اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

چمن کے رنگ و بو نے اس قدر دھوکا دیا مجھ کو کہ میں …


چمن کے رنگ و بو نے اس قدر دھوکا دیا مجھ کو
کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی
…
اختر ہوشیارپوری کا یومِ پیدائش
20 April 1918
نام عبدالسلام اور اختر تخلص ہے۔۲۰؍ اپریل۱۹۱۸ء کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بی اے، ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے اور راول پنڈی میں سکونت اختیارکی۔ ان کی تالیف کردہ کتابیں ’’مجتبیٰ‘‘ اور ’’خیر البشر‘‘ برائے سال۱۹۹۸ء اور ۲۰۰۰ء بالترتیب دوم اور سوم انعام کی مستحق قرار پائیں۔حکومت پاکستان نے انھیں ادب(شاعری) کے شعبے میں ’’تمغۂ امتیاز‘ سے بھی نوازا۔
وہ ۱۸؍مارچ ۲۰۰۷ء کو راولپنڈی میں انتقال کرگئے۔
..
لوگ نظروں کو بھی پڑھ لیتے ہیں
اپنی آنکھوں کو جھکائے رکھنا
…..
کچے مکان جتنے تھے بارش میں بہہ گئے
ورنہ جو میرا دکھ تھا وہ دکھ عمر بھر کا تھا
…..
اخترؔ گزرتے لمحوں کی آہٹ پہ یوں نہ چونک
اس ماتمی جلوس میں اک زندگی بھی ہے
….
میں نے جو خواب ابھی دیکھا نہیں ہے اخترؔ
میرا ہر خواب اسی خواب کی تعبیر بھی ہے
….
وہ کم سخن تھا مگر ایسا کم سخن بھی نہ تھا
کہ سچ ہی بولتا تھا جب بھی بولتا تھا بہت
….
تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری
وہ شہر کیا ہوا جس کی تھی ہر گلی میری
…..
وہ شاید کوئی سچی بات کہہ دے
اسے پھر بد گماں کرنا پڑا ہے
…..
کب دھوپ چلی شام ڈھلی کس کو خبر ہے
اک عمر سے میں اپنے ہی سائے میں کھڑا ہوں
….
گزرتے وقت نے کیا کیا نہ چارہ سازی کی
وگرنہ زخم جو اس نے دیا تھا کاری تھا
……………………..