#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو #تحریر_فرحت_اشتیاق قسط 12 …
#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو
#تحریر_فرحت_اشتیاق
قسط 12
اسی وقت بیرا چائے کی ٹرے اٹھا کر اندر چلا آیا۔عبداللہ نے ٹرے اس کے ہاتھ سے لے کر آئلہ کے سامنے رکھ دی۔
میرے خیال سے کسی خاتون کا یہ حق ہے اس کی موجودگی میں اور کوئی کیوں بنائے چائے۔وہ بڑی بے تکلفی سے بولا شاید اس کی جھجک کم کرنا چاہتا ہو۔آئلہ کو سب ہی بہت اچھے لگے۔وہ اپنی پلیٹ رکھ کر کپوں میں چائے ڑالنے لگی ۔
عبداللہ اب کسی بات سے باعث کر رہا تھا ۔ایک تو مجھے آدھی رات سونے سے اٹھا دیا ۔اوپر سے برا بھی میں ہوا وہ پتہ نہیں کس موضوع پر بات کر رہے تھے ۔
ساڑھے چار کو تم آدھی رات کہہ رہے ہو ۔مائکل اسے گھورا تو وہ آئلہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
آپ کا کیا خیال ہے ساڑھے چار صبع ہو جاتی ہے ۔وہ سونے کا بہت شوقین لگ رہا تھا ۔جواب میں وہ صرف مسکرا دی۔
ان سب سے چینی پوچھ کر کپوں میں ڑالی سب سروے کرنے لگے ۔ساتھ بیٹھے شخص کو بغیر چینی کے اسکی طرف کپ سرکا دیا اور خود بھی پینے لگی ۔سب کا تعارف تو ہو گیا آپ نے اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا ۔
پٹیر نے اس سے کہا تو سب متوجہ ہو گئے ۔سوائے اس کے جو اسے ساتھ لایا تھا ۔
میرا نام آئلہ ہے میں پاکستانی ہوں ۔میں نے ٹیکسٹائل انجینیرنگ کی ہے ۔پڑھائی سے فارغ ہو کر اپنے چچا کے پاس کینیا گھومنے پھرنے آئی ہوں۔وہ اتنی دیر میں پہلی بار اتنا طویل جملہ بولی تھی سب غور سے سن رہے تھے
اچھا تو شکار آپ کا شوق ہے مائکل جو کم گو تھا پہلی بار مخاطب ہوا ۔ہارون نے اپنی بےساختہ مسکراہٹ چھپانے کے لیے کپ سے منہ لگا لیا ۔وہ بنا دیکھے ہی سمجھ گئی تھی
کہ وہ اس بات پر مسکرایا ہے ۔اسکے جواب سے پہلے ہی مائکل دوبارہ بولنے لگا ۔اچھی بات ہے لڑکیوں کو بھی اس طرف آنا چاہئے ۔پھر اس نے دوستوں سے پوچھا وہ انڑی والا قصہ یاد ہے سب کچھ یاد کر کے ہنسنے لگے ۔شاید کوئی پرانی بات کا حوالہ دے رہا تھا ۔عبداللہ اس کی طرف دیکھ کر بولا
آئلہ شاید بور ہو رہی ہے ۔ہارون نے ان کی بات پر توجہ دہیے بغیر مائکل کی بات کو جاری رکھا۔آئلہ مسکرا کر بولی میں بو نہیں ہو رہی ۔
چلیں پھر اچھا ہے آپ بور نہیں ہو رہی تو
وہ قصہ میں سنتا ہوں آپ کو جو مائکل بتا رہا تھا ہم شکار پر تھے تین لڑکیاں وہاں رستہ بھٹک گئی سب ہی بہت ڈرپوک ہم نے انہیں لفٹ دے دی وہاں خوب ہی تماشے ہوئے ۔یہ ہارون صاحب ان کے دشمن بن گئے ۔ہم سے الگ ناراض ہوتا کے انہیں لفٹ کیوں دی ۔ان میں ایک کچھ زیادہ ہی بزدل تھی ۔اسی کے ساتھ سب سے زیادہ حادثے ہوتے تھے
ایک بار اس کے پاؤں پر بچھو چڑ گیا یہ ہارون مدد کے بجائے غصہ ہوتا رہا اصل میں اسے ڈرپوک لڑکیاں نہیں پسند ۔
پھر ایک بار اس کے کمیرے کو اٹھا لیا اس نے تو اس کی شامت آگئ۔عبداللہ بڑے مزے سے تمام قصہ سنا رہا تھا ۔
سب یاد کر کے مسکرا رہے تھے ۔
ہارون نے اسے اردو میں کہا
تمہیں چلنا نہیں ہے جلدی ناشتہ ختم کرو۔
وہ اس کے بےوجہ ناراض پر حیران ہوئی ۔ناشتہ تو وہ کب کا کر چکی تھی ۔اور اس کا انتظار کر رہی تھی ۔اسکے اردو بولنے پر تینوں چیخ اٹھے
یہ فائل ہے بتاو ہمیں کیا بولا ہے ۔۔
تم لوگوں کے کام کی بات نہیں ہے ۔
دیکھا اس غدار کو ّعبداللہ نے دانت پیس کر بولا
ہم وطن ملا تو آنکھیں پھیر لی۔
