے تھے۔ موسیقی کے کلب ہوتے تھے جہاں بیتھووین اور موزارت وغیرہ کی موسیقی پیش کی جاتی تھی۔ ان سب سرگرمیوں کا نتیجہ یہ تھا کہ ورکنگ کلاس ان پڑھ اور جاہل نہیں رہی تھی بلکہ اس نے سیاسی اور سماجی آگہی پیدا ہوئی۔
ورکنگ کلاس کے لئے یہ کہنا بھی درست نہیں کہ وہ سستا لٹریچر پڑھتے تھے ۔ وقت کے ساتھ ان میں یہ شعور پیدا ہوگیا تھا کہ اعلیٰ ادب کا مطالعہ کریں۔ ان میں خاص طور سے چارلس ڈکنز بڑا مقبول تھا دوسرے مصنفین میں بائرن اور پوپ بھی قابلِ ذکر تھے۔
جب برطانیہ میں بائیں بازو کی تحریکوں کی ابتدا ہوئی تو ورکنگ کلاس کی اکثریت نے اس میں پوری طرح سے شرکت نہیں کی۔ مثلاً لیبر پارٹی کا جب قیام عمل میں آیا تو اس کے ابتدائی اراکین میں کوئی اشرافیہ کا فرد نہیں تھا، بلکہ یہ ورکنگ کلاس تھی جس نے اس پارٹی کو بنایا۔
جب ورکنگ کلاس میں اتحاد پیدا ہوگیا تو انہوں نے تعلیمِ بالغان کے لیے بھی ادارے کھولے چوں کہ ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی تھی جو بچپن سے فیکٹریوں میں کام کرتے تھےاور جنہیں اسکول جانے کے مواقع نہیں تھے۔ لہٰذا اس مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کتابیں نہ صرف ورکنگ کلاس بلکہ معاشرے کے عام لوگوں کے ذہن کو بھی بدلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اشرافیہ اور ریاستیں عام لوگوں کے لئے تعلیم کے حصول کے لئے پابندیاں عائد کرتی ہیں اور سنسر شپ کے ذریعے کتابوں کی اشاعت کو روکتے ہیں۔
اس مقصد کے لئے بعض ریاستیں باقاعدہ قانون بناتی ہیں۔ جیسے شمالی امریکہ میں خانہ جنگی سے پہلے جنوب کی ریاستوں میں یہ قانون تھا کہ افریقی غلاموں کے لیے تعلیم حاصل کرنا ایک جرم تھا۔
اس کتاب کے مطالعے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ورکنگ کلاس کو یا عوام کو تعلیم کے حصول کے لیے خود اپنے پر انحصار کرنا ہوگا۔ ورکنگ کلاس کے لوگوں نے جو اپنی سوانح لکھی ہیں۔ ان میں انہوں نے ناصرف اپنے ذاتی حالات بلکہ اپنے وقت کے سماجی نظریات کو بھی بیان کیا ہے۔
اس کی اہمیت اس وجہ سے کہ اب تک اشرافیہ کی مورخ عوام کی تاریخ لکھتے تھے لیکن ورکنگ کلاس کے لوگ خود اپنی تاریخ لکھ رہے ہیں۔ اس لئے ان دونوں تاریخ کے بیان میں فرق پایا جاتا ہے۔ برطانیہ میں ورکنگ کلاس نے تعلیم کی وجہ سے اپنے سیاسی حقوق حاصل کئےاور عدم مساوات کے فرق کو کم کیا۔ انتخابات میں حصہ لے کر ریاست کے کاموں میں شرکت کی اور پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے اپنے حقوق کی حفاظت کی۔
بہت سے ورکنگ کلاس کے لوگ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر بھی فائض رہے۔ مذہبی طور پر بھی یہ تبدیلی آئی کہ جب انہوں نے بائبل کو خود سے پڑھنا شروع کیا تو چرچ اور راہب کی زیادہ ضرورت نہیں رہی بلکہ ایسے افراد بھی تھے کہ جب پادری واعظ دے رہا ہوتا تھا اور بائبل کا حوالہ دیتا تھا تو لوگ فوراً اپنی بائبل سے اس کا موازنہ کرتے تھے کہ اس نے کہاں تک صحیح بات ہے۔ اسی مذہبی عقیدے کا تعلق تھا کہ جس نے ایوان جلیکل مذہبی جماعت کو مقبول بنایا اور ان مذہبی عقائد ہی کی وجہ سے کمیونسٹ پارٹی برطانیہ میں اپنے قدم نہیں جما کسی۔ یہ تعلیم ہی کا نتیجہ تھا کہ ورکنگ کلاس نے اپنے دانشور پیدا کئے تاکہ وہ اشرافیہ کے محتاج نہ ہوں اور اپنی رہنمائی خود کرسکیں۔ اس لحاظ سے برطانیہ کی ورکنگ کلاس یورپ کے دوسرے ملکوں سے مختلف رہی۔
مشمولہ:
کتاب : تاریخ کی تشکیلِ نو
مصنف : ڈاکٹر مبارک علی
پبلیشر : فکشن ہاؤس ، لاہور
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3871495863080918