آئلہ آپ بتائیں ابھی اس نے کیا کہا مجھے یقین ہے اس نے ہماری برائی کی ۔اس نے پریشان ہو کر بتایا ایسی کوئی بات نہیں بس چلنے کا بول رہے تھے ۔اس نے جگڑا ختم کر دیا
تو وہ آپس میں پرگرام طے کرنے لگے ۔وہ خاموش بیٹھی دیواروں کو تکتی رہی۔ان کے مزاکرات ختم ہوئےچاروں کھڑے ہوئے تو آئلہ بھی کھڑی ہو گئی ۔وہ ان کے پیچھے چلتی ہوئی خاموشی سے باتیں سنتی رہی کب اس نے پٹیر کی آواز سنی۔وہ اپنے دوستوں کو چھوڑ کر اس کے ساتھ چلنے لگا ۔میں اگر آپ سے کچھ کہوں میری بات کا برا تو نمنائیں گئی ۔نہ جانے کیا کہنا چاہ رہا اس لیے اجازت کا طلباس نے حیرات سے بولا جی کہیے؟
آپکو کو شاید خود بھی نہیں معلوم کے آپ بغیر ہتھیار کے بہت بڑی جنگ جیت چکی ہیں ۔وہ سمجھ نہیں آنے پر اسے دیکھنے لگی تو وہ رک گیا اور بولا
یہ جو میرا دوست ہے نا اس فتع کرنا معمولی کام نہیں وہ انگلیاں چٹخنے لگی۔وہ اسکے گھبرائے چہرے کو دیکھ کر ہنس پڑا۔میں آپ سے اس لیے کہہ رہا ہوں مجھے معلوم ہے وہ اپ سے یہ کبھی نہیں کہہ پائے گا۔میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں ۔وہ بہت گہرا ہے اسے سمجھا آسان کام نہیں ۔وہ یہ کبھی میرے سامنے بھی نہیں کھولے گا حالانکہ اسے پتہ ہے ہم جان چکے مگر کبھی قبول نہیں کرے گااس سے سر اٹھا کر پٹیر کی طرف دیکھا بھی ناجاسکا جھکے سر کے ساتھ بولی ۔آپ غلط سمجھ رہے ہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔وہ اس کی طرف دیکھ کر بولا ۔
آپ ایک اچھی لڑکی ہیں ۔اگر آپ اسے جانبداری نہ سمجھیں تو میں کہوں گا کہ میرے دوست کی پسند بری نہیں ہو سکتی ۔ایک لڑکی خاموشی سے اس کا خیال رکھتی ہو اس سے پوچھے بغیر چینی کے اسے چائے دیتی ہے ۔وہ یقینا بہت اچھی ہے اس کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ کر بولا
میرا دوست بہت اچھا ہے جو اسے سمجھ لے اسی کا ہو جاتا ہے ۔آپ اس بات کو مسلہ بنا کر اپنے لئے اور اس کے لئے پریشانی مت کھڑی کرنا ۔کے وہ اظہار کرے۔ابھی وہ تمہیں چھوڑنے جائے گا ۔تو میری خاطر آپ پہل کر دینا پلیز۔وہ اس بتانا چاہتی تھی کے وہ بالکل غلط سمجھ رہا ہے ۔وہ اس کے تاثرات کو دیکھ کر بولا
میں صرف اس کا نہیں تمھارا بھی دوست ہوں ۔
وہ لوگ جو مرکزی دروازے تک پہنچ چکے تھے ۔ان دونوں کو سست قدموں سے آتا دیکھ کر رک گئے ۔قریب پہنچے تو مائکل بولا ۔
کیا ہوا کہاں رہ گئے تھے پٹیر نے مسکرا کر جواب دیا آئلہ کو یہاں کے بارے میں بتا رہا تھا ۔عبداللہ نے ہارون سے بولا جو آئلہ اور پیڑ پر ایک نظر ڈال کر لاپرواہی سے کھڑا تھا۔اس کے جواب میں سر ہلا دیا۔آئلہ سب کو الوداع الفاظ کہتے ہوئے جیپ میں بیٹھ گئی ۔پٹیر کی طرف دیکھنے سے گریز کیا ۔وہ بھی بڑی گرم جوشی سے الوداع کہہ رہے تھے ۔جیپ اسٹاٹ ہوئی ہارون مکمل دھیان ڈرائیونگ پر آئلہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہ لوگ ابھی تک کھڑے تھے ۔وہ اب کھڑکی کے باہر چہل پہل اور رونق دیکھ رہی تھی ۔
ڈرائیو کرتے اتنا وقت گزر گیا ۔مگر دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی ۔وہ اپنی منزل کے قریب پہنچ گئی ۔
ایڈریس بتاؤ۔بڑی دیر بعد خاموشی کو چاک کرتی اس کی آواز سنائی دی ۔وہ اسے ایڈریس بتانے لگی ۔گھر پہنچنے کی خوشی میں وہ دیگر تمام باتوں کو بھول گئی ۔زندگی کے کتنے عجیب وغریب تجربات سے گزرتی وہ واپس اپنے اصل کی طرف لوٹ آئی۔۔
جاری ہے